🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. بَابُ إِبَاحَةِ الصَّيْدِ بِالْكِلَابِ وَالْجَوَارِحِ
باب:کتوں اور شکاری پرندوں کے ساتھ شکار کی اجازت کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4712 ترقیم الرسالہ : -- 4797
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَبُو الأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، نَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، نَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو ثَعْلَبَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنَّ لِي كِلابًا مُكَلَّبَةً، فَأَفْتِنِي فِي صَيْدِهَا، فَقَالَ: إِنْ كَانَتْ لَكَ كِلابٌ مُكَلَّبَةٌ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ ذَكِيٌّ وَغَيْرَ ذَكِيٍّ، قَالَ: وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ؟، قَالَ: وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفْتِنِي فِي قَوْسِي، قَالَ: كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ، قَالَ: ذَكِيٌّ وَغَيْرَ ذَكِيٍّ؟، قَالَ: ذَكِيٌّ وَغَيْرَ ذَكِيٍّ، قَالَ: وَإِنْ تَغِيبَ عَنِّي؟، قَالَ: وَإِنْ تَغِيبَ عَنْكَ مَا لَمْ تَضِلَّ أَوْ تَجِدْ فِيهِ سَهْمَكَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفْتِنِي فِي آنِيَةِ الْمَجُوسِ إِذَا اضْطُرِرْنَا إِلَيْهَا، قَالَ: اغْسِلْهَا ثُمَّ كُلْ فِيهَا" .
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس کا نام ابوثعلبہ تھا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے پاس کچھ تربیت یافتہ کتے ہیں، آپ ان کے ذریعے شکار کرنے کے بارے میں مجھے بتائیں! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے کتے تربیت یافتہ ہیں تو جس شکار کو وہ تمہارے لیے روک لیتے ہیں تم اسے کھا لو، خواہ اسے ذبح کرنے کا موقع ملے یا ذبح کرنے کا موقع نہ ملے۔ اس شخص نے دریافت کیا: اگر وہ کتا خود اس میں سے کچھ کھا لیتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ وہ خود اس میں سے کچھ کھا لے (تو بھی تم اسے کھا سکتے ہو)۔ اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے میری کمان کے بارے میں بتائیں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری کمان (یعنی تیر) جس چیز کو روک دیتی ہے اسے تم کھا لو۔ انہوں نے دریافت کیا: خواہ اسے ذبح کیا گیا ہو یا ذبح نہ کیا گیا ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ذبح کیا گیا ہو یا نہ کیا گیا ہو۔ اس شخص نے دریافت کیا: اگر وہ شکار مجھ سے روپوش ہو جاتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ تم سے روپوش ہو جاتا ہے، تو جب تک وہ گم نہیں ہوتا، جب تک تم اس میں اپنے تیر کے علاوہ کوئی اور نشان نہیں پاتے (تو تم اسے کھا سکتے ہو)۔ اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے مجوسیوں کے برتنوں کے بارے میں بتائیں کہ جب ہم مجبوری کے تحت انہیں استعمال کریں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم انہیں دھو کر پھر ان میں کھا سکتے ہو۔ [سنن الدارقطني/ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَالْأَطْعِمَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4797]
ترقیم العلمیہ: 4712
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4309، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 4789، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2857، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4797، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6840»
«‏‏‏‏قال ابن حزم: لا يصح لأنه عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (9 / 240)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4713 ترقیم الرسالہ : -- 4798
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ هَارُونَ الْعَسْكَرِيُّ ، وَالْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْمَاطِيُّ ، قَالُوا: أنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَرْمِي بِسَهْمِي فَأُصِيبُ فَلا أَقْدِرُ عَلَيْهِ إِلا بَعْدَ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ، فَقَالَ: إِذَا قَدَرْتَ عَلَيْهِ وَلَيْسَ فِيهِ أَثَرٌ، وَلا خَدْشٌ، إِلا رَمْيَتُكَ فَكُلْ، وَإِنْ وَجَدْتَ فِيهِ أَثَرَ غَيْرِ رَمْيَتِكَ، فَلا تَأْكُلْهُ، أَوْ قَالَ: لا تَطْعَمْهُ، فَإِنَّكَ لا تَدْرِي أَنْتَ فَعَلْتَهُ أَوْ غَيْرُكَ، وَإِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَأَخَذَ فَأَدْرَكْتَهُ فَذَكِّهِ، وَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ أَخَذَ وَلَمْ يَأْكُلْ شَيْئًا مِنْهُ فَكُلْهُ، وَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ قَتَلَهُ فَأَكَلَ مِنْهُ، فَلا تَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا، أَوْ قَالَ: لا تَأْكُلْهُ، فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، قَالَ عَدِيُّ: فَإِنِّي أُرْسِلُ كِلابِي وَأَذْكُرُ اسْمَ اللَّهِ فَتَخْتَلِطُ بِكِلابِ غَيْرِي فَيَأْخُذْنَ الصَّيْدَ فَيَقْتُلْنَهُ، قَالَ: لا تَأْكُلْهُ، فَإِنَّكَ لا تَدْرِي أَكِلابُكَ قَتَلَتْهُ، أَوْ كِلابُ غَيْرِكَ" .
شعبی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: میں اپنا تیر چلا کر شکار کر لیتا ہوں لیکن شکار تک ایک یا دو دن کے بعد پہنچتا ہوں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اس شکار پر قابوپا لو اور اس پر تمہارے تیر کے علاوہ کوئی اور نشان یا خراش نہ ہو، تو تم اسے کھا لو لیکن اگر تمہیں اپنے تیر کے علاوہ کوئی دوسرا زخم یا نشان ملتا ہے، تو تم اسے نہ کھاؤ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ تم نے اسے شکار کیا ہے یا کسی دوسرے نے شکار کیا ہے۔ اسی طرح جب تم اپنے کتے کو چھوڑتے ہو اور پھر وہ شکار کو پکڑ لیتا ہے اور تم شکار تک پہنچ جاتے ہو، تو تم اسے ذبح کر لو۔ اگر تم اسے ایسی حالت میں پاتے ہو کہ کتے نے شکار پکڑ لیا تھا اور خود اس میں سے کچھ نہیں کھایا تھا تو تم اسے کھا لو لیکن اگر تم اسے ایسی حالت میں پاتے ہو کہ کتے نے اسے مار دیا اور اس میں سے کچھ کھا بھی لیا تھا تو تم شکار کو نہ کھاؤ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) اس کی وجہ یہ ہے کہ اس جانور نے وہ شکار اپنے لیے روکا ہے۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میں کتے کو چھوڑتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا نام لے لیتا ہوں، پر میرے کتے کے ساتھ دوسرا کتا بھی مل جاتا ہے، اور وہ سب شکار کر لیتے ہیں اور اسے مار دیتے ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے نہ کھاؤ! کیونکہ تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ تمہارے کتے نے اسے مارا ہے یا دوسرے کتے نے اسے مارا ہے؟ [سنن الدارقطني/ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَالْأَطْعِمَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4798]
ترقیم العلمیہ: 4713
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 175، 2054، 5475، 5476، 5477، 5483، 5484، 5486، 5487، 7397، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1929،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5880، 5881، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4276، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2847، 2848، 2849، 2850، 2851، 2854، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1465، 1468، 1469، 1470، 1471، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3208، 3212، 3213، 3214، 3215، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4798، 4799، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18534،والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 938، 939، 942، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 19916، 19946»
«‏‏‏‏قال ابن عبدالھادي الحنبلي: وإسناده صحيح، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 314»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4714 ترقیم الرسالہ : -- 4799
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، قَالا: نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ الصَّيْدِ، قَالَ: إِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، فَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ قُتِلَ فَكُلْهُ إِلا أَنْ تَجِدَهُ قَدْ وَقَعَ فِي مَاءٍ فَمَاتَ، فَإِنَّكَ لا تَدْرِي الْمَاءُ قَتَلَهُ أَمْ سَهْمُكَ" .
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنا تیر مارنے لگو تو اس پر اللہ کا نام لے لو، اگر تم شکار کو ایسی حالت میں پاؤ کہ وہ مر چکا ہے، تو اسے کھا لو لیکن اگر وہ پانی میں گر کر مرا ہے، تو تم یہ نہیں جانتے کہ وہ تمہارے تیر کی وجہ سے مرا ہے یا پانی کی وجہ سے مرا ہے۔ [سنن الدارقطني/ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَالْأَطْعِمَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4799]
ترقیم العلمیہ: 4714
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 175، 2054، 5475، 5476، 5477، 5483، 5484، 5486، 5487، 7397، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1929،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5880، 5881، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4276، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2847، 2848، 2849، 2850، 2851، 2854، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1465، 1468، 1469، 1470، 1471، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3208، 3212، 3213، 3214، 3215، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4798، 4799، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18534،والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 938، 939، 942، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 19916، 19946»
«‏‏‏‏قال ابن عبدالھادي الحنبلي: وإسناده صحيح، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 315»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4715 ترقیم الرسالہ : -- 4800
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ ، نَا شَاذَانُ ، نَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيُّ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" نُهِيَ عَنْ ذَبِيحَةِ الْمَجُوسِيِّ، وَصَيْدِ كَلْبِهِ وَطَائِرِهِ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) مجوسی شخص کے ذبح کیے ہوئے جانور، اس کے کتے کے شکار یا اس کے پرندے کے شکار (کا گوشت کھانے) سے منع کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَالْأَطْعِمَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4800]
ترقیم العلمیہ: 4715
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1466، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3209، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 18993، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4800، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 19971، 19972، 19981، 20018»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں