Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. [ بَابُ إِحْيَاءِ الْمَوَاتِ
باب: بنجر زمینوں کو آباد کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4436 ترقیم الرسالہ : -- 4516
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا خَلادُ بْنُ أَسْلَمَ ، نَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي صِدِّيقُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لا تَعْصُبَةَ عَلَى الْمِيرَاثِ إِلا مَا حَمَلَ الْقَسَمَ" .
محمد بن ابوبکر اپنے والد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اسی وراثت کو تقسیم کیا جاتا ہے، جسے تقسیم کیا جا سکتا ہو۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابٌ فِي الْأَقْضِيَةِ وَالْأَحْكَامِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4516]
ترقیم العلمیہ: 4436
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20509، 20510، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4516، 4517، وأبو داود فى "المراسيل"، 369»
«قال الدارقطني: وهو وهم والمحفوظ عن ابن جريج عن صديق بن موسى عن محمد بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن أبيه مرسلا، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (1 / 290)»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4437 ترقیم الرسالہ : -- 4517
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ صِدِّيقِ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، كَذَا قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لا تَعْصُبَةَ عَلَى أَهْلِ الْمِيرَاثِ إِلا مَا حَمَلَ الْقَسَمَ" .
عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے اسی طرح نقل کرتے ہیں جس میں یہ بات منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی وراثت کو تقسیم کیا جا سکتا ہے، جسے تقسیم کیا جا سکے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابٌ فِي الْأَقْضِيَةِ وَالْأَحْكَامِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4517]
ترقیم العلمیہ: 4437
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20509، 20510، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4516، 4517، وأبو داود فى "المراسيل"، 369»
«قال الدارقطني: وهو وهم والمحفوظ عن ابن جريج عن صديق بن موسى عن محمد بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن أبيه مرسلا، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (1 / 290)»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4438 ترقیم الرسالہ : -- 4518
نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أنا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" وُجِدَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ قَتِيلا فِي دَالِيَةِ نَاسٍ مِنَ الْيَهُودِ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ فَأَخَذَ مِنْهُمْ خَمْسِينَ رَجُلا مِنْ خِيَارِهِمْ فَاسْتَحْلَفَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ بِاللَّهِ مَا قَتَلْتُ وَلا عَلِمْتُ قَاتِلا، ثُمَّ جَعَلَ الدِّيَةَ عَلَيْهِمْ، قَالُوا: لَقَدْ قَضَى بِمَا فِي نَامُوسِ مُوسَى الْكَلْبِيُّ" مَتْرُوكٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک انصاری خیبر میں یہودیوں کے کنویں کے پاس مقتول پایا گیا، ان لوگوں نے اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو پیغام بھجوایا کہ وہ لوگ 50 افراد کو لیں، جن میں سے ہر ایک شخص کا نام لے کر قسم اٹھائے کہ میں نے اسے قتل نہیں کیا، نہ ہی میں قاتل کے بارے میں کچھ جانتا ہوں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر دیت کی ادائیگی لازم قرار دی۔ تو انہوں نے کہا: ان صاحب نے وہی فیصلہ دیا ہے جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں تھا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابٌ فِي الْأَقْضِيَةِ وَالْأَحْكَامِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4518]
ترقیم العلمیہ: 4438
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16544، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4518»
«قال الدارقطني: الكلبي متروك، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 391)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4439 ترقیم الرسالہ : -- 4519
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُلَيْلٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، نَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ، نَا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَنا عُثْمَانُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْدَلانِيُّ ، وَهِبَةُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُقْرِئُ ، قَالا: نَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ مُوسَى الْمُقْرِئُ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ ، نَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَرِيمُ الْبِئْرِ الْبَدِيِّ خَمْسَةٌ وَعِشْرُونَ ذِرَاعًا، وَحَرِيمُ الْبِئْرِ الْعَادِيَّةِ خَمْسُونَ ذِرَاعًا، وَحَرِيمُ الْعَيْنِ السَّائِحَةِ ثَلاثُمِائَةٍ ذِرَاعٍ، وَحَرِيمُ عَيْنِ الزَّرْعِ سَتُّمِائَةِ ذِرَاعٍ" ، لَفْظُهُمَا سَوَاءٌ الصَّحِيحُ مِنَ الْحَدِيثِ أَنَّهُ مُرْسَلٌ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، وَمَنْ أَسْنَدَهُ فَقَدْ وَهِمَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنگل میں موجود کنویں کے آس پاس 25 ہاتھ تک کی جگہ حفاظتی ہوتی ہے اور آبادی میں موجود کنویں کے آس پاس کے 50 ہاتھ تک کی جگہ حفاظتی ہوتی ہے، کھلی جگہ پر بہنے والے چشمے کے آس پاس تین سو ہاتھ تک کی جگہ حفاظتی ہوتی ہے، جبکہ کھیتی باڑی کے پاس بہنے والے چشمے کی چھ سو ہاتھ کی جگہ حفاظتی ہوتی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابٌ فِي الْأَقْضِيَةِ وَالْأَحْكَامِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4519]
ترقیم العلمیہ: 4439
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 7133، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11987، 11988، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4519، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1464، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21772، وأخرجه أبو داود فى "المراسيل"، 402»
«‏‏‏‏قال الزیلعي: وابن أبي جعفر ضعيف، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 292)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4440 ترقیم الرسالہ : -- 4520
حَدَّثَنِي أَبِي ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ ، نَا فَرَجُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي ثَابِتُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ ، أَنَّهُ" اسْتَقْطَعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِلْحَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ: مِلْحُ شَذَّا بِمَأْرِبَ فَقَطَعَهُ لَهُ، ثُمَّ إِنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ التَّمِيمِيَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ وَرَدْتُ الْمِلْحَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَهُوَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مَاءٌ، وَمَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ وَهُوَ مثل الْمَاءِ الْعِدِّ، فَاسْتَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْيَضَ بْنَ حَمَّالٍ فِي قَطِيعَتِهِ مِنْهُ، قَالَ أَبْيَضُ: قَدْ أَقَلْتُكَ مِنْهُ عَلَى أَنْ تَجْعَلَهُ مِنِّي صَدَقَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ مِنْكَ صَدَقَةٌ، وَهُوَ مثل الْمَاءِ الْعِدِّ وَمَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ" ، قَالَ الْفَرَجُ: وَهُوَ الْيَوْمَ عَلَى ذَلِكَ مَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ، وَقَطَعَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضًا وَنَخِيلا بِالْجَوْفِ جَوْفُ مُرَادٍ حِينَ أَقَالَهُ مِنْهُ.
سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ مآرب کے مقام پر موجود ملح شذا نام کا (قطعہ اراضی) انہیں عطا کر دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جگہ انہیں عطا کر دی، اس کے بعد اقرع بن حابس تمیمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! میں زمانہ جاہلیت میں اس مقام تک پہنچ گیا تھا، یہ وہ جگہ تھی جہاں پانی کا نام و نشان نہیں تھا۔ جو شخص وہاں پہنچ جاتا تھا وہ وہاں قبضہ کر لیتا تھا، اس کی مثال بہتے ہوئے پانی کی تھی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابیض بن حمال سے وہ جگہ واپس لے لی۔ تو سیدنا ابیض نے عرض کی کہ میں یہ اس شرط پر واپس کر رہا ہوں کہ یہ میری طرف سے صدقہ شمار ہو گی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہاری طرف سے صدقہ شمار ہو گی لیکن اس کی مثال بہتے ہوئے پانی کی سی ہے، جو شخص اس تک پہنچ جائے گا وہ اسے حاصل کر لے گا۔ فرخ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ وہ جگہ آج بھی اسی طرح ہے جو شخص وہاں پہنچ جاتا ہے وہ اسے حاصل کر لیتا ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابیض بن حمال کو جرف کے مقام پر جو جرف مراد ہے، وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کھجوروں کا باغ عنایت کیا، یہ اس پہلی زمین کے بدلے میں تھا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابٌ فِي الْأَقْضِيَةِ وَالْأَحْكَامِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4520]
ترقیم العلمیہ: 4440
تخریج الحدیث: «ضعيف، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4499، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 1282،والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5732، 5733، 5734، 5735، 5736، 5737، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3064، 3066، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1380، 1380 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2650، 2653، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2475، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3077، 4520، 4521، 4608، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 33704»
«ضعفه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 142)»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4441 ترقیم الرسالہ : -- 4521
حَدَّثَنِي أَبِي ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي سَمِينَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَأْرَبِيُّ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ ، عَنْ سُمَيِّ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ شُمَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ ، قَالَ:" وَفَدْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَقْطَعْتُهُ الْمِلْحَ، فَقَطَعَهُ لِي، فَلَمَّا وَلَّيْتُ قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَدْرِي مَا أَقْطَعْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَقْطَعْتَهُ الْمَاءَ الْعِدَّ، فَرَجَعَ فِيهِ" .
سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: میں نے آپ سے ملح نامی جگہ مانگی، آپ نے وہ مجھے عطا کر دی، جب میں وہاں سے اٹھ کر واپس جانے لگا تو ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ کو پتا ہے کہ آپ نے اس کو کون سی جگہ دی ہے، آپ نے اسے بہتا ہوا پانی دے دیا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے وہ جگہ واپس لے لی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابٌ فِي الْأَقْضِيَةِ وَالْأَحْكَامِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4521]
ترقیم العلمیہ: 4441
تخریج الحدیث: «ضعيف، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4499، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 1282،والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5732، 5733، 5734، 5735، 5736، 5737، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3064، 3066، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1380، 1380 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2650، 2653، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2475، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3077، 4520، 4521، 4608، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 33704»
«قال ابن عدي: محمد بن قيس أحاديثه مظلمة منكرة، الكامل في الضعفاء: (7 / 471)»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4442 ترقیم الرسالہ : -- 4522
نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، نَا عَطَاءٌ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَكَانَ مِنْ أَوْثَقِ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي، وَكَانَ لِي أَجِيرٌ فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا إِصْبَعَ صَاحِبِهِ، فَلَقَدْ سَمَّى لِي صَفْوَانُ أَيُّهُمَا عَضَّ فَنَسِيتُهُ، قَالَ: فَانْتَزَعَ إِصْبَعَهُ فَانْكَسَرَتْ ثَنِيَّتُهُ فَرَفَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، وَقَالَ: يَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا، أَحْسَبُهُ قَالَ: كَقَضْمِ الْفَحْلِ" .
سیدنا صفوان بن یعلیٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک ہوا، میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ میری سب سے بڑی نیکی تھی۔ میرے ساتھ میرا ایک مزدور بھی تھا، اس کی ایک شخص کے ساتھ لڑائی ہو گئی، ان دونوں میں سے کسی ایک نے دوسرے شخص کی انگلی چبا لی (راوی کہتے ہیں:) سیدنا سفیان نے اس بات کا تذکرہ کیا تھا کہ کس نے کس کی انگلی چبائی تھی، مجھے یہ بات بھول گئی ہے۔ دوسرے شخص نے اپنا ہاتھ کھینچا تو چبانے والے شخص کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے۔ یہ مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش ہوا تو آپ نے ان دانتوں کو رائیگاں قرار دیا اور فرمایا: کیا یہ شخص اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں رہنے دیتا تا کہ تم اس کا ہاتھ چبا ڈالتے۔ (راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ روایت میں یہ مثال ہے) تم سانڈ کی طرح چبا لیتے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابٌ فِي الْأَقْضِيَةِ وَالْأَحْكَامِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4522]
ترقیم العلمیہ: 4442
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2265، 2973، 4417، 6893، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1673، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5997، 6000، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 5842، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4771، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6939، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4584، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2656، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4522، 4523، 4524، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18232، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 806، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 28222»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4443 ترقیم الرسالہ : -- 4523
نَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ عَمَّيْهِ يَعْلَى ، وَسَلَمَةَ ابْنِي أُمَيَّةَ، قَالا: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَمَعَنَا صَاحِبٌ لَنَا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، فَقَاتَلَ رَجُلا فَعَضَّ الرَّجُلُ ذِرَاعَهُ فَجَذَبَهَا مِنْ فِيهِ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتَاهُ، فَذَهَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ الْعَقْلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ فَيَعَضُّهُ عَضِيضَ الْفَحْلِ، ثُمَّ يَأْتِي يَسْأَلُ الْعَقْلَ لا حَقَّ لَكَ، فَأَطَلَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ،.
سفیان بن عبداللہ اپنے دو چچاؤں سیدنا یعلیٰ اور سیدنا سلمہ کا بیان نقل کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک ہوئے، ہمارے ساتھ مکہ میں رہنے والا ایک شخص بھی تھا، اس کی ایک شخص کے ساتھ لڑائی ہو گئی، اس نے دوسرے کے بازو پر زور سے کاٹا، دوسرے شخص نے اس کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کے سامنے والے دو دانت ٹوٹ گئے۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تا کہ وہ اس کی دیت دلوائیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف جا کر اسے سانڈ کی طرح کاٹ لیتا ہے اور پھر وہ آ جاتا ہے تا کہ اس بارے میں مطالبہ کرے، تمہیں کوئی حق نہیں ملے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابٌ فِي الْأَقْضِيَةِ وَالْأَحْكَامِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4523]
ترقیم العلمیہ: 4443
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2265، 2973، 4417، 6893، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1673، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5997، 6000، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 5842، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4771، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6939، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4584، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2656، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4522، 4523، 4524، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18232، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 806، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 28222»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4444 ترقیم الرسالہ : -- 4524
نا الْفَارِسِيُّ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، فَقَالَ:" لا عَقْلَ لَهَا"، فَأَطَلَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی کوئی دیت نہیں ہو گی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایسے ہی چھوڑ دیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابٌ فِي الْأَقْضِيَةِ وَالْأَحْكَامِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4524]
ترقیم العلمیہ: 4444
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2265، 2973، 4417، 6893، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1673، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5997، 6000، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 5842، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4771، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6939، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4584، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2656، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4522، 4523، 4524، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18232، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 806، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 28222»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں