🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

30. بَاب مَا جَاءَ فِي وَصْلِ الشَّعْرِ وَالدُّهَنِ
خواتین کے لیے زینت وغیرہ کی جائز اور ناجائز صورتوں کے ابواب¤بال ملانے اور تیل لگانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8129
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ جَارِيَةً مِنَ الْأَنْصَارِ زُوِّجَتْ وَأَنَّهَا مَرِضَتْ فَتَمَعَّطَ شَعْرُهَا فَأَرَادُوا أَنْ يَصِلُوهُ فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ فَلَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انصار کی ایک لڑکی کی شادی ہوئی اور وہ بیمار ہوئی اور بیماری میں اس کے بال گر گئے، انہوں نے چاہا کہ وہ مصنوعی بال لگوا لیں، لیکن جب انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بال ملانے کے متعلق سوال کیا توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بال ملانے والی اور بال ملانے کا مطالبہ کرنے والی پر لعنت کی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8129]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5934، ومسلم: 2123، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24805 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25316»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5934
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8130
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔ سیدہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8130]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2122، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26979 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27519»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2122
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8131
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَسَقَطَ شَعْرُهَا فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ فَلَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ
۔ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار کے ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی، لیکن اس کے بال گرنے لگے، پھر جب اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بال ملانے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بال ملانے والی عورت اور اس عورت پر لعنت کی جس کے بال ملائے گئے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8131]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 484، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20297 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20563»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8132
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَلْعَنُ الْقَاشِرَةَ وَالْمَقْشُورَةَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ وَالْوَاصِلَةَ وَالْمُتَّصِلَةَ زَادَتْ فِي رِوَايَةٍ وَالنَّامِصَةَ وَالْمُتَنَمِّصَةَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان خواتین پر لعنت کی ہے: زعفران کے ساتھ چہرہ رنگنے والی اور اس کے ساتھ رنگوانے والی، گودنے والی اور گدوانے والی، بال ملانے والی اور ملانے کا مطالبہ کرنے والی اور چہرے کے بال اکھاڑنے والی اور اکھڑوانے والی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8132]
تخریج الحدیث: «صحيح دون قولھا كان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم يلعن القاشرة والمقشورة وھذا اسناد ضعيف، آمنه بنت عبد الله مجھولة، و أم نھار لم يؤثر توثيقه عن احد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26128 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26657»
وضاحت: فوائد: … قاشرہ: جلد کا چھلکا اتارنے والی، مراد وہ عورت جو زعفران لے کر چہرہ صاف کرتی ہے اور اس کا رنگ لگاتی ہے، اور مقشورہ وہ خاتون جس کے ساتھ یہ عمل کیا جائے۔

الحكم على الحديث:
صحيح دون قولھا كان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم يلعن القاشرة والمقشورة وھذا اسناد ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8133
عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُتَوَشِّمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ قَالَ فَبَلَغَ امْرَأَةً فِي الْبَيْتِ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ فَجَاءَتْ إِلَيْهِ فَقَالَتْ بَلَغَنِي أَنَّكَ قُلْتَ كَيْتَ وَكَيْتَ فَقَالَ مَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَتْ إِنِّي لَأَقْرَأُ مَا بَيْنَ لَوْحَيْهِ فَمَا وَجَدْتُهُ فَقَالَ إِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ فَقَدْ وَجَدْتِيهِ أَمَا قَرَأْتِ مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا قَالَتْ بَلَى قَالَ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ قَالَتْ إِنِّي لَأَظُنُّ أَهْلَكَ يَفْعَلُونَ قَالَ اذْهَبِي فَانْظُرِي فَنَظَرَتْ فَلَمْ تَرَ مِنْ حَاجَتِهَا شَيْئًا فَجَاءَتْ فَقَالَتْ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا قَالَ لَوْ كَانَتْ كَذَلِكَ لَمْ تُجَامِعْنَا قَالَ وَسَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ يُحَدِّثُهُ عَنْ أُمِّ يَعْقُوبَ سَمِعَهُ مِنْهَا فَاخْتَرْتُ حَدِيثَ مَنْصُورٍ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے گودنے والی، گدوانے والی، بال اکھڑوانے والی اور حسن اختیار کرنے کے لئے دانتوں میں فاصلہ بنانے والیوں، جو کہ اللہ تعالی کی تخلیق کو بدل دیتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان سب پر لعنت کی ہے، جب یہ بات گھر میں موجودایک ام یعقوب نامی عورت تک پہنچی تو وہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہا: مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے اس قسم کی عورتوں پر لعنت کی ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں، جس پر اللہ کی کتاب میں لعنت کی گئی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعنت کی ہے۔ اس عورت نے کہا: میں نے تو دو گتوں میں موجود اول تا آخر قرآن پاک پڑھا ہے، اس میں تو ان پرلعنت کا ذکر نہیں ہے، انہوں نے کہا: اگر تم نے قرآن پاک پڑھا ہوتا تو اس میں ضرور پاتی، کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی: {مَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا} … رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو تمہیں دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔؟ اس عورت نے کہا: جی کیوں نہیں، پڑھی ہے،پس سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کام سے منع کیا ہے۔ اس عورت نے کہا: میرا خیال ہے کہ تمہارے گھر والے بھی یہ کام کرتے ہیں۔انھوں نے کہا: جاؤ اور دیکھ لو، اس نے دیکھا تو اس کاخیال پورا نہ ہوا، وہاں اس طرح کی کوئی چیز نہ تھی، وہ آئی اور اس نے کہا: تمہارے گھر میں تو ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم ہمارے گھر یہ چیزیں دیکھتیں تو ہمارے گھر والے اور میں اکٹھے نہ رہتے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8133]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5948، ومسلم: 2125، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4129 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4129»
وضاحت: فوائد: … صحابۂ کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان سنتوں کو بھی کتاب اللہ کی طرف منسوب کرتے تھے، جن کا ذکر قرآن مجید میں نہیں ہوتا تھا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5948
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8134
عَنْ مَسْرُوقٍ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَتْ أُنْبِئْتُ أَنَّكَ تَنْهَى عَنِ الْوَاصِلَةِ قَالَ نَعَمْ فَقَالَتْ أَشَيْءٌ تَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَمْ سَمِعْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ وَاللَّهِ لَقَدْ تَصَفَّحْتُ مَا بَيْنَ دَفَّتَيِ الْمُصْحَفِ فَمَا وَجَدْتُ فِيهِ الَّذِي تَقُولُ قَالَ فَهَلْ وَجَدْتِ فِيهِ مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا قَالَتْ نَعَمْ وَفِي آخِرِهِ قَالَ مَا حَفِظْتِ إِذًا وَصِيَّةَ الْعَبْدِ الصَّالِحِ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَى مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ
۔ (دوسری سند) مسروق بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور اس نے کہا: مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ آپ بال ملانے والی کو روکتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، روکتا ہوں! اس نے کہا: کیا تم اس چیز کو اللہ تعالیٰٰ کی کتاب میں پاتے ہو یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے؟ انھوں نے کہا:میں اللہ کی کتاب میں بھی پاتا ہوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی سنا ہے، اس عورت نے کہا: اللہ کی قسم!میں نے اول تا آخر قرآن پاک کو بغور پڑھا ہے، لیکن اس میں تو یہ موجود نہیں۔ انھوں نے کہا: کیا تو نے یہ آیت نہیں پڑھی: {مَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا} … رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو تمہیں دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔؟ اس نے کہا: جی ہاں، پڑھی ہے۔ اس حدیث کے آخر میں ہے: اگر میں جس چیز سے منع کرتا ہوں، خود اس کو کروں تو پھر میں نے اللہ تعالیٰ کے نیک بندے (سیدنا شعیب علیہ السلام) کی نصیحت کو یاد نہیں رکھا، انھوں نے کہا تھا، (جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَا أُرِیدُ أَنْ أُخَالِفَکُمْ إِلٰی مَا أَنْہَاکُمْ عَنْہُ} … میرا یہ ارادہ نہیں ہے کہ میں جس چیز سے تمہیں منع کرتا ہوں، خود اس کی مخالفت کروں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8134]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3945»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3945
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8135
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ وَالْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بال لگانے والی، بال لگوانے والی،عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8135]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3059 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3059»
وضاحت: فوائد: … جو لباس اور وضع قطع مرد و زن میں سے ایک کے ساتھ خاص ہو، وہ دوسرے کو اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہے، مثلا مردوں کا عورتوں کی طرح لمبے بال رکھنا، لباس میں عورتوں کے رنگ منتخب کرنا، مردوں کا کنگن اور بالیاں پہننا۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8136
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ زَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَصِلَ الْمَرْأَةُ بِرَأْسِهَا شَيْئًا
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ عورت اپنے بالوں کے ساتھ کوئی چیز ملائے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8136]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2126، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14155 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14202»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2126
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8137
عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ عَنْ لَمِيسَ أَنَّهَا قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قُلْتُ لَهَا الْمَرْأَةُ تَصْنَعُ الدُّهْنَ تَتَحَبَّبُ إِلَى زَوْجِهَا فَقَالَتْ أَمِيطِي عَنْكِ تِلْكَ الَّتِي لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهَا قَالَتْ وَقَالَتْ امْرَأَةٌ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّهْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنِّي لَسْتُ بِأُمِّكُنَّ وَلَكِنِّي أُخْتُكُنَّ قَالَتْ عَائِشَةُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْلِطُ الْعِشْرِينَ بِصَلَاةٍ وَنَوْمٍ فَإِذَا كَانَ الْعَشْرُ شَمَّرَ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ وَشَمَّرَ
۔ لمیس سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ ایک عورت خاوند کے ہاں محبت حاصل کرنے کے لئے تیل لگاتی ہے کہ چہرہ زیادہ صاف ہوجائے تو کیا یہ لگا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا: اسے خود سے دور رکھو، اللہ تعالیٰ اس خاتون کی طرف نہیں دیکھتے، جو یہ لگاتی ہے۔ ایک اور عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے اماں! سیدہ نے کہا: میں تمہاری ماں نہیں ہوں، تمہاری بہن ہوں، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (رمضان کے پہلے) بیس دنوں نماز بھی ادا کرتے اور سوتے بھی تھے، لیکن جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو تہبند مضبوط کرلیتے اور عبادت میں کمر بستہ ہوجاتے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8137]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي ويزيدَ بنِ مرة، ولجھالة لميس، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25136 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25649»
وضاحت: فوائد: … وقار، احترام، اکرام اور نکاح کے حرام ہونے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں ماؤں کی طرح ہیں، چونکہ نکاح کا حکم تو مردوں کے لیے ہے، اس لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے آپ کو خواتین کی بہن ظاہر کر رہی ہیں، یہ روایت ضعیف ہے، بہرحال امہات المؤمنین کا یہ حکم نسب کی وجہ سے نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي ويزيدَ بنِ مرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8138
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدٍ قَالَ قَالَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَاتَ يَوْمٍ إِنَّكُمْ قَدْ أَحْدَثْتُمْ زِيَّ سُوءٍ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الزُّورِ وَقَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ الزَّوَرَ قَالَ وَجَاءَ رَجُلٌ بِعَصًا عَلَى رَأْسِهَا خِرْقَةٌ فَقَالَ أَلَا وَهَذَا الزُّورُ قَالَ أَبُو عَامِرٍ قَالَ قَتَادَةُ هُوَ مَا تُكْثِرُ بِهِ النِّسَاءُ أَشْعَارَهُنَّ مِنَ الْخِرَقِ
۔ سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے ایک دن کہا: تم نے بری عادت ایجاد کرلی ہے، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جھوٹ سے منع فرمایا ہے، ایک آدمی ایک لاٹھی لایا، اس کے سرے پر کپڑے کا ایک ٹکڑا لٹک رہا تھا، اس نے کہا: خبردار! یہی جھوٹ ہے۔ قتادہ نے کہا: اس سے مراد کپڑے کے وہ ٹکڑے ہیں، جن کے ساتھ عورتیں اپنے بال زیادہ ظاہر کرتی ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8138]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2127، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16843 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16968»
وضاحت: فوائد: … خاتون کا اپنے بالوں میں کوئی ایسی چیز داخل کرنا یا ملانا منع ہے، جس سے اس کا مقصود یہ ہو کہ اس کے بال زیادہ نظر آئیں، یہ جھوٹ اور خلافِ فطرت چیز ہو گی، البتہ بالوں کو قابو میں رکھنے کے لیے پراندہ وغیرہ لگانا جائز ہے، چھوٹا ہو یا بڑا، لیکن شرط یہی ہو کہ عورت کا مقصد یہ ہو کہ بال قابو میں رہیں، یا اس کا مقصد زینت ہو، ضروری یہ ہے کہ اس میں بھی کوئی جعل سازی اور دھوکا دہی نہ ہو۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2127
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں