Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. بَابُ الْغَرْقَى وَالْحَرْقَى
ڈوبنے اور جلنے والوں کا وراثتی حکم
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 239 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1416
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا ابْنُ شُبْرُمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الثِّقَةُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " يَرِثُ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا وَرَثَتُهُ" .
ابن شبرمہ رحمہ اللہ نے کہا: ثقہ راوی نے مجھے خبر دی کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: ہر ایک کے ورثاء ہی اس کے وارث ہوں گے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1416]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
وضاحت: "عن الثقة" کی تعبیر اگرچہ اعتماد کو ظاہر کرتی ہے، مگر محدثین کی اصطلاح میں غیر متعین راوی (مبہم) ہو تو روایت ضعیف ہوتی ہے، جب تک وہ صراحتاً معروف نہ ہو۔

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 240 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1417
نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَتْ هِيَ وَابْنُهَا زَيْدُ بْنُ عُمَرَ فَالْتَقَتِ الصَّائِحَتَانِ فِي الطَّرِيقِ فَلَمْ يُدْرَ أَيُّهُمَا مَاتَ قَبْلَ صَاحِبِهِ فَلَمْ تَرِثْهُ وَلَمْ يَرِثْهَا، وَأَنَّ أَهْلَ صِفِّينَ لَمْ يَتَوَارَثُوا، وَأَنَّ أَهْلَ الْحَرَّةِ لَمْ يَتَوَارَثُوا" .
جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا اور ان کا بیٹا زید بن عمر فوت ہو گئے، دونوں کی موت کی آوازیں راستے میں اکٹھی ہو گئیں، معلوم نہ ہو سکا کہ پہلے کون مرا، پس نہ اس نے اس کا وارثی حاصل کی اور نہ اس نے اس کی، اور یہ بھی کہ صفین والوں نے ایک دوسرے سے وراثت نہیں کی، اور اہل حرہ نے بھی ایک دوسرے سے وراثت نہیں کی۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1417]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 8101، والدارمي فى «مسنده» برقم: 3089، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 240، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12382، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4101»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 241 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1418
نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: " كَانَ يُقَالُ: كَل قَوْمٌ مُتَوَارِثِينَ عَمَّى مَوْتُ بَعْضٍ قَبْلَ بَعْضٍ فِي هَدْمٍ، أَوْ غَرَقٍ، أَوْ حَرْقٍ، أَوْ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمَتَالِفِ , فَإِنَّ بَعْضَهُمْ لا يَرِثُ مِنْ بَعْضٍ شَيْئًا , لا يَرِثُونَ، وَلا يُحْجَبُونَ، يَرِثُ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ وَرَثَتُهُ مِنَ الأَحْيَاءِ كَأَنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحَدٍ مِمَّنْ مَاتَ مَعَهُ قَرَابَةٌ" .
خارجہ بن زید بن ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں: کہا جاتا تھا کہ جو قوم ہلاکت (مثلاً: دیوار گرنے، غرق ہونے، جلنے) میں ایک ساتھ مرے اور ان میں کسی کے مرنے کا وقت دوسرے سے پہلے معلوم نہ ہو تو ان میں سے کوئی دوسرے سے وراثت نہیں لیتا، نہ ان کی وجہ سے کوئی دوسرا وارث محروم ہوتا ہے، ہر ایک کو اس کے زندہ ورثاء وارث بنیں گے گویا کہ مرنے والوں میں کوئی رشتہ داری نہیں۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1418]
تخریج الحدیث: «نفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 242 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1419
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ " فِي الْقَوْمِ يَمُوتُونَ جَمِيعًا، غَرِقُوا فِي سَفِينَةٍ، أَوْ وَقَعَ عَلَيْهِمْ بَيْتٌ، أَوْ قُتِلُوا لا يُدْرَى أَيُّهُمْ مَاتَ قَبْلَ الآخَرِ , وَلا يُوَرَّثُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ إِلا أَنْ يُعْلَمَ أَنَّهُ مَاتَ قَبْلَ صَاحِبِهِ فَيَرِثُ الآخَرُ الأَوَّلَ، وَيَرِثُ الآخَرَ عَصَبَتُهُ، فَإِنْ لَمْ يَعْلَمُوا أَيُّهُمْ مَاتَ قَبْلَ صَاحِبِهِ فَلا يُوَرَّثُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ، وَلَكِنْ يَرِثُهُمْ عَصَبَتُهُمُ الأَحْيَاءُ" .
سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر کوئی قوم ایک ساتھ مر جائے، مثلاً کشتی میں غرق ہوں یا ان پر مکان گر جائے یا قتل کر دیے جائیں اور یہ معلوم نہ ہو کہ کون پہلے مرا تو بعض کو بعض کا وارث نہ بنایا جائے گا، الا یہ کہ معلوم ہو جائے کہ فلاں پہلے مرا تو دوسرا اس کا وارث ہوگا، اور دوسرے کا وارث اس کے زندہ عصبات ہوں گے، اگر معلوم نہ ہو کہ کون پہلے مرا تو زندہ عصبات وارث ہوں گے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1419]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارمي فى «مسنده» برقم: 3088، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 242، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12381، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4076، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 19161، 19162، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31999، 32000»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 243 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1420
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ , عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، وَحَكِيمِ بْنِ عُمَيْرٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ، قَالُوا: " لا يُوَرَّثُ مَيِّتٌ مِنْ مَيِّتٍ، إِنَّمَا يَرِثُ الْحَيُّ الْمَيِّتَ، تَرِثُهُمْ عَصَبَتُهُمُ الأَحْيَاءُ" .
راشد بن سعد رحمہ اللہ، حکیم بن عمیر رحمہ اللہ اور عبدالرحمٰن بن ابی عوف رحمہ اللہ نے کہا: میت میت سے وراثت نہیں لیتا، زندہ ہی میت کا وارث بنتا ہے، اور ان کے زندہ عصبات وارث بنتے ہیں۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1420]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
قال ابن حجر: أبي بكر بن عبد الله بن أبي مريم ضعيف

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں