🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

106. باب البيع المنهي عنه - ذكر خبر يوهم بعض المستمعين ممن لم يطلب العلم من مظانه أن بيع المسلم السلاح من الحربي جائز-
ممنوعہ بیوع کا بیان - ایک ایسی خبر کا ذکر جو علم کے بغیر سننے والے کو یہ گمان دے سکتی ہے کہ مسلمان کا کافرِ حربی کو اسلحہ بیچنا جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5010
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ: " كُنْتُ قَيْنًا بِمَكَّةَ، فَعَمِلْتُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ سَيْفًا، فَجِئْتُ أَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ: لا أُعْطِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ، فَقُلْتُ: لا أَكْفُرُ بِمُحَمَّدٍ حَتَّى يُمِيتَكَ اللَّهُ، ثُمَّ يُحْيِيَكَ، قَالَ: إِذَا أَمَاتَنِي اللَّهُ، ثُمَّ يَبْعَثُنِي وَلِي مَالٌ وَوَلَدٌ أَعْطَيْتُكَ، فَقُلْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالا وَوَلَدًا سورة مريم آية 77 الآيَةَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنْ سَبَقَ إِلَى قَلْبِ الْمُسْتَمِعِينَ بِهَذِهِ اللَّفْظَةِ، فَعَمِلْتُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ سَيْفًا فَجِئْتُ أَتَقَاضَاهُ إِبَاحَةُ التِّجَارَةِ إِلَى دُورِ الْحَرْبِ وَبَيْعُ الْمُسْلِمِ الْحَرْبِيَّ مَا يَتَقَوَّى بِهِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَلْيَعْلَمْ أَنَّ هَذَا اسْتِنْبَاطٌ ضَعِيفٌ وَاسْتِدْلالٌ تَالِفٌ، وَذَلِكَ أَنَّ الْوَقْتَ الَّذِي عَمِلَ خَبَّابٌ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ السَّيْفَ فِيهِ لَمْ يُنْزِلِ اللَّهُ فِيهِ آيَةَ الْقِتَالِ سورة الأنفال آية 65، وَلا فَرَضَ الْجِهَادَ، لأَنَّ فَرْضَ الْجِهَادِ وَالأَمْرَ بِقِتَالِ الْمُشْرِكِينَ كَانَ بَعْدَ إِخْرَاجِ أَهْلِ مَكَّةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَسَبِ مَا تَقَدَّمَ ذِكْرُنَا لَهُ، وَهَذِهِ الْقِصَّةُ كَانَتْ بِمَكَّةَ قَبْلَ فَرْضِ اللَّهِ الْجِهَادَ عَلَى النَّاسِ.
سیدنا خباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں مکہ میں لوہار تھا، میں نے عاص بن وائل کے لیے تلوار بنائی، میں اس کے پاس (اس کی قیمت کا) تقاضا کرنے کے لیے آیا، تو اس نے کہا: میں تمہیں اس وقت تک ادائیگی نہیں کروں گا جب تک تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کرتے۔ میں نے کہا: میں اس وقت تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کروں گا، جب تک اللہ تعالیٰ تمہیں موت دے کر دوبارہ زندگی نہیں دیتا۔ اس نے کہا: جب اللہ تعالیٰ مجھے موت دے کر دوبارہ زندگی دے گا اس وقت میرے پاس مال بھی ہو گا اور اولاد بھی ہو گی، تو میں تمہیں ادائیگی کر دوں گا۔ (سیدنا خباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا﴾ [سورة مريم: 77] کیا تم نے اس شخص کو دیکھا ہے جو ہماری آیات کا انکار کرتا ہے اور یہ کہتا ہے: مجھے عنقریب مال اور اولاد دیے جائیں گے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اگر ان الفاظ کو سننے والے افراد کا دل اس طرف چلا جائے یعنی یہ الفاظ کہ میں نے عاص بن وائل کے لیے تلوار بنائی اور پھر میں اس کے پاس (اس کے معاوضے کا) تقاضا کرنے کے لیے آیا (تو اس کو سننے والا یہ سمجھے) کہ دار الحرب میں تجارت کرنا مباح ہے اور مسلمان کا حربی کے ساتھ خرید و فروخت کرنا مباح ہے جبکہ وہ اس کی قیمت کے ذریعے مسلمانوں کو فائدہ پہنچائے، تو یہ بات جان لینی چاہیے کہ یہ کمزور استنباط اور نقصان دہ استدلال ہو گا؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے عاص بن وائل کے لیے یہ کام تلوار بنائی تھی اس وقت اللہ تعالیٰ نے قتال کے حکم سے متعلق آیت نازل نہیں کی تھی اور جہاد کو فرض قرار نہیں دیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاد کی فرضیت اور مشرکین سے قتال کرنے کا حکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ مکرمہ سے تشریف لے جانے کے بعد نازل ہوا تھا جیسا کہ ہم پہلے اس بات کا ذکر کر چکے ہیں اور (سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کا) یہ واقعہ مکہ کا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے لوگوں پر جہاد کو فرض کرنے سے پہلے کا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 5010]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2091، 2275، 2425، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2795، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4885، 5010، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11260، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3162، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11400، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21453» «رقم طبعة با وزير 4989»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (4865). تنبيه!! رقم (4865) = (4885) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں