Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. باب تَحْرِيمِ الذَّبْحِ لِغَيْرِ اللَّهِ تَعَالَى وَلَعْنِ فَاعِلِهِ:
باب: جو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کی تعظیم کے لیے جانور ذبح کرے وہ ملعون ہے اور ذبیحہ حرام ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1978 ترقیم شاملہ: -- 5124
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ كلاهما، عَنْ مَرْوَانَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ إِلَيْكَ، قَالَ: فَغَضِبَ، وَقَالَ: مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ إِلَيَّ شَيْئًا يَكْتُمُهُ النَّاسَ غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ حَدَّثَنِي بِكَلِمَاتٍ أَرْبَعٍ، قَالَ: فَقَالَ: مَا هُنَّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: قَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ مَنَارَ الْأَرْضِ ".
مروان بن معاویہ فزاری نے کہا: ہمیں منصور بن حیان نے حدیث بیان کی کہا: ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں بیان کیا کہا: میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو رازداری سے کیا فرماتے تھے؟ آپ ناراض ہوئے اور کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی راز نہیں بتایا جس کو اور لوگوں سے چھپایا ہو۔ البتہ آپ نے مجھے چار باتیں ارشاد فرمائی تھیں۔ اس نے پوچھا: امیر المومنین! وہ کیا باتیں ہیں؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے والد پر لعنت کرے اس پر اللہ کی لعنت ہے اور جو شخص غیر اللہ کے نام پر ذبح کرے اس پر اللہ لعنت کرے اور جو شخص کسی بدعتی کو پناہ دے اس پر اللہ لعنت کرے اور جس شخص نے زمین (کی حد بندی) کا نشان بدلا اس پر اللہ لعنت کرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 5124]
حضرت ابو طفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھا تو ایک آدمی ان کے پاس آ کر کہنے لگا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رازدارانہ انداز میں آپ کو کیا بتاتے تھے؟ تو انہوں نے ناراض ہو کر فرمایا، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چپکے چپکے کوئی ایسی بات نہیں بتائی جو لوگوں سے چھپاتے ہوں، ہاں آپ نے مجھے چار باتیں بتائی تھیں، اس نے کہا، اے امیر المؤمنین، وہ کیا باتیں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے باپ پر لعنت بھیجے، اللہ اس پر لعنت بھیجے اور اللہ اس پر لعنت بھیجے جو اللہ کے سوا کسی کے لیے ذبح کرے اور اللہ اس پر لعنت بھیجے جو کسی بدعتی کو جگہ یا پناہ دے اور اللہ اس پر لعنت بھیجے جو زمین (کی حد بندیوں کے) نشانات مٹائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 5124]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1978
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1978 ترقیم شاملہ: -- 5125
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قُلْنَا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : أَخْبِرْنَا بِشَيْءٍ أَسَرَّهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا أَسَرَّ إِلَيَّ شَيْئًا كَتَمَهُ النَّاسَ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ الْمَنَارَ ".
ابوخالد احمر سلیمان بن حیان نے منصور بن حیان سے انہوں نے ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی: کہا: ہم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے عرض کی، ہمیں کوئی ایسی چیز بتائیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رازداری سے آپ کو بتائی ہو۔ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رازداری سے کوئی بات نہیں بتائی جو لوگوں سے چھپائی ہو البتہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا اس پر اللہ لعنت کرے۔ اور اللہ اس پر لعنت کرے جس نے کسی بدعتی کو پناہ دی اور اللہ اس پر لعنت کرے جس نے اپنے والدین پر لعنت کی اور اللہ اس پر لعنت کرے جس نے (زمین کی حد بندی کا) نشان تبدیل کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 5125]
حضرت ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا، ہمیں کوئی ایسی چیز بتائیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو رازدارانہ انداز سے بتائی ہو، انہوں نے جواب دیا، آپ نے لوگوں سے چھپا کر چپکے چپکے مجھے کوئی چیز نہیں بتائی، لیکن میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا ہے اللہ کی اس پر لعنت ہے جس نے غیراللہ کے لیے جانور ذبح کیا اور اللہ کی اس پر لعنت ہے جس نے بدعتی یا فسادی کو پناہ دی اور اللہ کی اس پر لعنت ہے جس نے اپنے والدین پر لعنت کی اور اللہ کی اس پر لعنت ہے جس نے زمین کے نشانات کو تبدیل کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 5125]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1978
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1978 ترقیم شاملہ: -- 5126
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: سُئِلَ عَلِيٌّ أَخَصَّكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ؟ فَقَالَ: مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ يَعُمَّ بِهِ النَّاسَ، كَافَّةً إِلَّا مَا كَانَ فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا، قَالَ: فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً مَكْتُوبٌ فِيهَا " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الْأَرْضِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا ".
شعبہ نے کہا: میں نے قاسم بن ابی بزہ کو ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصی طور پر کوئی چیز آپ کو عطا فرمائی؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی چیز خاص ہمارے لیے نہیں بتائی جو آپ نے تمام لوگوں میں عام نہ کی ہو۔ البتہ میری اس تلوار کی نیام میں کچھ احکام ہیں۔ پھر آپ نے ایک صحیفہ نکالا جس میں لکھا ہوا تھا: جو شخص غیر اللہ کے لیے ذبح کرے اس پر اللہ لعنت کرے اور جو شخص زمین کی (حد بندی کی) نشانی چھپائے اللہ اس پر لعنت کرے اور جو شخص اپنے والد پر لعنت کرے اللہ اس پر لعنت کرے، اور جو شخص کسی بدعتی کو پناہ دے اللہ اس پر لعنت کرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 5126]
حضرت ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا گیا، کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصی طور پر کوئی چیز بتائی ہے، انہوں نے جواب دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خصوصی طور پر کوئی ایسی چیز نہیں بتائی جو سب لوگوں کو بتائی نہ ہو، مگر میری اس نیام میں کچھ باتیں ہیں اور آپ نے ایک صحیفہ نکالا، جس میں لکھا ہوا تھا اللہ کی اس پر لعنت ہے جس نے غیراللہ کے لیے جانور ذبح کیا اور اللہ کی اس پر لعنت ہے یا لعنت بھیجے جس نے زمین کے نشانات کو چرایا اور اللہ اس پر لعنت بھیجے، جس نے اپنے والد پر لعنت بھیجی اور اللہ اس پر لعنت برسائے جس نے بدعتی یا جرم کرنے والوں کو پناہ دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 5126]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1978
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں