یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
85. - باب حرمة المناكحة - ذكر الزجر عن تزويج المطلقة البائنة بعد تزويجها زوجا آخر الزوج الأول قبل أن يذوق عسيلتها الزوج الثاني
نکاح کی حرمت کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ مطلقہ بائنہ کو اس کے پہلے شوہر سے دوسرے شوہر سے نکاح کے بعد اس وقت تک نکاح کیا جائے جب تک دوسرا شوہر اس کی عسيلہ نہ چکھ لے
حدیث نمبر: 4119
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ، فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا، فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، أَتَرْجِعُ إِلَى زَوْجِهَا الأَوَّلِ؟، قَالَ:" لا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا مَا ذَاقَ صَاحِبُهَا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: عُمُومُ الْخَطَّابِ فِي الْكِتَابِ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ سورة البقرة آية 230، وَأَبَاحَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِلزَّوْجِ الأَوَّلِ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِهَا بَعْدَ أَنْ تَزَوَّجَهَا زَوْجٌ آخَرَ، وَفَسَّرَتْهُ السُّنَّةُ: أَنَّهَا لا تَحِلُّ لِلزَّوْجِ الأَوَّلِ حَتَّى يَكُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الزَّوْجِ الثَّانِي وَطْءٌ بِذَوَاقِ الْعُسَيْلَةِ، ثُمَّ تَبِينُ عَنْهُ بِطَلاقٍ، أَوْ وَفَاةٍ، ثُمَّ تَحِلُّ حِينَئِذٍ لِلزَّوْجِ الأَوَّلِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دیتا ہے پھر وہ عورت کسی اور شخص کے ساتھ شادی کرتی ہے اور وہ دوسرا شخص اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دیتا ہے تو کیا وہ عورت اپنے پہلے شوہر کے پاس واپس جا سکتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں جب تک (وہ دوسرا شوہر) اس عورت کا شہد نہیں چکھ لیتا جو اس کے پہلے شوہر نے چکھا تھا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) کتاب اللہ میں یہ حکم عمومی طور پر بیان ہوا ہے۔ ”اگر وہ مرد اس عورت کو طلاق دے دیتا ہے تو وہ عورت اس مرد کیلئے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی جب تک وہ اس کے بعد کسی دوسرے شخص کے ساتھ شادی نہ کر لے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے پہلے شوہر کیلئے یہ بات جائز قرار دی ہے وہ اس عورت کے ساتھ اس وقت شادی کر سکتا ہے جب عورت کسی دوسرے شخص کے ساتھ شادی کر لے، لیکن سنت نے اس کی وضاحت کی ہے ایسی عورت پہلے شوہر کیلئے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی جب تک اس عورت اور دوسرے شوہر کے درمیان صحبت نہیں ہو جاتی جو شہد چکھنے کی صورت ہے پھر اس کے بعد وہ عورت طلاق یا شوہر کے انتقال کی وجہ سے اس سے جدا ہو جائے تو اس وقت وہ پہلے شوہر کیلئے حلال ہو گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4119]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2639، 5260، 5261، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1433، وابن الجارود فى "المنتقى"، 740، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4119، 4120، 4122، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2309، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1118، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1932، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1985، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14414، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3977، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24692» «رقم طبعة با وزير 4107»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (6/ 298): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 4119 in Urdu
القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق