صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1252. باب سجود التلاوة - ذكر ما يستحب للمرء أن يسجد عند قراءته سورة ص
قرآن کی تلاوت کے دوران سجدہ کرنے کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ جب وہ سورہ ص پڑھے تو سجدہ کرے
حدیث نمبر: 2765
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلالٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ص وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ نَزَلَ فَسَجَدَ، وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمٌ آخَرُ قَرَأَهَا، فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَنَشَّزَ النَّاسُ لِلسُّجُودِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَنَشَّزْتُمْ لِلسُّجُودِ"، فَنَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدُوا .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ ص کی تلاوت کی آپ اس وقت منبر پر موجود تھے جب آپ سجدے کے مقام پر پہنچے تو منبر سے نیچے اترے۔ آپ نے سجدہ تلاوت کیا آپ کے ہمراہ لوگوں نے بھی سجدہ کیا جب اگلا دن آیا تو آپ نے قرأت کی سجدہ تلاوت کے مقام پر پہنچے، تو لوگ سجدہ کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ ایک نبی کی توبہ کا واقعہ ہے، لیکن میں دیکھ رہا ہوں تم لوگ سجدہ کرنے کے لیے تیار ہو پھر آپ منبر سے نیچے اترے آپ نے سجدہ کیا، اور لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2765]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2754»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1271).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم