🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

112. باب مَا يَقْطَعُ الصَّلاَةَ
باب: کن چیزوں کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 702
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ، وَابْنُ كَثِيرٍ الْمَعْنَى، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ الْمُغِيرَةِ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ حَفْصٌ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقْطَعُ صَلَاةَ الرَّجُلِ، وَقَالَا: عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: يَقْطَعُ صَلَاةَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ قَيْدُ آخِرَةِ الرَّحْلِ الْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ وَالْمَرْأَةُ، فَقُلْتُ: مَا بَالُ الْأَسْوَدِ مِنَ الْأَحْمَرِ مِنَ الْأَصْفَرِ مِنَ الْأَبْيَضِ؟ فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (حفص کی روایت میں ہے) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور سلیمان کی روایت میں ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا جب آدمی کے سامنے کجاوہ کے اگلے حصہ کی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو، تو گدھے، کالے کتے اور عورت کے گزر جانے سے اس کی نماز ٹوٹ جائے گی ۱؎۔ میں نے عرض کیا: سرخ، زرد یا سفید رنگ کے کتے کے مقابلے میں کالے کتے کی کیا وجہ ہے؟ تو انہوں نے کہا: میرے بھتیجے! میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کالا کتا شیطان ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 702]
حفص بن عمر کی سند سے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی نماز کو توڑ دیتا ہے۔ اور ان دونوں (عبدالسلام بن مطہر اور ابن کثیر) نے سلیمان بن مغیرہ سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آدمی کی نماز کو کاٹ دیتا ہے جب کہ اس کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کچھ نہ رکھا ہو، گدھا، کالا کتا اور عورت۔ میں (یعنی عبداللہ بن صامت) نے کہا: کالے کتے کی کیا خصوصیت ہے، سرخ ہو یا زرد یا سفید؟ انہوں نے کہا: بھتیجے! میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا جیسے کہ تم نے مجھ سے پوچھا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: کالا کتا شیطان ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 702]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 50 (510)، سنن الترمذی/الصلاة 141 (338)، سنن النسائی/القبلة 7 (751)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 38 (952)، (تحفة الأشراف: 11939)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/149، 151، 155، 160، 161)، سنن الدارمی/الصلاة 128 (1454) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جمہور علماء نے اس روایت کی تاویل یہ کی ہے کہ نماز ٹوٹنے سے مراد نماز میں نقص پیدا ہونا ہے، کیونکہ ان چیزوں کے گزرنے سے مصلی کا دھیان بٹ جاتا ہے اور خشوع و خضوع میں فرق آ جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (510)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 703
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَفَعَهُ شُعْبَةُ قَالَ:" يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْمَرْأَةُ الْحَائِضُ وَالْكَلْبُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَفَهُ سَعِيدٌ، وَهِشَامٌ، وَهَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں (شعبہ نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے): نماز حائضہ عورت اور کتا (مصلی کے سامنے گزرنے) سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید، ہشام اور ہمام نے قتادہ سے، قتادہ نے جابر بن زید سے، جابر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً یعنی ان کا اپنا قول نقل کیا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 703]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، اسے شعبہ نے مرفوع ذکر کیا: نماز کو توڑ دیتی ہے بالغہ عورت اور کتا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اسے سعید، ہشام اور ہمام نے قتادہ سے، انہوں نے جابر بن زید سے روایت کرتے ہوئے ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف کیا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 703]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/القبلہ 7 (752)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 38 (949)، مسند احمد (1/437)، (تحفة الأشراف: 5379) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
صححه ابن خزيمة (832)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 704
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَحْسَبُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى غَيْرِ سُتْرَةٍ، فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلَاتَهُ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْخِنْزِيرُ وَالْيَهُودِيُّ وَالْمَجُوسِيُّ وَالْمَرْأَةُ، وَيُجْزِئُ عَنْهُ إِذَا مَرُّوا بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَى قَذْفَةٍ بِحَجَرٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: فِي نَفْسِي مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ شَيْءٌ كُنْتُ أُذَاكِرُ بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرَهُ، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا جَاءَ بِهِ عَنْ هِشَامٍ وَلَا يَعْرِفُهُ، وَلَمْ أَرَ أَحَدًا يُحَدِّثُ بِهِ عَنْ هِشَامٍ، وَأَحْسَبُ الْوَهْمَ مِنْ ابْنِ أَبِي سَمِينَةَ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبَصْرِيَّ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ وَالْمُنْكَرُ فِيهِ ذِكْرُ الْمَجُوسِيِّ، وَفِيهِ عَلَى قَذْفَةٍ بِحَجَرٍ وَذِكْرُ الْخِنْزِيرِ وَفِيهِ نَكَارَةٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَمْ أَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي سَمِينَةَ، وَأَحْسَبُهُ وَهِمَ لِأَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُنَا مِنْ حِفْظِهِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں، عکرمہ کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں: جب تم میں سے کوئی شخص بغیر سترہ کے نماز پڑھے تو اس کی نماز کتا، گدھا، سور، یہودی، مجوسی اور عورت کے گزرنے سے باطل ہو جاتی ہے، البتہ اگر یہ ایک پتھر کی مار کی دوری سے گزریں تو نماز ہو جائے گی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کے سلسلے میں میرے دل میں کچھ کھٹک اور شبہ ہے، میں اس حدیث کے متعلق ابراہیم اور دوسرے لوگوں سے مذاکرہ کرتا یعنی پوچھتا تھا کہ کیا معاذ کے علاوہ کسی اور نے بھی یہ حدیث ہشام سے روایت کی ہے، تو کسی نے مجھے اس کا جواب نہیں دیا اور کسی کو نہیں معلوم تھا کہ اسے ہشام سے کسی اور نے بھی روایت کیا ہے یا نہیں، اور نہ ہی میں نے کسی کو اسے ہشام سے روایت کرتے دیکھا (سوائے معاذ کے)، میرا خیال ہے کہ یہ ابن ابی سمینہ (یعنی بنی ہاشم کے آزاد کردہ غلام محمد بن اسماعیل بصریٰ) کا وہم ہے، اس میں مجوسی کا ذکر منکر ہے، اور اس میں پتھر کی مار کی دوری، اور خنزیر کا ذکر ہے، اس میں بھی نکارت ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث محمد بن اسماعیل بن سمینہ کے علاوہ کسی اور سے نہیں سنی، اور میرا خیال ہے کہ انہیں وہم ہوا ہے، کیونکہ وہ ہم سے اپنے حافظے سے حدیثیں بیان کیا کرتے تھے [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 704]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، کسی راوی نے کہا: میرا خیال ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص بغیر سترے کے نماز پڑھے تو کتا، خنزیر، یہودی، مجوسی اور عورت اس کی نماز توڑ دیتے ہیں۔ مگر جب یہ ایک پتھر پھینکنے کے فاصلے سے گزریں تو نماز کے ٹوٹنے سے کفایت رہتی ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: میرے دل میں اس روایت کے بارے میں کچھ (تردد) سا ہے۔ میں نے ابراہیم وغیرہ سے اس کا مذاکرہ کیا تو کسی نے اسے ہشام سے روایت نہیں کیا، نہ اس کو پہچانتا تھا۔ اور نہ میں نے کسی کو دیکھا جو اسے ہشام سے بیان کرتا ہو۔ اور میرا خیال ہے کہ یہ ابن ابی سمینہ کا وہم ہے۔ اور اس میں منکر حصہ مجوسی، پتھر پھینکنے کا فاصلہ اور خنزیر کا بیان ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث صرف محمد بن اسماعیل بصری سے سنی ہے اور میرا خیال ہے کہ اسے وہم ہوا ہے کیونکہ وہ اپنے حفظ سے بیان کرتا تھا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 704]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6245) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ابن أبی سمینہ ثقہ راوی ہیں، ممکن ہے یحییٰ بن أبی کثیر سے وہم واقع ہوا ہو، نیز یحییٰ مدلس ہیں، ممکن ہے تدلیس سے کام لے کر موقوف کو «أحسبہ» کے ذریعہ مرفوع بنا دیا ہو، ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوفاً یہ روایت صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
شك الراوي في رفعه وفيه علة أخري وھي عنعنة يحيي بن أبي كثير فإنه مدلس
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 37

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 705
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَوْلَى يَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا بِتَبُوكَ مُقْعَدًا، فَقَالَ مَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ يُصَلِّي، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اقْطَعْ أَثَرَهُ"، فَمَا مَشَيْتُ عَلَيْهَا بَعْدُ.
یزید بن نمران کہتے ہیں کہ میں نے تبوک میں ایک اپاہج کو دیکھا، اس نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گدھے پر سوار ہو کر گزرا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کی چال کاٹ دے، تو میں اس دن کے بعد سے گدھے پر سوار ہو کر چل نہیں سکا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 705]
جناب یزید بن نمران نے بیان کیا کہ میں نے تبوک میں ایک آدمی دیکھا جو لنجا تھا (یعنی چل پھر نہ سکتا تھا)۔ اس نے بتایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سے گزرا تھا، میں گدھے پر سوار تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اقْطَعْ أَثَرَهُ» اے اللہ! اس کے قدم کاٹ دے۔ چنانچہ اس کے بعد سے میں اپنے قدموں پر نہیں چل سکا ہوں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 705]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: 15684)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/64، 5/376) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی مولی یزید مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سعيد مولي ليزيد بن نمران مجهول (تقريب : 2430)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 38

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 706
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ يَعْنِي الْمَذْحِجِيَّ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ زَادَ، قَالَ: قَطَعَ صَلَاتَنَا قَطَعَ اللَّهُ أَثَرَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ أَبُو مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ فِيهِ: قَطَعَ صَلَاتَنَا.
سعید سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ہماری نماز کاٹ دی، اللہ اس کی چال کاٹ دے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابومسہر نے بھی سعید سے روایت کیا ہے، جس میں صرف اتنا ہے: اس نے ہماری نماز کاٹ دی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 706]
سعید نے مذکورہ سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی بیان کیا اور مزید کہا اس نے ہماری نماز توڑ دی، «قَطَعَ اللَّهُ عَقِبَهُ» اللہ اس کے قدم توڑ دے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ابومسہر نے سعید سے روایت کیا تو اس نے صرف اس قدر کہا اس نے ہماری نماز توڑ دی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 706]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15684) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث الآتي(707)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 38

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 707
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ. ح وحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ نَزَلَ بِتَبُوكَ وَهُوَ حَاجٌّ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُقْعَدٍ فَسَأَلَهُ عَنْ أَمْرِهِ، فَقَالَ لَهُ: سَأُحَدِّثُكَ حَدِيثًا فَلَا تُحَدِّثْ بِهِ مَا سَمِعْتَ أَنِّي حَيٌّ،" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ بِتَبُوكَ إِلَى نَخْلَةٍ، فَقَالَ: هَذِهِ قِبْلَتُنَا، ثُمَّ صَلَّى إِلَيْهَا، فَأَقْبَلْتُ وَأَنَا غُلَامٌ أَسْعَى حَتَّى مَرَرْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا، فَقَالَ: قَطَعَ صَلَاتَنَا قَطَعَ اللَّهُ أَثَرَهُ"، فَمَا قُمْتُ عَلَيْهَا إِلَى يَوْمِي هَذَا.
غزوان کہتے ہیں کہ وہ حج کو جاتے ہوئے تبوک میں اترے، انہیں ایک اپاہج آدمی نظر آیا، انہوں نے اس سے اس کا حال پوچھا، تو اس آدمی نے غزوان سے کہا کہ میں تم سے ایک حدیث بیان کروں گا، بشرطیکہ تم اس حدیث کو کسی سے اس وقت تک بیان نہ کرنا جب تک تم یہ سننا کہ میں زندہ ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک میں ایک درخت کی آڑ میں اترے اور فرمایا: یہ ہمارا قبلہ ہے، پھر آپ نے اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنی شروع کی، میں ایک لڑکا تھا، دوڑتا ہوا آیا یہاں تک کہ آپ کے اور درخت کے بیچ سے ہو کر گزر گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ہماری نماز کاٹ دی، اللہ اس کا قدم کاٹ دے، چنانچہ اس روز سے آج تک میں اس پر کھڑا نہ ہو سکا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 707]
سعید بن غزوان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حج کو جاتے ہوئے تبوک میں پڑاؤ کیا۔ انہوں نے ایک لنجا آدمی دیکھا (جو چل نہ سکتا تھا)، انہوں نے اس کی کیفیت پوچھی تو اس نے کہا: میں تمہیں بتاتا ہوں مگر جب تک تجھے یہ معلوم رہے کہ میں زندہ ہوں کسی کو بتانا نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک میں ایک کھجور تلے پڑاؤ کیے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ہمارا قبلہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف نماز پڑھنے لگے، چنانچہ میں بھاگتا ہوا آیا جبکہ میں لڑکا ہی تھا، حتیٰ کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سترے کے درمیان میں سے گزر گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ہماری نماز توڑی، «قَطَعَ اللَّهُ أَثَرَهُ» اللہ اس کے قدم توڑ دے۔چنانچہ اس دن سے آج تک میں ان پر کھڑا نہیں ہو سکا ہوں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 707]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15656) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی سعید بن غزوان مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سعيد بن غزوان مستور و أبو ه مجهول (تقريب : 2378،5355)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 38

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں