صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ:
باب: ابن صیاد کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2930 ترقیم شاملہ: -- 7354
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ، حَتَّى وَجَدَهُ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ، وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ، فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ صَيَّادٍ: " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ "، فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ، فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَرَفَضَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ "، ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَاذَا تَرَى؟ "، قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُلِّطَ عَلَيْكَ الْأَمْرُ "، ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا "، فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: هُوَ الدُّخُّ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ "، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: ذَرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ يَكُنْهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْهُ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ "،
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ سالم بن عبداللہ نے انھیں بتایا، انھیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چند لوگوں میں ابن صیاد کے پاس گئے حتیٰ کہ اسے بنی مغالہ کے قلعے کے پاس لڑکوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا، ان دنوں ابن صیاد جوانی کے قریب تھا۔ اس کو خبر نہ ہوئی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ مارا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟ ابن صیاد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم امیین کے رسول ہو (امی کہتے ہیں ان پڑھ اور بے تعلیم کو)۔ پھر ابن صیاد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا کچھ جواب نہ دیا (اور اس سے مسلمان ہونے کی درخواست نہ کی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مسلمان ہونے سے مایوس ہو گئے اور ایک روایت میں صاد مہملہ سے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو لات سے مارا) اور فرمایا کہ میں اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تجھے کیا دکھائی دیتا ہے؟ وہ بولا کہ میرے پاس کبھی سچا آتا ہے اور کبھی جھوٹا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرا کام گڑبڑ ہو گیا (یعنی مخلوط حق و باطل دونوں سے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تجھ سے پوچھنے کے لیے ایک بات دل میں چھپائی ہے۔ ابن صیاد نے کہا کہ وہ دخ (دھواں) ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ذلیل ہو، تو اپنی قدر سے کہاں بڑھ سکتا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! مجھے چھوڑیے میں اس کی گردن مارتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہی (یعنی دجال) ہے تو تو اس کو مار نہ سکے گا اور اگر یہ وہ (دجال) نہیں ہے تو تجھے اس کا مارنا بہتر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7354]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے ساتھ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں، ابن صیاد کی طرف گئے، حتیٰ کہ اسے بنی مغالہ کے قلعے کے پاس لڑکوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا، ان دنوں ابن صیاد جوانی کے قریب تھا۔ اس کو خبر نہ ہوئی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ مارا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟“ ابن صیاد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم «الْأُمِّيِّينَ» ”امیین“ کے رسول ہو (امی کہتے ہیں ان پڑھ اور بے تعلیم کو)۔ پھر ابن صیاد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا کچھ جواب نہ دیا (اور اس سے مسلمان ہونے کی درخواست نہ کی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مسلمان ہونے سے مایوس ہو گئے اور ایک روایت میں صاد مہملہ سے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو لات سے مارا) اور فرمایا: ”میں اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تجھے کیا دکھائی دیتا ہے؟“ وہ بولا کہ میرے پاس کبھی سچا آتا ہے اور کبھی جھوٹا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا کام گڑبڑ ہو گیا (یعنی مخلوط حق و باطل دونوں سے)۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھ سے پوچھنے کے لیے ایک بات دل میں چھپائی ہے۔“ ابن صیاد نے کہا کہ وہ «الدُّخُّ» ”دخ“ (دھواں) ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذلیل ہو، تو اپنی قدر سے کہاں بڑھ سکتا ہے؟“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! مجھے چھوڑیے میں اس کی گردن مارتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ وہی (یعنی دجال) ہے تو تو اس کو مار نہ سکے گا اور اگر یہ وہ (دجال) نہیں ہے تو تجھے اس کا مارنا بہتر نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7354]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2930
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2931 ترقیم شاملہ: -- 7355
وَقَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى النَّخْلِ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخْلَ طَفِقَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ ابْنُ صَيَّادٍ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشٍ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا زَمْزَمَةٌ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، فَقَالَتْ لِابْنِ صَيَّادٍ: يَا صَافِ وَهُوَ اسْمُ ابْنِ صَيَّادٍ هَذَا مُحَمَّدٌ، فَثَارَ ابْنُ صَيَّادٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ "،
سالم بن عبداللہ نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں: اس (سابقہ واقعے) کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابی بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ کھجوروں کے اس باغ میں گئے جس میں ابن صیاد تھا، باغ میں داخل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کے تنوں کی آڑ میں ہونے لگے تاکہ اس سے پہلے کہ ابن صیاد آپ کو دیکھے آپ اس کی کوئی بات سن لیں، وہ بستر پر ایک نرم چادر میں (اسے اوڑھ کر لیٹا) ہوا تھا، اس کے اندر سے اس کی گنگاہٹ کی آواز آ رہی تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے درختوں کی آڑ لے رہے تھے تو ابن صیاد کی ماں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا اور وہ ابن صیاد سے کہنے لگی: صاف!۔۔۔اور یہ ابن صیاد کا نام تھا۔ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم (آئے) ہیں۔ ابن صیاد اچھل کر کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ اس کو (اسی حالت میں) چھوڑ دیتی تو وہ (اپنا معاملہ) واضح کر دیتا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7355]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابی بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ اس نخلستان میں گئے جہاں ابن صیاد تھا، حتیٰ کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نخلستان میں داخل ہو گئے تو کھجوروں کے تنوں کی آڑ (اوٹ) لینے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کوشش کر رہے تھے کہ قبل اس کے کہ ابن صیاد آپ کو دیکھے، آپ اس کی کوئی بات سن لیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا کہ وہ بستر پر ایک چادر میں لیٹا ہوا گنگنا رہا ہے، سو ابن صیاد کی ماں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کے تنوں کی اوٹ لے رہے ہیں، تو اس نے ابن صیاد سے کہا: اے صاف! (یہ ابن صیاد کا نام ہے) یہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں، تو ابن صیاد اچھل پڑا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ اسے رہنے دیتی (اطلاع نہ دیتی) تو وہ اپنی اصلیت بیان کر دیتا۔“ یعنی اس کی باتوں سے اس کی اصلیت نمایاں ہو جاتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7355]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2931
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 169 ترقیم شاملہ: -- 7356
قَالَ سَالِمٌ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: " إِنِّي لَأُنْذِرُكُمُوهُ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ، لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ، وَلَكِنْ أَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ تَعَلَّمُوا أَنَّهُ أَعْوَرُ، وَأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ "، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَأَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَوْمَ حَذَّرَ النَّاسَ الدَّجَّالَ إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ، يَقْرَؤُهُ مَنْ كَرِهَ عَمَلَهُ أَوْ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ "، وَقَالَ: " تَعَلَّمُوا أَنَّهُ لَنْ يَرَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، حَتَّى يَمُوتَ "،
سالم نے کہا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں (خطبہ دینے کے لیے) کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریف کی جس کا وہ اہل ہے، پھر آپ نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: ”میں تمھیں اس سے خبردار کر رہا ہوں، اور ہر نبی نے اپنی قوم کو اس سے خبردار کیا ہے، بے شک حضرت نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے خبردار کیا، لیکن میں تمھیں اس کے متعلق ایک ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی، اچھی طرح جان لو کہ وہ کانا ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کانا نہیں ہے۔“ ابن شہاب نے کہا: مجھے عمر بن ثابت انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے (روایت کرتے ہوئے) خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس روز لوگوں کو دجال کے بارے میں خبردار کیا تو فرمایا: ”اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہوا ہے: ’كافر‘ ہر وہ آدمی جو اس کے عمل کو ناپسند کرے گا اسے پڑھ لے گا یا (فرمایا:) ہر مومن اسے پڑھ لے گا۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس بات کو اچھی طرح جان لو کہ تم میں سے کوئی بھی مرنے تک اپنے رب عزوجل کو ہرگز نہیں دیکھ سکے گا۔ (جبکہ دجال کو سب لوگ دیکھ رہے ہوں گے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7356]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں خطاب کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ کے شایانِ شان اس کی تعریف بیان کی، پھر دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں اور ہر نبی نے اس سے اپنی قوم کو خبردار کیا ہے، نوح علیہ السلام نے بھی قوم کو اس سے آگاہ کیا لیکن میں تمہیں اس کے بارے میں ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی، جان لو! وہ کانا ہے اور اللہ تعالیٰ یقیناً کانا نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7356]
ترقیم فوادعبدالباقی: 169
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2930 ترقیم شاملہ: -- 7357
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، حَتَّى وَجَدَ ابْنَ صَيَّادٍ غُلَامًا قَدْ نَاهَزَ الْحُلُمَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مُعَاوِيَةَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ إِلَى مُنْتَهَى حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ، وَفِي الْحَدِيثِ عَنْ يَعْقُوبَ، قَالَ: قَالَ أُبَيٌّ يَعْنِي فِي قَوْلِهِ: لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ، قَالَ: لَوْ تَرَكَتْهُ أُمُّهُ بَيَّنَ أَمْرَهُ،
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے سالم بن عبداللہ نے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کی جماعت کے ساتھ جس میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے، تشریف لے گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کو دیکھا۔ وہ اس وقت بلوغت کی عمر کو پہنچنے کے قریب ایک لڑکا تھا، وہ بنو معاویہ کے مکانوں کے پاس لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ اور عمر بن ثابت کی حدیث کے اختتام تک یونس کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ اور یعقوب سے روایت کردہ حدیث میں کہا: ابی (ابن کعب رضی اللہ عنہ) نے آپ صلی اللہ علی۔ہ وسلم کے فرمان: ”اگر وہ اسے چھوڑ دیتی تو واضح کر دیتا۔“ کے بارے میں کہا، اگر اس کی ماں اسے چھوڑ دیتی تو اپنا معاملہ وہ واضح کر دیتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7357]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ایک گروہ کے ساتھ چلے، ان میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے، حتیٰ کہ ابن صیاد کو پایا، وہ ایک قریب البلوغ لڑکا ہے اور بچوں کے ساتھ بنو معاویہ کے قلعہ کے پاس کھیل رہا ہے اور آگے مذکورہ بالا حدیث عمر بن ثابت کی حدیث کے خاتمہ تک بیان کی اور اس حدیث میں ہے کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے «لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ» کی وضاحت کی، ”اگر اس کی ماں اس کو چھوڑ دیتی (اس کو آگاہ نہ کرتی) وہ اپنا معاملہ واضح کر دیتا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7357]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2930
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2930 ترقیم شاملہ: -- 7358
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَهُوَ غُلَامٌ بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ وَصَالِحٍ، غَيْرَ أَنَّ عَبْدَ بْنَ حُمَيْدٍ لَمْ يَذْكُرْ حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ، فِي انْطِلَاقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ إِلَى النَّخْلِ.
عبدبن حمید اور سلمہ بن ثویب دونوں نے ہمیں عبدالرزاق سے حدیث بیان کی، (انہوں نے کہا:) ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے چند لوگوں کے ساتھ، جن میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے، ابن صیاد کے قریب سے گزرے، وہ اس وقت لڑکا تھا اور بنو مقالہ کے مکانوں کے قریب لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ (آگے) جس طرح یونس اور صالح کی حدیث ہے مگر عبدحمید نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھجوروں کے باغ میں جانے کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7358]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ایک گروہ کے ساتھ ابنِ صیاد کے پاس سے گزرے، ان میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہ بنو مغالہ کے قلعے کے پاس بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اور وہ نوجوان تھا، آگے مذکورہ بالا روایت کے معنی روایت ہے، لیکن شعبہ کی روایت میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے ساتھ نخلستان کی طرف جانے کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7358]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2930
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2932 ترقیم شاملہ: -- 7359
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: لَقِيَ ابْنُ عُمَرَ ابْنَ صَائِدٍ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ قَوْلًا أَغْضَبَهُ، فَانْتَفَخَ حَتَّى مَلَأَ السِّكَّةَ، فَدَخَلَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى حَفْصَةَ وَقَدْ بَلَغَهَا، فَقَالَتْ لَهُ: رَحِمَكَ اللَّهُ مَا أَرَدْتَ مِنْ ابْنِ صَائِدٍ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّمَا يَخْرُجُ مِنْ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا ".
ایوب نے نافع سے روایت کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک راستے میں ابن صیاد سے ملے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کوئی ایسی بات کہی جس نے اسے غصہ دلا دیا تو وہ اتنا پھول گیا کہ اس نے (پوری) گلی کو بھر دیا، پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، ان کو یہ خبر مل چکی تھی، انہوں نے ان سے فرمایا، اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے! تم ابن صیاد سے کیا چاہتے تھے؟ کیا تمھیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”دجال غصہ آنے کی وجہ سے ہی (اپنی حقیقی صورت میں) برآمد ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7359]
حضرت نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مدینہ کے کسی راستے میں ابن صیاد سے ملاقات ہوگئی تو انہوں نے اسے ایسی بات کہی جس سے وہ ناراض ہو گیا اور اس قدر پھول گیا حتیٰ کہ اس نے گلی کو بھر دیا، چنانچہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے اور انہیں واقعہ پہنچ چکا تھا تو انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: اللہ تم پر رحم فرمائے! تم نے ابن صیاد کو کیوں چھیڑا؟ کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا ظہور کسی غصے کے آنے پر ہوگا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7359]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2932
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2932 ترقیم شاملہ: -- 7360
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَنِ بْنِ يَسَارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: كَانَ نَافِعٌ، يَقُولُ: ابْنُ صَيَّادٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ : لَقِيتُهُ مَرَّتَيْنِ، قَالَ: فَلَقِيتُهُ، فَقُلْتُ: لِبَعْضِهِمْ هَلْ تَحَدَّثُونَ أَنَّهُ هُوَ؟، قَالَ: لَا وَاللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ: كَذَبْتَنِي وَاللَّهِ لَقَدْ أَخْبَرَنِي بَعْضُكُمْ أَنَّهُ لَنْ يَمُوتَ حَتَّى يَكُونَ أَكْثَرَكُمْ مَالًا وَوَلَدًا، فَكَذَلِكَ هُوَ زَعَمُوا الْيَوْمَ، قَالَ: فَتَحَدَّثْنَا ثُمَّ فَارَقْتُهُ، قَالَ: فَلَقِيتُهُ لَقْيَةً أُخْرَى، وَقَدْ نَفَرَتْ عَيْنُهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَتَى فَعَلَتْ عَيْنُكَ مَا أَرَى؟، قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: قُلْتُ: لَا تَدْرِي وَهِيَ فِي رَأْسِكَ، قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ خَلَقَهَا فِي عَصَاكَ هَذِهِ، قَالَ: فَنَخَرَ كَأَشَدِّ نَخِيرِ حِمَارٍ، سَمِعْتُ، قَالَ: فَزَعَمَ بَعْضُ أَصْحَابِي أَنِّي ضَرَبْتُهُ بِعَصًا كَانَتْ مَعِيَ حَتَّى تَكَسَّرَتْ، وَأَمَّا أَنَا فَوَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ، قَالَ: وَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، فَحَدَّثَهَا فَقَالَتْ: مَا تُرِيدُ إِلَيْهِ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّهُ قَدْ، قَالَ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا يَبْعَثُهُ عَلَى النَّاسِ غَضَبٌ يَغْضَبُهُ ".
ابن عون نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی، کہا: نافع کہا کرتے تھے کہ ابن صیاد۔ (اس کے بارے میں) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس سے دوبارہ ملا ہوں۔ ایک بار ملا تو میں نے لوگوں سے کہا کہ تم کہتے تھے کہ ابن صیاد دجال ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں، اللہ کی قسم۔ میں نے کہا کہ اللہ کی قسم! تم نے مجھے جھوٹا کیا۔ تم میں سے بعض لوگوں نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ نہیں مرے گا، یہاں تک کہ تم سب میں زیادہ مالدار اور صاحب اولاد ہو گا، تو وہ آج کے دن ایسا ہی ہے۔ وہ کہتے ہیں پھر ابن صیاد نے ہم سے باتیں کیں۔ پھر میں ابن صیاد سے جدا ہوا۔ کہتے ہیں کہ جب دوبارہ ملا تو اس کی آنکھ پھولی ہوئی تھی۔ میں نے کہا کہ یہ تیری آنکھ کب سے ایسی ہے جو میں دیکھ رہا ہوں؟ وہ بولا کہ مجھے معلوم نہیں۔ میں نے کہا کہ آنکھ تیرے سر میں ہے اور تجھے معلوم نہیں؟ وہ بولا کہ اگر اللہ چاہے تو تیری اس لکڑی میں آنکھ پیدا کر دے۔ پھر ایسی آواز نکالی جیسے گدھا زور سے کرتا ہے۔ انہوں نے کہا: میرے ساتھیوں میں سے ایک سمجھتا ہے کہ میرے پاس جو ڈنڈا تھا میں نے اسے اس کے ساتھ اتنا مارا کہ وہ ڈنڈا ٹوٹ گیا لیکن میں، واللہ! مجھے کچھ پتہ نہ چلا۔ نافع نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ام المؤمنین (حفصہ رضی اللہ عنہا) کے پاس گئے اور ان سے یہ حال بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ ابن صیاد سے تیرا کیا کام تھا؟ کیا تو نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اول چیز جو دجال کو لوگوں پر بھیجے گی، وہ اس کا غصہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7360]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں ابن صیاد کو دو دفعہ ملا ہوں۔ میں اسے ملا تو میں نے کسی سے کہا: کیا تم (اس کے ساتھی) یہ کہتے ہو کہ یہ وہی (دجال) ہے؟ اس نے کہا: نہیں، میں نے کہا: تم مجھے جھوٹ بتاتے ہو، اللہ کی قسم! مجھے تم میں سے ہی بعض نے بتایا ہے کہ وہ ہرگز نہیں مرے گا، یہاں تک کہ وہ تم سب سے زیادہ مال اور اولاد والا ہو جائے گا، تو وہ آج کے دن ایسا ہی ہے۔ وہ کہتے ہیں: پھر ابن صیاد نے ہم سے باتیں کیں۔ پھر میں ابن صیاد سے جدا ہوا۔ کہتے ہیں کہ جب میں اسے دوبارہ ملا تو اس کی آنکھ پھولی ہوئی تھی۔ میں نے کہا: یہ تیری آنکھ کب سے ایسی ہے جیسے میں دیکھ رہا ہوں؟ وہ بولا: مجھے معلوم نہیں۔ میں نے کہا: آنکھ تیرے سر میں ہے اور تجھے معلوم نہیں؟ وہ بولا: اگر اللہ چاہے تو تیری اس لکڑی میں آنکھ پیدا کر دے۔ پھر اس نے ایسی آواز نکالی جیسے گدھا زور سے نکالتا ہے۔ انہوں نے کہا: میرے ساتھیوں میں سے ایک سمجھتا ہے کہ میرے پاس جو ڈنڈا تھا میں نے اسے اس کے ساتھ اتنا مارا کہ وہ ڈنڈا ٹوٹ گیا لیکن میں، واللہ! مجھے کچھ پتہ نہ چلا۔ نافع رحمہ اللہ نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے یہ حال بیان کیا تو انہوں نے کہا: ابن صیاد سے تمہارا کیا کام تھا؟ کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اول چیز جو دجال کو لوگوں پر بھیجے گی، وہ اس کا غصہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7360]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2932
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة