صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب بِرِّ الْوَالِدَيْنِ وَأَنَّهُمَا أَحَقُّ بِهِ:
باب: والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور ان دونوں سے کون زیادہ حقدار ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2548 ترقیم شاملہ: -- 6500
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفٍ الثَّقَفِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قَالَ: أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أُمُّكَ؟ قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أَبُوكَ "، وَفِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ: مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِي، وَلَمْ يَذْكُرِ النَّاسَ.
قتیبہ بن سعید بن جمیل بن طریف ثقفی اور زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں جریر نے عمارہ بن قعقاع سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزرعہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی: لوگوں میں سے حسنِ معاشرت (خدمت اور حسن سلوک) کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تمہاری ماں۔“ اس نے کہا: پھر کون؟ فرمایا: ”پھر تمہاری ماں۔“ اس نے پوچھا: اس کے بعد کون؟ فرمایا: ”پھر تمہاری ماں۔“ اس نے پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: ”پھر تمہارا والد۔“ اور قتیبہ کی حدیث میں ہے: میرے اچھے برتاؤ کا زیادہ حقدار کون ہے؟ اور انہوں نے "لوگوں میں سے" کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6500]
حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر کہنےلگا،میری اچھی رفاقت کا سب سے زیادہ حقدار کون انسان ہے؟آپ نےفرمایا،"تیری ماں۔"اس نے پوچھا،"پھر کون؟فرمایا:"تیری والدہ"پوچھا،پھر کون؟فرمایا:"پھر بھی تیری ماں،"اس نے دریافت کیا،پھر کون؟فرمایا،"پھر تیرا باپ۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6500]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2548
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2548 ترقیم شاملہ: -- 6501
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ؟ قَالَ: أُمُّكَ، ثُمَّ أُمُّكَ، ثُمَّ أُمُّكَ، ثُمَّ أَبُوكَ، ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ ".
فضیل نے عمارہ بن قعقاع سے، انہوں نے ابوزرعہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! لوگوں میں سے (میری طرف سے) حسن معاشرت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری ماں، پھر تمہاری ماں، پھر تمہاری ماں، پھر تمہارا باپ، پھر جو تمہارا زیادہ قریبی (رشتہ دار) ہو، (پھر جو اس کے بعد) تمہارا قریبی ہو۔“ (اسی ترتیب سے آگے حق دار بنیں گے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6501]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،ایک آدمی نے پوچھا،یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !حسن رفاقت کا حقدارکون ہے؟آپ نے فرمایا:"تیری ماں پھر تیری ماں پھر تیری ماں،پھر تیرا باپ،پھر درجہ بدرجہ تیرے رشتہ دار۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6501]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2548
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2548 ترقیم شاملہ: -- 6502
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، وَابْنِ شُبْرُمَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَزَادَ، فَقَالَ: نَعَمْ، وَأَبِيكَ لَتُنَبَّأَنَّ.
شریک نے عمارہ اور ابن شبرمہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزرعہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، اس کے بعد (شریک نے) جریر کی روایت کے مانند بیان کیا اور مزید کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، تمہارے باپ کی قسم! تمہیں ضرور بتایا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6502]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا،آگے پہلی حدیث بیان کی اور یہ اضافہ کیا،آپ نے فرمایا:"ہاں،تیرے باپ کی قسم۔"تمہیں ضرور بتایا جائے گا۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6502]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2548
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2548 ترقیم شاملہ: -- 6503
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ . ح وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ كِلَاهُمَا، عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ: مَنْ أَبَرُّ، وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ: أَيُّ النَّاسِ أَحَقُّ مِنِّي بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ.
محمد بن طلحہ اور وہیب دونوں نے ابن شبرمہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ وہیب کی حدیث میں ہے: میں کس کے ساتھ حسن سلوک کروں؟ اور محمد بن طلحہ کی حدیث میں ہے: لوگوں میں سے میری طرف سے حسن معاشرت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ پھر جریر کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6503]
صاحب اپنے دو اساتذہ کی سندوں سے،ابن شبرمہ کی مذکورہ بالا سند سے یہ روایت بیان کرتے ہیں،وہیب کی روایت میں ہے،میں کس سے حسن سلوک کروں؟اور محمد بن طلحہ کی روایت میں ہے،سب لوگوں میں سے میری حسن رفاقت کا زیادہ حقدار کون ہے،پھر وہی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6503]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2548
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2549 ترقیم شاملہ: -- 6504
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَي يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَبِيبٌ ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ، فَقَالَ: أَحَيٌّ وَالِدَاكَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ ".
وکیع نے سفیان سے اور یحییٰ بن سعید قطان نے سفیان اور شعبہ دونوں سے روایت کی، دونوں نے کہا: ہمیں حبیب نے ابوعباس سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جہاد کی اجازت طلب کرنے کے لیے آیا تو آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ان (کی خدمت بجا لانے) میں جہاد کرو۔ (اپنی جان اور مال کو ان کی خدمت میں صرف کرو۔)“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6504]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتےہیں،ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکرآپ سے جہاد میں شرکت کی اجازت طلب کی تو آپ نے پوچھا،"کیا تیرے ماں باپ زندہ ہیں۔"اس نے کہا،جی ہاں،فرمایا:"تو پھر خوب محنت سے ان کی خدمت کر۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6504]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2549
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2549 ترقیم شاملہ: -- 6505
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ، قَالَ مُسْلِم: أَبُو الْعَبَّاسِ اسْمُهُ: السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخَ الْمَكِّيُّ.
معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے حبیب سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ابوعباس سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے، ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، پھر اسی (سابقہ حدیث) کے مانند بیان کیا۔ امام مسلم نے کہا: ابوعباس کا نام سائب بن فروخ مکی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6505]
ابو العباس رحمۃ اللہ علیہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتےہیں،ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا،آگے مذکورہ بالاروایت بیان کی ہے۔امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں،ابوالعباس کانام سائب بن فروخ مکی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6505]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2549
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2549 ترقیم شاملہ: -- 6506
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ . ح وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ جَمِيعًا، عَنْ حَبِيبٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ابن بشر نے مسعر سے، ابواسحاق اور زائدہ دونوں نے اعمش سے، سب نے حبیب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6506]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی سندوں سے،حبیب کی مذکورہ بالا سند سے یہی حدیث بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6506]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2549
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2549 ترقیم شاملہ: -- 6507
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ نَاعِمًا مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: " أَقْبَلَ رَجُلٌ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ أَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنَ اللَّهِ، قَالَ: فَهَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ أَحَدٌ حَيٌّ؟ قَالَ: نَعَمْ، بَلْ كِلَاهُمَا، قَالَ: فَتَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنَ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَارْجِعْ إِلَى وَالِدَيْكَ فَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُمَا ".
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: میں آپ سے ہجرت اور جہاد پر بیعت کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر طلب کرتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے والدین میں سے کوئی ایک زندہ ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں، بلکہ دونوں زندہ ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تم اللہ سے اجر کے طالب ہو؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”اپنے والدین کے پاس جاؤ اور اچھے برتاؤ سے ان کے ساتھ رہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6507]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،ایک آدمی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آیا اور آپ سے عرض کیا،میں آپ سے ہجرت اور جہاد پر بیعت کرتا ہوں،اس پر اللہ سےاجر کا طالب ہوں،آپ نے پوچھا،"کیا تیرے والدین میں سے کوئی ایک زندہ ہے؟"اس نے کہا،جی ہاں،بلکہ دونوں زندہ ہیں،آپ نے پوچھا،"تم اللہ سے اجر کے خواہاں ہو؟"اس نے کہا،جی ہاں،آپ نے فرمایا:"تو پھر اپنے والدین کی طرف لوٹ جاؤ۔"اور ان دونوں سے حسن سلوک سے پیش آؤ۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6507]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2549
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة