صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
6. ذكر البيان بأن عقبة فارقها وتزوجت آخر غيره حين قال له النبي صلى الله عليه وسلم دعها عنك-
- اس بات کا بیان کہ عقبہ نے اس سے جدائی اختیار کی اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "دعها عنك" پر کسی اور سے شادی کی
حدیث نمبر: 4218
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ ابْنَةً لأَبِي إِِهَابِ بْنِ عَزِيزٍ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ لَهُ: قَدْ أَرْضَعْتُ عُقْبَةَ وَالَّتِي تَزَوَّجَ. فَقَالَ لَهَا عُقْبَةُ: مَا أَعْلَمُ أَنَّكِ أَرْضَعْتِينِي وَلا أَخْبَرْتِينِي، فَأَرْسَلَ إِِلَى آلِ أَبِي إِِهَابٍ، فَسَأَلَهُمْ، فَقَالُوا: مَا عَلِمْنَاهَا أَرْضَعَتْ صَاحِبَتَنَا. فَرَكِبَ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ؟" فَفَارَقَهَا عُقْبَةُ، وَنَكَحَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ .
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے ابواہاب بن عزیز کی صاحبزادی کے ساتھ شادی کر لی ایک خاتون ان کے پاس آئی اور ان سے کہا: میں نے عقبہ کو دودھ پلایا ہے اور جس عورت کے ساتھ اس نے شادی کی ہے اسے بھی دودھ پلایا ہے تو عقبہ نے اس عورت سے کہا: مجھے تو اس بات کا علم نہیں ہے تم نے مجھے دودھ پلایا ہے اور نہ ہی تم نے مجھے پہلے اس بارے میں بتایا ہے پھر عقبہ نے ابواہاب کے خاندان والوں کی طرف پیغام بھجوایا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا: تو ان لوگوں نے بھی یہی بتایا کہ ہمیں یہ علم نہیں ہے اس عورت نے اس لڑکی کو دودھ پلایا ہے پھر سیدنا عقبہ سوار ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہوئے انہوں نے اس بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اب کیا ہو سکتا ہے جب کہ یہ بات بیان کی جا چکی ہے تو سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے اس خاتون سے علیحدگی اختیار کی اور اس عورت نے دوسری شادی کر لی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّضَاعِ/حدیث: 4218]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4205»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري