🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

85. - باب حرمة المناكحة - ذكر الزجر عن تزويج المطلقة البائنة بعد تزويجها زوجا آخر الزوج الأول قبل أن يذوق عسيلتها الزوج الثاني
نکاح کی حرمت کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ مطلقہ بائنہ کو اس کے پہلے شوہر سے دوسرے شوہر سے نکاح کے بعد اس وقت تک نکاح کیا جائے جب تک دوسرا شوہر اس کی عسيلہ نہ چکھ لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4119
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ، فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا، فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، أَتَرْجِعُ إِلَى زَوْجِهَا الأَوَّلِ؟، قَالَ:" لا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا مَا ذَاقَ صَاحِبُهَا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: عُمُومُ الْخَطَّابِ فِي الْكِتَابِ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ سورة البقرة آية 230، وَأَبَاحَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِلزَّوْجِ الأَوَّلِ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِهَا بَعْدَ أَنْ تَزَوَّجَهَا زَوْجٌ آخَرَ، وَفَسَّرَتْهُ السُّنَّةُ: أَنَّهَا لا تَحِلُّ لِلزَّوْجِ الأَوَّلِ حَتَّى يَكُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الزَّوْجِ الثَّانِي وَطْءٌ بِذَوَاقِ الْعُسَيْلَةِ، ثُمَّ تَبِينُ عَنْهُ بِطَلاقٍ، أَوْ وَفَاةٍ، ثُمَّ تَحِلُّ حِينَئِذٍ لِلزَّوْجِ الأَوَّلِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دیتا ہے پھر وہ عورت کسی اور شخص کے ساتھ شادی کرتی ہے اور وہ دوسرا شخص اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دیتا ہے تو کیا وہ عورت اپنے پہلے شوہر کے پاس واپس جا سکتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں جب تک (وہ دوسرا شوہر) اس عورت کا شہد نہیں چکھ لیتا جو اس کے پہلے شوہر نے چکھا تھا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) کتاب اللہ میں یہ حکم عمومی طور پر بیان ہوا ہے۔ اگر وہ مرد اس عورت کو طلاق دے دیتا ہے تو وہ عورت اس مرد کیلئے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی جب تک وہ اس کے بعد کسی دوسرے شخص کے ساتھ شادی نہ کر لے۔ تو اللہ تعالیٰ نے پہلے شوہر کیلئے یہ بات جائز قرار دی ہے وہ اس عورت کے ساتھ اس وقت شادی کر سکتا ہے جب عورت کسی دوسرے شخص کے ساتھ شادی کر لے، لیکن سنت نے اس کی وضاحت کی ہے ایسی عورت پہلے شوہر کیلئے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی جب تک اس عورت اور دوسرے شوہر کے درمیان صحبت نہیں ہو جاتی جو شہد چکھنے کی صورت ہے پھر اس کے بعد وہ عورت طلاق یا شوہر کے انتقال کی وجہ سے اس سے جدا ہو جائے تو اس وقت وہ پہلے شوہر کیلئے حلال ہو گی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 4119]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2639، 5260، 5261، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1433، وابن الجارود فى "المنتقى"، 740، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4119، 4120، 4122، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2309، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1118، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1932، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1985، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14414، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3977، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24692» «رقم طبعة با وزير 4107»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (6/ 298): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4120
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا، ثُمَّ تَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ، فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، ثُمَّ أَرَادَ الأَوَّلُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا؟، قَالَ:" لا حَتَّى يَذُوقَ الآخَرُ عُسَيْلَتَهَا، وَتَذُوقَ عُسَيْلَتَهُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ سورة البقرة آية 230 فَأَبَاحَ اللَّهُ لَهَا أَنْ تَنْكِحَ الزَّوْجَ الأَوَّلَ بَعْدَ أَنْ نَكَحَهَا الزَّوْجُ الثَّانِي، وَأَبَانَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَادَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا مِنْ قَوْلِهِ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ سورة البقرة آية 230 إِذْ هُوَ الْمُبَيُّنُ لِمَجْمَلِ الْخَطَّابِ فِي الْكِتَابِ، إِذِ الْمُرَادُ مِنْ قَوْلِهِ: حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ سورة البقرة آية 230 الْوَطْءُ دُونَ عُقْدَةِ النِّكَاحِ.
سیدہ عائشہ صدیقه رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے بارے میں، جو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیتا ہے پھر وہ عورت دوسرے شخص کے ساتھ شادی کر لیتی ہے اور وہ دوسرا شخص صحبت کرنے سے پہلے اس عورت کو طلاق دے دیتا ہے اور پہلا شوہر اس عورت کے ساتھ شادی کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے: نہیں جب تک دوسرا شوہر اس عورت کے شہد کو چکھ نہیں لیتا اور وہ عورت اس دوسرے شخص کے شہد کو چکھ نہیں لیتی (اس وقت تک یہ جائز نہیں ہے) (امام ابن حبان رحمہ اللہ و فرماتے ہیں:) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ اگر وہ مرد اس عورت کو طلاق دیدے تو وہ عورت اس مرد کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی جب تک وہ اس مرد کے علاوہ کسی اور مرد کے ساتھ شادی نہ کر لے۔ تو یہاں اللہ تعالیٰ نے عورت کیلئے یہ بات مباح قرار دی ہے وہ پہلے شوہر کے ساتھ اس وقت نکاح کر سکتی ہے جب وہ دوسرے شوہر کے ساتھ بھی نکاح کر چکی ہو لیکن مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی مراد کو بیان کیا ہے (ارشاد باری تعالیٰ ہے) یہاں تک کہ وہ عورت دوسرے شخص کے ساتھ شادی کر لے جو پہلے کے علاوہ ہو۔ تو کتاب میں مجمل کا بیان یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان یہاں تک کہ وہ اس پہلے شوہر کے علاوہ کسی کے ساتھ نکاح نہیں کر لیتی اس سے مراد نکاح کا عقد کرنا نہیں، بلکہ صحبت کرنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 4120]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2639، 5260، 5261، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1433، وابن الجارود فى "المنتقى"، 740، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4119، 4120، 4122، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2309، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1118، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1932، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1985، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14414، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3977، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24692» «رقم طبعة با وزير 4108»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں