🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. باب الْوَعِيدِ الشَّدِيدِ لِمَنْ عَذَّبَ النَّاسَ بِغَيْرِ حَقٍّ:
باب: جو شخص لوگوں کو ناحق ستائے اس کا عذاب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2613 ترقیم شاملہ: -- 6657
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ: مَرَّ بِالشَّامِ عَلَى أُنَاسٍ وَقَدْ أُقِيمُوا فِي الشَّمْسِ، وَصُبَّ عَلَى رُءُوسِهِمُ الزَّيْتُ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قِيلَ: يُعَذَّبُونَ فِي الْخَرَاجِ، فَقَالَ: أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ فِي الدُّنْيَا ".
حفص بن غیاث نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: شام میں ان کا کچھ لوگوں کے قریب سے گزر ہوا جن کو دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا اور ان کے سروں پر زیتون کا تیل ڈالا گیا تھا، انہوں نے پوچھا: یہ کیا ہو رہا ہے؟ بتایا گیا: ان کو خراج (نہ دینے) کی وجہ سے سزا دی جا رہی ہے تو (حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب میں مبتلا کرنے کا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6657]
حضرت حکیم بن حزام کے بیٹے ہشام رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ان کا گزر شام میں کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا جو دھوپ میں کھڑے کیے گئے تھے اور ان کے سروں پر روغن زیتون ڈالا گیا تھا، انہوں نے پوچھا: یہ کیا ہو رہا ہے؟ انہیں بتایا گیا ہے انہیں خراج (نہ دینے) کی پاداش میں عذاب دیا جا رہا ہے، تو انہوں نے کہا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے: اللہ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو (ناجائز) عذاب دیتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6657]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2613
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2613 ترقیم شاملہ: -- 6658
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: مَرَّ هِشَامُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ عَلَى أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْبَاطِ بِالشَّامِ، قَدْ أُقِيمُوا فِي الشَّمْسِ، فَقَالَ: مَا شَأْنُهُمْ؟ قَالُوا: حُبِسُوا فِي الْجِزْيَةِ، فَقَالَ هِشَامٌ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا ".
ابواسامہ نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ شام کے چند نبطیوں (سامی قوم زمیندار لوگوں) کے قریب سے گزرے، انہیں دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا، انہوں نے پوچھا: ان کا معاملہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا: انہیں جزیے (کی ادائیگی کے معاملے) میں محبوس کیا گیا ہے، تو حضرت ہشام رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6658]
حضرت ہشام رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ (عروہ رحمۃ اللہ علیہ) سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کا گزر شام کے کچھ کسانوں پر ہوا، انہیں دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا، تو انہوں نے پوچھا: یہ کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ انہیں جزیہ (کی وصولی) کی خاطر روکا گیا ہے، چنانچہ حضرت ہشام رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6658]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2613
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2613 ترقیم شاملہ: -- 6659
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، قَالَ: وَأَمِيرُهُمْ يَوْمَئِذٍ عُمَيْرُ بْنُ سَعْدٍ عَلَى فِلَسْطِينَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَحَدَّثَهُ، فَأَمَرَ بِهِمْ فَخُلُّوا.
وکیع، ابومعاویہ اور جریر سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، اور جریر کی حدیث میں مزید یہ ہے، کہا: اور فلسطین پر ان دنوں ان لوگوں کا امیر عمیر بن سعد (انصاری) تھا تو وہ (ہشام رضی اللہ عنہ) ان کے پاس گئے، ان کو حدیث سنائی تو انہوں نے ان کے بارے میں حکم دیا، چنانچہ ان کو چھوڑ دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6659]
امام صاحب یہی روایت اپنے تین اساتذہ کی دو سندوں سے بیان کرتے ہیں، ہشام سے جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہے، ان دنوں لوگوں کے فلسطین میں امیر حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ تھے، تو حضرت ہشام رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور انہیں یہ حدیث سنائی تو انہوں نے ان کو چھوڑنے کا حکم دیا اور وہ چھوڑ دیے گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6659]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2613
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2613 ترقیم شاملہ: -- 6660
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ وَجَدَ رَجُلًا، وَهُوَ عَلَى حِمْصَ يُشَمِّسُ نَاسًا مِنَ النَّبْطِ فِي أَدَاءِ الْجِزْيَةِ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا ".
ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ حضرت ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا، وہ حمص کا عامل تھا۔ اس نے نبطیوں میں سے کچھ لوگوں کو جزیے کی ادائیگی کے سلسلے میں دھوپ میں کھڑا کیا ہوا تھا تو انہوں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو مبتلائے عذاب کرے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب میں مبتلا کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6660]
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ نے حمص کے گورنر کو دیکھا کہ اس نے جزیہ کی ادائیگی کے لیے کچھ کسانوں کو دھوپ میں کھڑا کیا ہوا ہے، تو انھوں نے پوچھا: یہ کیا سزا ہے؟ انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6660]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2613
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں