🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. باب تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ:
باب: چاندی اور سونے کے استعمال کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2066 ترقیم شاملہ: -- 5388
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ أَوِ الْمُقْسِمِ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ، وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمَ أَوْ عَنْ تَخَتُّمٍ بِالذَّهَبِ، وَعَنْ شُرْبٍ بِالْفِضَّةِ، وَعَنِ الْمَيَاثِرِ، وَعَنِ الْقَسِّيِّ، وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ، وَالْإِسْتَبْرَقِ، وَالدِّيبَاجِ ".
ابوخیثمہ زہیر نے کہا: ہمیں اشعث نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے معاویہ بن سوید بن مقرن نے حدیث بیان کی، کہا: میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو ان کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا ہے اور سات چیزوں سے روکا مریض کی عیادت کرنے، جنازے کے ساتھ شریک ہونے، چھینک کا جواب دینے، (اپنی) قسم یا قسم دینے والے (کی قسم) پوری کرنے، مظلوم کی مدد کرنے، دعوت قبول کرنے، انگوٹھی پہننے سے، چاندی کے برتن میں (کھانے) پینے، ارغوانی (سرخ) گدوں سے (اگر وہ ریشم کے ہوں)، مصر کے علاقے قس کے بنے ہوئے کپڑوں (جو ریشم کے ہوتے تھے۔) اور (کسی بھی قسم کے) ریشم استبرق اور دیباج کو پہننے سے روکا (استبراق ریشم کا موٹا کپڑا تھا اور دیباج باریک۔) [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5388]
معاویہ بن سوید بن مقرن بیان کرتے ہیں، میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں یہ کہتے سنا، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چیزوں کا حکم دیا اور سات چیزوں سے منع فرمایا، آپ نے ہمیں بیمار پرسی، جنازہ کے ساتھ جانے، چھینکنے والے کو دعا دینے، قسم پوری کرنے یا قسم دینے والے کی بات پوری کرنے، مظلوم کی مدد کرنے، دعوت قبول کرنے اور سلام کو عام کرنے کا حکم دیا اور ہمیں انگوٹھیوں یا سونے کی انگوٹھی پہننے، چاندی کے برتن میں پینے، ریشمی گدوں پر بیٹھنے، قسی، ریشم، استبرق اور دیباج پہننے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5388]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2066
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2066 ترقیم شاملہ: -- 5389
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، إِلَّا قَوْلَهُ وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ أَوِ الْمُقْسِمِ، فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْحَرْفَ فِي الْحَدِيثِ وَجَعَلَ مَكَانَهُ وَإِنْشَادِ الضَّالِّ.
ابوعوانہ نے ہمیں اشعث بن سلیم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث سنائی، سوائے اپنی قسم یا قسم دینے والے (کی قسم) کے الفاظ کے، انہوں نے حدیث میں یہ فقرہ نہیں کہا: اور اس کے بجائے گمشدہ چیز کا اعلان کرنے کا ذکر کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5389]
امام صاحب ایک اور استاد سے اشعث بن سلیم ہی کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، مگر اس میں قسم کو پورا کرنے یا قسم دینے والے کی تصدیق کرنے کا ذکر نہیں ہے اور اسکی جگہ گم شدہ چیز کے اعلان کا ذکر ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5389]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2066
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2066 ترقیم شاملہ: -- 5390
حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ زُهَيْرٍ، وَقَالَ إِبْرَارِ الْقَسَمِ: مِنْ غَيْرِ شَكٍّ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ، وَعَنِ الشُّرْبِ فِي الْفِضَّةِ فَإِنَّهُ مَنْ شَرِبَ فِيهَا فِي الدُّنْيَا، لَمْ يَشْرَبْ فِيهَا فِي الْآخِرَةِ.
علی بن مسہر اور جریر دونوں نے شیبانی سے، انہوں نے اشعث بن ابی شعثاء سے اسی سند کے ساتھ زہیر کی حدیث کے مانند روایت کی اور بغیر شک کے قسم دینے والے (کی قسم) پوری کرنے کے الفاظ کہے اور حدیث میں مزید بیان کیا: اور چاندی (کے برتن) میں پینے سے (منع کیا) کیونکہ جو شخص دنیا میں اس میں پیے گا۔ وہ آخرت میں اس میں نہیں پیے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5390]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ کی سند سے زہیر کی طرح حدیث بیان کرتے ہیں اور اس میں بغیر شک کے قسم پوری کرنے کا ذکر کرتے ہیں اور حدیث میں یہ اضافہ کرتے ہیں، چاندی کے برتن میں پانی پینے سے، کیونکہ جو اس میں دنیا میں پیے گا، آخرت میں نہیں پی سکے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5390]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2066
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2066 ترقیم شاملہ: -- 5391
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ، وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ بِإِسْنَادِهِمْ، وَلَمْ يَذْكُرْ زِيَادَةَ جَرِيرٍ وَابْنِ مُسْهِرٍ.
ابن ادریس نے کہا: ہمیں ابواسحٰق شیبانی اور لیث بن ابی سلیم نے اشعث بن ابی شعثاء سے ان سب کی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور جریر اور ابن مسہر کے اضافے کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5391]
امام صاحب یہی روایت ابوکریب سے بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں جریر اور ابن مسہر والا اضافہ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5391]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2066
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2066 ترقیم شاملہ: -- 5392
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنِي بَهْزٌ ، قَالُوا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ بِإِسْنَادِهِمْ وَمَعْنَى حَدِيثِهِمْ إِلَّا قَوْلَهُ وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ، فَإِنَّهُ قَالَ بَدَلَهَا وَرَدِّ السَّلَامِ، وَقَالَ: نَهَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ أَوْ حَلْقَةِ الذَّهَبِ.
شعبہ نے اشعث بن سلیم سے ان سب کی سند کے ساتھ ان کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی، سوائے ان کے روایت کردہ الفاظ: سلام عام کرنے کے بجائے کہا: اور سلام کا جواب دینے اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے کی انگوٹھی یا سونے کے کڑے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5392]
اور یہی روایت پانچ اور اساتذہ کی چار سندوں سے بیان کرتے ہیں، مگر اس میں اسلام عام کرنے کی جگہ سلام کا جواب دینا بیان کیا ہے، اور کہا ہے: آپ نے ہمیں سونے کی انگوٹھی یا سونے کے چھلہ سے منع فرمایا۔ اور امام صاحب پانچ اور اساتذہ کی چار سندوں سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5392]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2066
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2066 ترقیم شاملہ: -- 5393
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، وَعَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، بِإِسْنَادِهِمْ، وَقَالَ وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ من غير شك.
ہمیں سفیان نے اشعث بن ابی شعثاء سے ان سب کی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور شک کے بغیر سلام عام کرنے اور سونے کی انگوٹھی کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5393]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں شک کے بغیر بیان کیا ہے، اسلام کو عام کرنا اور سونے کی انگوٹھی پہننا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5393]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2066
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2067 ترقیم شاملہ: -- 5394
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَهْلِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، سَمِعْتُهُ يَذْكُرُهُ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُكَيْمٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ، فَاسْتَسْقَى حُذَيْفَةُ ، فَجَاءَهُ دِهْقَانٌ بِشَرَابٍ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ، فَرَمَاهُ بِهِ، وَقَالَ: إِنِّي أُخْبِرُكُمْ أَنِّي قَدْ أَمَرْتُهُ أَنْ لَا يَسْقِيَنِي فِيهِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَشْرَبُوا فِي إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلَا تَلْبَسُوا الدِّيبَاجَ وَالْحَرِيرَ، فَإِنَّهُ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَهُوَ لَكُمْ فِي الْآخِرَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
سعید بن عمرو بن سہل بن اسحٰق بن محمد بن اشعث بن قیس نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے انہیں ابوفروہ سے ذکر کرتے ہوئے سنا کہ انہوں نے عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا: ہم (ایران کے سابقہ دارالحکومت) مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا تو ایک زمیندار چاندی کے برتن میں مشروب لے آیا، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس (مشروب) کے سمیت وہ برتن پھینک دیا اور کہا: میں تم لوگوں کو بتا رہا ہوں کہ میں پہلے اس سے کہہ چکا ہوں کہ وہ مجھے اس (چاندی کے برتن) میں نہ پلائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: سونے اور چاندی کے برتن میں نہ پیو اور دیباج اور حریر نہ پہنو کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں ان (کفار) کے لیے ہیں اور آخرت میں قیامت کے دن تمہارے لیے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5394]
عبداللہ بن عکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے تو حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانی مانگا تو ان کے پاس زمیندار چاندی کے برتن میں پانی لایا تو انہوں نے وہ برتن اسے دے مارا اور کہا: میں تمہیں آگاہ کرتا ہوں کہ میں اسے کہہ چکا ہوں، مجھے اس برتن میں پانی نہ پلانا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: سونے اور چاندی کے برتن میں نہ پیو اور دیباج و حریر نہ پہنو، کیونکہ یہ چیزیں، ان کے لیے (کافروں کے لیے) دنیا میں ہے اور تمہارے لیے قیامت کے دن آخرت میں ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5394]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2067
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2067 ترقیم شاملہ: -- 5395
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ الْجُهَنِيِّ ، قال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُكَيْمٍ ، يقول: كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
ابن ابی عمر نے ہمیں یہی حدیث بیان کی کہا: ہمیں سفیان نے ابوفروہ جہنی سے حدیث سنائی، کہا: میں نے عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: ہم مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے پھر اس کی طرح بیان کیا اور اس حدیث میں قیامت کے دن (کے الفاظ) ذکر نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5395]
امام صاحب یہی حدیث ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، عبداللہ بن عکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: ہم مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھے، آگے مذکورہ بالا روایت ہے اور اس میں قیامت کے دن کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5395]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2067
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2067 ترقیم شاملہ: -- 5396
وحدثني عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ أَوَّلًا، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، ثُمّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، سَمِعَهُ مِنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، ثُمّ حَدَّثَنَا أَبُو فَرْوَةَ ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ عُكَيْمٍ ، فَظَنَنْتُ أَنَّ ابْنَ أَبِي لَيْلَى إِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ ابْنِ عُكَيْمٍ، قال: كُنَّا مَعَ حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَقُلْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
ابن ابی نجیح نے پہلے ہمیں مجاہد سے، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ پھر ہمیں یزید نے حدیث بیان کی، انہوں نے یہ حدیث ابن ابی لیلیٰ سے سنی، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے، پھر ہمیں ابوفروہ نے حدیث بیان کی کہا: میں نے عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے سنی اور میرا خیال یہ ہے کہ ابن ابی لیلیٰ نے بھی یہ حدیث عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے سنی، انہوں نے کہا: ہم مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ (ان کے دستے میں) تھے۔ پھر اسی کے مانند بیان کیا اور قیامت کے دن کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5396]
امام صاحب مختلف سندوں سے ابن عکیم سے بیان کرتے ہیں کہ ہم مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے اور مذکورہ بالا روایت بیان کی اور قیامت کے دن کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5396]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2067
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2067 ترقیم شاملہ: -- 5397
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حدثنا أبى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: شَهِدْتُ حُذَيْفَةَ اسْتَسْقَى بِالْمَدَائِنِ، فَأَتَاهُ إِنْسَانٌ بِإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَذَكَرَهُ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُكَيْمٍ عَنْ حُذَيْفَةَ.
عبید اللہ کے والد معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے دیکھا کہ مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا تو ایک شخص ان کے پاس چاندی کا برتن لے کر آیا پھر انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ کی روایت کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5397]
عبدالرحمٰن یعنی ابن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں، میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس مدائن میں تھا، انہوں نے پانی مانگا تو ان کے پاس ایک انسان چاندی کا برتن لایا، آگے ابن عکیم کی روایت کے ہم معنی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5397]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2067
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں