🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب في المحافظة على وقت الصلوات
باب: اوقات نماز کی حفاظت اور اہتمام کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 427
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، فَقَالَ أَخْبِرْنِي مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ، قَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْهُ؟ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: نَعَمْ، كُلُّ ذَلِكَ، يَقُولُ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَأَنَا سَمِعْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ ذَلِكَ".
عمارہ بن رویبہ کہتے ہیں کہ اہل بصرہ میں سے ایک آدمی نے ان سے پوچھا اور کہا: آپ مجھے ایسی بات بتائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: وہ آدمی جہنم میں داخل نہ ہو گا جس نے سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھی، اس شخص نے کہا: کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ یہ جملہ اس نے تین بار کہا، انہوں نے کہا: ہاں، ہر بار وہ یہی کہتے تھے: میرے دونوں کانوں نے اسے سنا ہے اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے، پھر اس شخص نے کہا: میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے فرماتے سنا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 427]
جناب ابوبکر بن عمارہ بن رویبہ اپنے والد (عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ اہل بصرہ کے کسی شخص نے ان سے کہا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے، اس میں سے کچھ مجھے بھی بیان فرمائیے۔ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: دوزخ میں نہیں جائے گا وہ آدمی جس نے سورج طلوع ہونے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے کی نمازیں پڑھیں۔ اس نے کہا: کیا یہ آپ نے ان سے خود سنا ہے؟ اس نے تین بار (ایسا ہی) کہا۔ انہوں نے جواب دیا: ہاں! اور ہر بار کہتے کہ میں نے اسے اپنے کانوں سے سنا ہے اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے۔ تو اس آدمی نے کہا: میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی فرماتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 427]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 37 (634)، سنن النسائی/الصلاة 13 (472)، 21 (488)، (تحفة الأشراف: 10378)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/136، 261) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: اس حدیث میں نماز فجر اور عصر کی خاص اہمیت کا بیان ہے۔ اور کہا جا سکتا ہے کہ جو ان کی پابندی کرے گا وہ باقی نمازوں کی بھی پابندی کرے گا یا اسے توفیق مل جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (634)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمارة بن رويبة الثقفي، أبو زهيرصحابي
👤←👥أبو بكر بن عمارة بن روبية، أبو بكر
Newأبو بكر بن عمارة بن روبية ← عمارة بن رويبة الثقفي
صدوق حسن الحديث
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي خالد البجلي ← أبو بكر بن عمارة بن روبية
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
472
لن يلج النار من صلى قبل طلوع الشمس وقبل غروبها
سنن النسائى الصغرى
488
لا يلج النار أحد صلى قبل طلوع الشمس وقبل أن تغرب
صحيح مسلم
1436
لن يلج النار أحد صلى قبل طلوع الشمس وقبل غروبها
صحيح مسلم
1437
لا يلج النار من صلى قبل طلوع الشمس وقبل غروبها
سنن أبي داود
427
لا يلج النار رجل صلى قبل طلوع الشمس وقبل أن تغرب
مسندالحميدي
884
لن يلج النار أحد صلى قبل طلوع الشمس، ولا قبل غروبها
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 427 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 427
427۔ اردو حاشیہ:
اس حدیث میں نماز فجر اور عصر کی خاص اہمیت کا بیان ہے۔ اور کہا جا سکتا ہے کہ جو ان کی پابندی کرے گا وہ باقی نمازوں کی بھی پابندی کرے گا یا اسے توفیق مل جائے گی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 427]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 472
نماز عصر کی فضیلت کا بیان۔
عمارہ بن رویبہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھے گا وہ ہرگز جہنم کی آگ میں داخل نہیں ہو گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 472]
472 ۔ اردو حاشیہ: عصر اور فجر کی نمازیں مشکل اوقات میں ہیں۔ عصر کا وقت کاروبار اور مصروفیت کا وقت ہوتا ہے اور فجر کا وقت نیند اور غفلت کا، تو جو شخص ان دو نمازوں کو باجماعت پابندی سے ادا کرتا ہے وہ باقی نمازوں کو بدرجۂ اولیٰ پابندی سے ادا کرے گا۔ اور نماز دین کی بنیاد ہے، لہٰذا وہ پکا مومن ہو گا، اس لیے ہرگز آگ میں نہ جائے گا۔ واللہ اعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 472]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 488
نماز باجماعت کی فضیلت کا بیان۔
عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا جو سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھے گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 488]
488 ۔ اردو حاشیہ: اس حدیث میں نمازباجماعت کا ذکر نہیں، صرف فجر اور عصر کی نماز کا ذکر ہے، گویا نماز پڑھنے سے مراد باجماعت نماز پڑھنا ہی ہے۔ علیحدہ علیحدہ یا بے وقت نماز پڑھنا قابل تعریف نہیں۔ (دیکھیے حدیث نمبر472)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 488]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:884
884- سیدنا عمارہ بن رویبہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا، جو سورج نکلنے سے پہلے اور سورج غروب ہونے سے پہلے کی نماز ادا کرتا ہو۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:884]
فائدہ:
ان احادیث میں نماز فجر اور نماز عصر کی فضیلت و عظمت کا بیان ہے کہ ان نمازوں میں دن رات کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ نیز یہ اوقات انتہائی بابرکت ہیں کہ ان اوقات کی قدر کرنے والا اور ان نمازوں کا خاص اہتمام کرنے والا گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے اور جنت کا وارث ٹھہرتا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں نماز فجر وعصر انتہائی عظمت کی حامل نمازیں ہیں کیونکہ ان نمازوں میں فرشتوں کے دونوں گروہ حاضر ہوتے ہیں جبکہ دیگر نمازوں میں فرشتوں کے ایک گروہ کی حاضری ہوتی ہے۔ اور احادیث میں یہ بھی وارد ہے کہ نماز فجر کے بعد رزق کی تقسیم ہوتی ہے اور دن کے آخری وقت میں اعمال بلند کیے جاتے ہیں، چنانچہ جو شخص ان اوقات میں طاعت و عبادت میں مشغول ہو اس کے رزق و عمل میں برکت ڈال دی جاتی ہے۔ (فتح الباری: 2 / 50)
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 883]

Sunan Abi Dawud Hadith 427 in Urdu