الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ التَّفَاخُرِ بِالْآبَاءِ فِي نَّسْبٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ
نسب وغیرہ کے معاملے میں آباء پر مفاخرت کرنے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9739
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَنْسَابَكُمْ هَذِهِ لَيْسَتْ بِسِبَابٍ عَلَى أَحَدٍ وَإِنَّمَا أَنْتُمْ وَلَدُ آدَمَ طَفُّ الصَّاعِ لَمْ تَمْلَؤُوهُ لَيْسَ لِأَحَدٍ فَضْلٌ إِلَّا بِالدِّينِ أَوْ عَمَلٍ صَالِحٍ حَسْبُ الرَّجُلِ أَنْ يَكُونَ فَاحِشًا بَذِيًّا بَخِيلًا جَبَانًا
۔ حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تمہارے یہ نسب کسی کے لیے کوئی عار و شنار والے نہیں ہیں، کیونکہ تم سارے آدم کی اولاد ہو، اور بھرے ماپ سے کم ہو (یعنی کوئی بھی تم میں پورا اور کامل نہیں، ہر ایک میں کچھ نہ کچھ نقص ہے) اور کسی کو کسی پر کوئی فضیلت و برتری حاصل نہیں، مگر دین اور عملِ صالح کی بنا پر۔ آدمی کے (برا ہونے کے لیے) یہی کافی ہے کہ وہ فحش گو، بدکلام، بد اخلاق، بخیل اور بزدل ہو۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9739]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البيھقي في الشعب: 6677، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17313 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17446»
وضاحت: فوائد: … ابن جریر کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((اَلنَّاسُ لِآدَمَ وَحَوَّائَ، کَطَفِّ الصَّاعِ لَمْ یَمْلَؤُہٗ، اِنَّ اللّٰہَ لَایَسْأَلُکُمْ عَنْ اَحْسَابِکُمْ، وَلَا عَنْ اَنْسَابِکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ۔)) … آدم علیہ السلام اور حوا رحمتہ اللہ علیہ سے تمام لوگ پیدا ہوئے۔ لوگ اس صاع کی طرح ہیں، جس کو بھرا نہیں گیا۔ بیشک اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے حسب و نسب کے بارے میں سوال نہیں کرے گا، تم میں سے اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ معزز وہ ہو گا، جو سب سے زیادہ متقی ہو گا۔
کسی شخص کے سیّد، اعوان، راجپوت، آرائیں، جنجوعہ، وڑائچ، گادھی، لودھی وغیرہ ہونے میں کوئی کمال نہیں، کیونکہ جب تمام اقوام اپنا سلسلۂ نسب آگے بڑھائیں گی تو سب کے نسبوں کا اختتام آدم علیہ السلام پر ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کے انتخاب میں صحت و عافیت، طاقت و قدرت، رعب و دبدبہ،غربت و امارت، حسن و جمال، مال و منال، خاندانی عظمت و کمال اور حسب و نسب کا کوئی دخل نہیں۔ ربّ جلیل کی نگاہِ انتخاب کی بنیاد بندوں کے تقوی و پارسائی اور نیکی و بھلائی پر ہے، جو اس سلسلے میں جتنا ممتاز ہو گا، وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنا ہی معزز ہو گا۔
آخر میں صفات ِ ذمیمہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر کوئی آدمی فحش گوئی، بدکلامی، بد اخلاقی، بخیلی اور بزدلی سے متصف ہے تو اس کے بد ہونے کے لیےیہی صفات کافی ہیں۔
کسی شخص کے سیّد، اعوان، راجپوت، آرائیں، جنجوعہ، وڑائچ، گادھی، لودھی وغیرہ ہونے میں کوئی کمال نہیں، کیونکہ جب تمام اقوام اپنا سلسلۂ نسب آگے بڑھائیں گی تو سب کے نسبوں کا اختتام آدم علیہ السلام پر ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کے انتخاب میں صحت و عافیت، طاقت و قدرت، رعب و دبدبہ،غربت و امارت، حسن و جمال، مال و منال، خاندانی عظمت و کمال اور حسب و نسب کا کوئی دخل نہیں۔ ربّ جلیل کی نگاہِ انتخاب کی بنیاد بندوں کے تقوی و پارسائی اور نیکی و بھلائی پر ہے، جو اس سلسلے میں جتنا ممتاز ہو گا، وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنا ہی معزز ہو گا۔
آخر میں صفات ِ ذمیمہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر کوئی آدمی فحش گوئی، بدکلامی، بد اخلاقی، بخیلی اور بزدلی سے متصف ہے تو اس کے بد ہونے کے لیےیہی صفات کافی ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9740
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اجْتَمَعَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ وَعَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ فَذَكَرُوا الْجُدُودَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ شِئْتُمْ أَخْبَرْتُكُمْ جَدُّ بَنِي عَامِرٍ جَمَلٌ أَحْمَرُ أَوْ آدَمُ يَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِ الشَّجَرِ قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ فِي رَوْضَةٍ وَغَطَفَانُ أَكَمَةٌ خَشَّاءُ تَنْفِي النَّاسَ عَنْهَا قَالَ فَقَالَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَأَيْنَ جَدُّ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ لَوْ سَكَتَ
۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس اور علقمہ بن علاثہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جمع ہوئے اور آباء و اجداد کا تذکرہ کیا (کہ فلاں کا دادا قوی تھا)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تم کو بتلا دیتا ہوں، بنی عامر کا دادا تو سرخ یا گندمی رنگ کا اونٹ تھا، جو ایک باغیچے میں درخت کے پتے کھاتا تھا، غطفان کا دادا تو ایک خوفناک ٹیلہ تھا، جو لوگوں کو وہاں سے دھتکارتا تھا۔ اقرع بن حابس نے کہا: اور بنو تمیم کا دادا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ خاموش رہتا تو اچھی بات تھی۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9740]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22935 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23323»
وضاحت: فوائد: … علقمہ بن علاثہ نے بنو عامر کی طرف، عیینہ بن بدر نے غطفان کی طرف اور اقرع بن حابس نے بنو تمیم کی طرف نسبت کی تھی۔
ایک دن ایک لومڑ اور گیدڑ کا بحث مباحثہ ہو گیا، چونکہ لومڑ شیر کے ساتھ رہتا تھا، اس لیے اس نے شیر کے کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ہم نے فلاں کام بھی کیا، ہم نے فلاں کمال بھی دکھایا، ہم نے … …۔ گیدڑ نے ساری باتیں سننے کے بعد کہا: اچھا لومڑ یہ بتاؤ کہ تم خود کون ہو، تم خود کون ہو؟ جواباً لومڑ کو کہنا پڑے گا کہ وہ تو لومڑ ہی ہے۔
باتیہ ہے کہ اگر کسی کے دادے، پڑدادے اور لکڑدادے میں کوئی کمال تھا تو اس کا پوتے اور پڑپوتے کے امتیاز سے کیا تعلق ہے، ایک دن ایک آدمی نے اپنی برادری پر ناز کرتے ہوئے اور فاخرانہ انداز میں اپنی حیثیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا: ہم وہ لوگ ہیں کہ نواب آف کالا باغ نے جس کے ماموں کو اس مسند پر بٹھایا تھا، جو اس نے آصف علی زرداری کے لیے رکھی ہوئی تھی۔
اسلام کا ان امور سے کوئی تعلق نہیں ہے، اسلام شکل و صورت،حسن و جمال اور ذات و برادری کو نہیں دیکھتا، صرف دل اور عمل کو مد نظر رکھتا ہے۔
ایک دن ایک لومڑ اور گیدڑ کا بحث مباحثہ ہو گیا، چونکہ لومڑ شیر کے ساتھ رہتا تھا، اس لیے اس نے شیر کے کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ہم نے فلاں کام بھی کیا، ہم نے فلاں کمال بھی دکھایا، ہم نے … …۔ گیدڑ نے ساری باتیں سننے کے بعد کہا: اچھا لومڑ یہ بتاؤ کہ تم خود کون ہو، تم خود کون ہو؟ جواباً لومڑ کو کہنا پڑے گا کہ وہ تو لومڑ ہی ہے۔
باتیہ ہے کہ اگر کسی کے دادے، پڑدادے اور لکڑدادے میں کوئی کمال تھا تو اس کا پوتے اور پڑپوتے کے امتیاز سے کیا تعلق ہے، ایک دن ایک آدمی نے اپنی برادری پر ناز کرتے ہوئے اور فاخرانہ انداز میں اپنی حیثیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا: ہم وہ لوگ ہیں کہ نواب آف کالا باغ نے جس کے ماموں کو اس مسند پر بٹھایا تھا، جو اس نے آصف علی زرداری کے لیے رکھی ہوئی تھی۔
اسلام کا ان امور سے کوئی تعلق نہیں ہے، اسلام شکل و صورت،حسن و جمال اور ذات و برادری کو نہیں دیکھتا، صرف دل اور عمل کو مد نظر رکھتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح