🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

88. فصل في الأشربة - ذكر وصف الدباء والحنتم والنقير والمزفت الذي نهي عن الانتباذ فيها-
پانیوں (مشروبات) کے بیان میں ایک فصل - یہ وصف کہ دبّاء، حنتم، النقير اور المزفت وہ برتن ہیں جن میں ڈالنا منع کیا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5407
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ، فَأَمَّا الدُّبَّاءُ، فَكَانَتْ تُخْرَطُ عَنَاقِيدُ الْعِنَبِ، فَنَجْعَلُهُ فِي الدُّبَّاءِ، ثُمَّ نَدْفِنُهَا حَتَّى تَمُوتَ، وَأَمَّا الْحَنْتَمُ، فَجِرَارٌ كُنَّا نُؤْتَى فِيهَا بِالْخَمْرِ مِنَ الشَّامِ، وَأَمَّا النَّقِيرُ، فَإِنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَعْمِدُونَ إِلَى أُصُولِ النَّخْلَةِ فَيَنْقِرُونَهَا، وَيَجْعَلُونَ فِيهَا الرُّطَبَ وَالْبُسْرَ، فَيَدْفِنُونَهَا فِي الأَرْضِ حَتَّى تَمُوتَ، وَأَمَّا الْمُزَفَّتُ، فَهَذِهِ الزِّقَاقُ الَّتِي فِيهَا الزِّفْتُ" .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں «الدُّبَّاءُ» دباء، «الْحَنْتَمُ» حنتم، «النَّقِيرُ» نقیر اور «الْمُزَفَّتُ» مزفت سے منع فرمایا ہے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) جہاں تک دباء کا تعلق ہے تو انگور کی بیلوں کو توڑ کر ہم اسے دباء (نامی برتن میں) رکھ دیتے، پھر اسے دفن کر دیتے یہاں تک کہ وہ مر جاتی ہے۔ جہاں تک حنتم کا تعلق ہے تو یہ ایک گھڑا ہے جس میں ہم شام سے شراب لاتے تھے۔ جہاں تک نقیر کا تعلق ہے تو اہل مدینہ یہ کرتے تھے کہ کھجور کی جڑ لے کر اسے کھوکھلا کرتے تھے، اس میں تازہ اور خشک کھجوریں ڈالتے تھے، اسے زمین میں دفن کر دیتے تھے یہاں تک کہ وہ مر جاتی تھی۔ جہاں تک مزفت کا تعلق ہے تو اس سے مراد وہ برتن ہے جس میں زفت ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ/حدیث: 5407]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5407، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17561، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 923» «رقم طبعة با وزير 5383»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الإرواء».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں