🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. فَضَائِلُ الْقُرْآنِ
قرآن کے فضائل
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 91 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 91
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ : " يُسْأَلُ عَنْ عَرَبِيَّةِ الْقُرْآنِ، فَيُنْشِدُ الشِّعْرَ" .
عبیداللہ بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ ان سے قرآن کی عربی کے بارے میں پوچھا گیا، تو وہ (اس کی وضاحت کے لیے) شعر سناتے تھے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 91]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 91، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 21186»

الحكم على الحديث:
سنده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 92 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 92
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ:" كَانُوا يَكْرَهُونَ أَنْ يَتَأَوَّلُوا شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ عِنْدَمَا يُعْرَضُ مِنْ أَحَادِيثِ الدُّنْيَا، قِيلَ لِهُشَيْمٍ نَحْوُ قَوْلِهِ: جِئْتَ عَلَى قَدَرٍ يَا مُوسَى سورة طه آية 40؟، قَالَ: نَعَمْ" .
ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: وہ لوگ ناپسند کرتے تھے کہ دنیاوی باتوں کے دوران قرآن کی کسی آیت کی تفسیر کریں۔ ہشیم رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿جِئْتَ عَلَى قَدَرٍ يَا مُوسَى﴾ [سورہ طہ: 40] (موسیٰ! تم ایک مقررہ اندازے پر آئے)؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 92]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث:
سنده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 93 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 93
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جُوَيْبِرٌ ، عَنِ الضَّحَّاكِ ، قَالَ: " لَوْلا تِلاوَةُ الْقُرْآنِ، لَسَرَّنِي أَنْ أَكُونَ صَاحِبَ فِرَاشٍ حَتَّى أَمُوتَ، وَذَلِكَ أَنَّ الْمَرِيضَ يُرْفَعُ عَنْهُ الْحَرَجُ، وَتُكَفَّرُ عَنْهُ خَطَايَاهُ، وَيُكْتَبُ لَهُ بِصَالِحِ مَا كَانَ يَعْمَلُ" .
ضحاک رحمہ اللہ نے کہا: اگر قرآن کی تلاوت نہ ہوتی تو مجھے یہ پسند ہوتا کہ میں بستر کا مریض رہوں یہاں تک کہ فوت ہو جاؤں کیونکہ مریض سے شرعی سختی ہٹا دی جاتی ہے، اس کے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں، اور اس کے نیک اعمال کا ثواب لکھا جاتا ہے جو وہ صحت مند ہونے کی حالت میں کیا کرتا تھا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 93]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 93، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 36645»

الحكم على الحديث:
سنده ضعيف جدًّا لشدة ضعف جويبر.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 94 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 94
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدَائِنِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَلْمَانَ الْفَارِسِيَّ ، يَقُولُ: " كُلُّ مَا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ، فَهُوَ مِنْ عَفْوِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو کچھ بھی اللہ عزوجل نے قرآن میں ذکر نہیں فرمایا، وہ اللہ عزوجل کی طرف سے معافی (درگزر) میں شامل ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 94]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث:
سنده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 95 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 95
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: حُصَيْنٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: قُلْتُ لِجَدَّتِي أَسْمَاءَ كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَرَءُوا الْقُرْآنَ؟، قَالَتْ: كَانُوا كَمَا نَعَتَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: تَدْمَعُ أَعْيُنُهُمْ، وَتَقْشَعِرُّ جُلُودُهُمْ، قُلْتُ: فَإِنَّ نَاسًا هَاهُنَا إِذَا سَمِعُوا ذَلِكَ تَأْخُذُهُمْ عَلَيْهِ غَشْيَةٌ؟، فَقَالَتْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ!" .
عبداللہ بن عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے کہا: میں نے اپنی دادی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ قرآن پڑھتے وقت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: وہ ایسے ہی تھے جیسے اللہ عزوجل نے ان کی صفت بیان فرمائی ہے: ان کی آنکھیں آنسو بہاتی تھیں اور ان کی کھالیں کانپ جاتی تھیں۔ میں نے کہا: یہاں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ جب وہ یہ سنتے ہیں تو ان پر بے ہوشی طاری ہو جاتی ہے، تو انہوں نے فرمایا: میں اللہ کی پناہ مانگتی ہوں شیطان سے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 95]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث:
سنده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 96 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 96
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: " يُسْرَى بِالْقُرْآنِ لَيْلا، فَيُرْفَعُ مِنْ أَجْوَافِ الرِّجَالِ، فَيُصْبِحُونَ لا يَصْدُقُونَ حَدِيثًا، وَلا يُصْدِقُونَ النِّسَاءَ، يَتَسَافَدُونَ تَسَافُدَ الْحَمِيرِ، فَيَبْعَثُ اللَّهُ رِيحًا، فَتَقْبِضُ رُوحَ كُلِّ مُؤْمِنٍ" .
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: قرآن کو رات کے وقت اٹھا لیا جائے گا، پس وہ لوگوں کے سینوں سے نکال لیا جائے گا، اور جب وہ صبح کریں گے تو نہ کسی بات کی تصدیق کریں گے اور نہ ہی عورتوں کی تصدیق کریں گے، وہ گدھوں کی طرح آپس میں اختلاط کریں گے، پس اللہ ایک ہوا بھیجے گا جو ہر مومن کی روح قبض کر لے گی۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 96]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث:
الحديث سنده رجاله ثقات، لكنه ضعيف لعنعنة مغيرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 97 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 97
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، سَمِعَ شَدَّادَ بْنَ مَعْقِلٍ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: " أَوَّلُ مَا تَفْقِدُونَ مِنْ دِينِكُمُ الأَمَانَةُ، وَآخِرُ مَا يَبْقَى الصَّلاةُ، وَإِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ الَّذِي بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ أَوْشَكَ أَنْ يُرْفَعَ، قَالُوا: وَكَيْفَ وَقَدْ أَثْبَتَهُ اللَّهُ فِي قُلُوبِنَا، وَأَثْبَتْنَاهُ فِي الْمَصَاحِفِ؟!، قَالَ: يُسْرَى عَلَيْهِ لَيْلا، فَيَذْهَبُ مَا فِي قُلُوبِكُمْ، وَيُرْفَعُ مَا فِي الْمَصَاحِفِ"، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ ثُمَّ لا تَجِدُ لَكَ بِهِ عَلَيْنَا وَكِيلا سورة الإسراء آية 86 .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے دین سے سب سے پہلے جو چیز ختم ہوگی وہ امانت ہوگی، اور سب سے آخر میں جو باقی رہے گی وہ نماز ہوگی، اور یہ قرآن جو تمہارے درمیان ہے، قریب ہے کہ اٹھا لیا جائے۔ صحابہ نے پوچھا: یہ کیسے ہوگا جبکہ اللہ نے اسے ہمارے دلوں میں محفوظ کر دیا ہے اور ہم نے اسے مصاحف میں لکھ لیا ہے؟ تو فرمایا: رات کے وقت قرآن اٹھا لیا جائے گا، پس جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے وہ ختم ہو جائے گا، اور جو مصاحف میں ہے وہ بھی اٹھا لیا جائے گا، پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ ثُمَّ لا تَجِدُ لَكَ بِهِ عَلَيْنَا وَكِيلًا﴾ [سورہ الإسراء: 86] [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 97]
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى (مستدركه) برقم: 8633، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 97، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12819، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 5980، 5981، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 30819، 36984، 37028، 38740، والطبراني فى(الكبير) برقم: 8698، 8699، 8700، 9560، 9753»

الحكم على الحديث:
سنده ضعيف لجهالة حال شداد بن معقل،
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 98 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 98
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: " إِذَا تَثَاءَبْتَ وَأَنْتَ تَقْرَأُ، فَأَمْسِكْ عَنِ الْقِرَاءَةِ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْكَ" .
مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: جب تم قرآن پڑھ رہے ہو اور تمہیں جمائی آئے تو قراءت روک دو یہاں تک کہ جمائی ختم ہو جائے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 98]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 98، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 3321، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 8077»

الحكم على الحديث:
سنده صحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 99 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 99
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ:" كَانَ رُبَّمَا قَرَأَ، وَقَوْمٌ نِيَامٌ، فَيَجِدُ الرِّيحَ، فَيُمْسِكُ عَنِ الْقِرَاءَةِ حَتَّى تَذْهَبَ" .
مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: کبھی ایسا ہوتا کہ میں قرآن پڑھ رہا ہوتا اور کچھ لوگ سو رہے ہوتے، پھر جب ہوا محسوس کرتا تو قراءت روک دیتا یہاں تک کہ وہ ختم ہو جاتی۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 99]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث:
سنده صحيح 
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 100 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 100
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زُرْزُرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلا سَأَلَ عَطَاءً ، قَالَ: أَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَيَخْرُجُ الرِّيحُ مِنِّي؟، فَقَالَ:" أَمْسِكْ عَنِ الْقِرَاءَةِ حَتَّى تَذْهَبَ عَنْكَ" .
تابعی عطاء رحمہ اللہ سے ایک آدمی نے پوچھا: میں قرآن پڑھتا ہوں اور مجھ سے ہوا خارج ہو جاتی ہے! تو انہوں نے فرمایا: قراءت روک دو یہاں تک کہ وہ ختم ہو جائے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 100]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث:
الحديث سنده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں