🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. باب فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ
باب: تہجد کی رکعتوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1344
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ:" يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا" كَمَا قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ.
اس سند سے بھی سعید نے یہی حدیث بیان کی ہے اس میں ہے: آپ اپنا سلام ہمیں سناتے جیسا کہ یحییٰ بن سعید نے کہا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1344]
سعید رحمہ اللہ نے یہی حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: سلام کہتے اس طرح کہ ہمیں سنواتے جیسے کہ یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ نے روایت کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1344]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (1343)، (تحفة الأشراف: 16104) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديثين السابقين (1342، 1343) والآتي (1345)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1345
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ: بِنَحْوِ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَيُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يُسْمِعُنَا".
اس سند سے بھی سعید نے یہی حدیث روایت کی ہے ابن بشار نے یحییٰ بن سعید کی طرح حدیث نقل کی مگر اس میں «ويسلم تسليمة يسمعنا» کے الفاظ ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1345]
محمد بن بشار رحمہ اللہ نے ابن عدی رحمہ اللہ سے، انہوں نے سعید رحمہ اللہ سے یہی حدیث روایت کی۔ ابن بشار رحمہ اللہ نے یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کی حدیث کی مانند بیان کیا، مگر کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام کہتے ایک سلام اور ہمیں سنواتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1345]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (1343)، (تحفة الأشراف: 16104) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (1342، 1343، 1344) قتادة صرح بالسماع عند البيھقي (2/499، 500)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1346
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ الدِّرْهَمِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سُئِلَتْ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، فَقَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ فَيَرْكَعُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ وَيَنَامُ وَطَهُورُهُ مُغَطًّى عِنْدَ رَأْسِهِ وَسِوَاكُهُ مَوْضُوعٌ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ سَاعَتَهُ الَّتِي يَبْعَثُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ وَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُومُ إِلَى مُصَلَّاهُ فَيُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ يَقْرَأُ فِيهِنَّ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ وَمَا شَاءَ اللَّهُ وَلَا يَقْعُدُ فِي شَيْءٍ مِنْهَا حَتَّى يَقْعُدَ فِي الثَّامِنَةِ، وَلَا يُسَلِّمُ وَيَقْرَأُ فِي التَّاسِعَةِ، ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَدْعُو بِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَهُ وَيَسْأَلَهُ وَيَرْغَبَ إِلَيْهِ وَيُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً شَدِيدَةً يَكَادُ يُوقِظُ أَهْلَ الْبَيْتِ مِنْ شِدَّةِ تَسْلِيمِهِ، ثُمَّ يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَيَرْكَعُ وَهُوَ قَاعِدٌ، ثُمَّ يَقْرَأُ الثَّانِيَةَ فَيَرْكَعُ وَيَسْجُدُ وَهُوَ قَاعِدٌ، ثُمَّ يَدْعُو مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ، ثُمَّ يُسَلِّمُ وَيَنْصَرِفُ، فَلَمْ تَزَلْ تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَّنَ فَنَقَّصَ مِنَ التِّسْعِ ثِنْتَيْنِ فَجَعَلَهَا إِلَى السِّتِّ وَالسَّبْعِ وَرَكْعَتَيْهِ وَهُوَ قَاعِدٌ حَتَّى قُبِضَ عَلَى ذَلِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
زرارہ بن اوفی سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز (تہجد) کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء جماعت کے ساتھ پڑھتے پھر اپنے گھر والوں کے پاس واپس آتے اور چار رکعتیں پڑھتے پھر اپنے بستر پر جاتے اور سو جاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے آپ کے وضو کا پانی ڈھکا رکھا ہوتا اور مسواک رکھی ہوتی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ رات کو جب چاہتا آپ کو اٹھا دیتا تو آپ (اٹھ کر) مسواک کرتے اور پوری طرح سے وضو کرتے، پھر اپنی جائے نماز پر کھڑے ہوتے اور آٹھ رکعتیں پڑھتے، ان میں سے ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور اس کے ساتھ قرآن کی کوئی سورۃ اور جو اللہ کو منظور ہوتا پڑھتے اور کسی رکعت کے بعد نہیں بیٹھتے یہاں تک کہ جب آٹھویں رکعت ہو جاتی تو قعدہ کرتے اور سلام نہیں پھیرتے بلکہ نویں رکعت پڑھتے پھر قعدہ کرتے، اور اللہ جو دعا آپ سے کروانا چاہتا، کرتے اور اس سے سوال کرتے اور اس کی طرف متوجہ ہوتے اور ایک سلام پھیرتے اس قدر بلند آواز سے کہ قریب ہوتا کہ گھر کے لوگ جاگ جائیں، پھر بیٹھ کر سورۃ فاتحہ کی قرآت کرتے اور رکوع بھی بیٹھ کر کرتے، پھر دوسری رکعت پڑھتے اور بیٹھے بیٹھے رکوع اور سجدہ کرتے، پھر اللہ جتنی دعا آپ سے کروانا چاہتا کرتے پھر سلام پھیرتے اور نماز سے فارغ ہو جاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کا معمول یہی رہا، یہاں تک کہ آپ موٹے ہو گئے تو آپ نے نو میں سے دو رکعتیں کم کر دیں اور اسے چھ اور سات رکعتیں کر لیں اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے، وفات تک آپ کا یہی معمول رہا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1346]
بہز بن حکیم نے کہا کہ زرارہ بن اوفی بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: آپ عشاء کی جماعت کے بعد گھر لوٹتے تو چار رکعت (سنت عشاء) پڑھتے۔ پھر اپنے بستر پر آ جاتے اور سو جاتے۔ اور آپ کے وضو کا پانی آپ کے سرہانے ڈھانپ کر رکھا ہوتا، مسواک بھی رکھی ہوتی حتیٰ کہ اللہ آپ کو رات میں آپ کے مقررہ وقت پر اٹھا دیتا۔ پھر آپ (جاگتے) مسواک اور کامل وضو کرتے اور اپنے مصلے پر تشریف لے آتے۔ آپ آٹھ رکعات پڑھتے، ان میں آپ ام القرآن (سورۃ فاتحہ) اور قرآن کی کوئی سورت پڑھتے اور جو اللہ چاہتا۔ آپ ان رکعات میں (کوئی تشہد) نہ بیٹھتے، صرف آٹھویں رکعت میں بیٹھتے مگر سلام نہ پھیرتے، پھر نویں میں قراءت کرتے، پھر بیٹھتے اور دعا کرتے جو اللہ چاہتا۔ ان دعاؤں میں اللہ سے سوال کرتے اور اسی کی طرف رجوع و رغبت کا اظہار فرماتے، پھر سلام کہتے ایک ہی سلام بڑی اونچی آواز سے، اس قدر اونچی آواز کہ قریب ہوتا کہ گھر والے جاگ جائیں، پھر (بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے) سورۃ فاتحہ پڑھتے اور رکوع کرتے بیٹھے ہوئے، پھر دوسری رکعت پڑھتے اور رکوع اور سجدہ کرتے بیٹھے ہوئے، پھر خوب دعا کرتے جو اللہ چاہتا، پھر سلام پھیرتے اور اٹھ جاتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اسی انداز سے رہی، مگر جب آپ فربہ ہو گئے تو آپ نے نو رکعتوں میں سے دو رکعتیں کم کر لیں، یعنی وتر کے بغیر چھ رکعات اور وتر کے ساتھ سات رکعات پڑھنے لگے اور ان کے بعد دو رکعتیں پڑھتے جبکہ آپ بیٹھے ہوئے ہوتے، حتیٰ کہ اسی عادت پر آپ کی روح قبض ہوئی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1346]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: 16086)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/236) (صحیح)» ‏‏‏‏ (پچھلی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں بظاہر زرارہ اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان انقطاع ہے، دراصل دونوں کے درمیان سعد بن ہشام کے ذریعہ یہ سند بھی متصل ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح دون الأربع ركعات والمحفوظ عن عائشة ركعتان
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه أحمد (6/236 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1347
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ بِإِسْنَادِهِ، قَالَ:" يُصَلِّي الْعِشَاءَ ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ، لَمْ يَذْكُرِ الْأَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ: فَيُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَلَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَإِنَّهُ كَانَ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ وَلَا يُسَلِّمُ فِيهِ فَيُصَلِّي رَكْعَةً يُوتِرُ بِهَا، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ حَتَّى يُوقِظَنَا، ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ".
یزید بن ہارون کہتے ہیں: ہمیں بہز بن حکیم نے خبر دی ہے پھر انہوں نے یہی حدیث اسی سند سے ذکر کی، اس میں ہے: آپ عشاء پڑھتے پھر اپنے بستر پر آتے، انہوں نے چار رکعت کا ذکر نہیں کیا، آگے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: پھر آپ آٹھ رکعتیں پڑھتے اور ان میں قرآت، رکوع اور سجدہ میں برابری کرتے اور ان میں سے کسی میں نہیں بیٹھتے سوائے آٹھویں کے، اس میں بیٹھتے تھے پھر کھڑے ہو جاتے اور ان میں سلام نہیں پھیرتے پھر ایک رکعت پڑھ کر ان کو طاق کر دیتے پھر سلام پھیرتے اس میں اپنی آواز بلند کرتے یہاں تک کہ ہمیں بیدار کر دیتے، پھر راوی نے اسی مفہوم کو بیان کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1347]
بہز بن حکیم نے اپنی سابقہ سند سے یہ حدیث بیان کی اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز پڑھ کر اپنے بستر پر آ جاتے۔ اس نے چار رکعت پڑھنے کا ذکر نہیں کیا، اور بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ رکعات پڑھتے، ان کی قراءت، رکوع اور سجود میں برابری ہوتی اور درمیان میں کوئی تشہد نہ بیٹھتے سوائے آٹھویں کے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس آٹھویں رکعت میں بیٹھتے مگر سلام نہ پھیرتے، بلکہ کھڑے ہو کر ایک رکعت وتر پڑھتے۔ پھر سلام کہتے، ایک سلام، اس میں آپ کی آواز بہت اونچی ہوتی حتی کہ ہمیں جگا دیتے۔ پھر مذکورہ روایت کے ہم معنی بیان کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1347]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 16086) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه أحمد (6/236 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1348
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ، عَنْ بَهْزٍ، حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ فَيُصَلِّي أَرْبَعًا، ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي التَّسْلِيمِ حَتَّى يُوقِظَنَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز (تہجد) کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: آپ لوگوں کو عشاء پڑھاتے پھر اپنے گھر والوں کے پاس آ کر چار رکعتیں پڑھتے پھر اپنے بستر پر آتے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں انہوں نے قرآت اور رکوع و سجدہ میں برابری کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ یہ ذکر کیا ہے کہ آپ اتنی بلند آواز سے سلام پھیرتے کہ ہم بیدار ہو جاتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1348]
بہز نے زرارہ بن اوفی سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھا کر گھر تشریف لاتے اور چار رکعتیں پڑھتے، پھر اپنے بستر پر آ جاتے۔ اور حدیث تفصیل کے ساتھ بیان کی مگر اس میں یہ ذکر نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (تہجد کی رکعات میں) قراءت، رکوع اور سجود برابر رکھتے اور نہ سلام ہی کے بارے میں یہ کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ہمیں جگا دیتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1348]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: 1346، (تحفة الأشراف: 16086) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح إلا الأربع والمحفوظ ركعتان
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديثين السابقين (1346، 1347)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1349
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَلَيْسَ فِي تَمَامِ حَدِيثِهِمْ.
اس طریق سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے لیکن سند کے اعتبار سے یہ ان کی جید احادیث میں سے نہیں ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1349]
بہز بن حکیم، زرارہ بن اوفی سے، وہ سعد بن ہشام سے، وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں مگر یہ حدیث ان کی روایت کے برابر نہیں ہے۔ (روایات یزید بن ہارون، ابن ابی عدی اور مروان بن معاویہ)۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1349]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16086، 16110) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کیونکہ ابن ابی عدی، یزید بن ہارون اور مروان بن معاویہ سبھی نے اسے بہز بن حکیم سے، انہوں نے زرارہ سے زرارۃ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بغیر سعد کے واسطہ کے روایت کیا ہے، صرف حماد بن سلمہ ہی نے زرارہ اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان سعد بن ہشام کا واسطہ بڑھایا ہے، اور یہ واسطہ ہی صحیح ہے کیوں کہ زرارہ کے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع میں اختلاف ہے، صحیح بات یہی ہے کہ سماع ثابت نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (1342)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1350
حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ بِتِسْعٍ، أَوْ كَمَا قَالَتْ: وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے، نو رکعتیں وتر کی ہوتیں، یا کچھ اسی طرح کہا اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے اور اذان و اقامت کے درمیان فجر کی دو رکعتیں پڑھتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1350]
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعات پڑھتے، نو رکعتیں وتر ہوتیں یا جیسے کہ کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھتے بیٹھے ہوئے اور اذان اور اقامت کے درمیان فجر کی سنتیں پڑھتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1350]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16110، 16111، 17755) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1351
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُوتِرُ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِسَبْعِ رَكَعَاتٍ وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ الْوِتْرِ يَقْرَأُ فِيهِمَا، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذينِ الْحَدِيثَيْنِ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو مِثْلَهُ، قَالَ فِيهِ: قَالَ عَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ: يَا أُمَّتَاهُ، كَيْفَ كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ؟ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعتیں وتر کی پڑھتے، پھر سات رکعتیں پڑھنے لگے، اور وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے۔ ان میں قرآت کرتے، جب رکوع کرنا ہوتا تو کھڑے ہو جاتے، پھر رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ دونوں حدیثیں خالد بن عبداللہ واسطی نے محمد بن عمرو سے اسی کے مثل روایت کی ہیں، اس میں ہے: کہ علقمہ بن وقاص نے کہا: اماں جان! آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں کیسے پڑھتے تھے؟ پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1351]
علقمہ بن وقاص سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (پہلے) نو رکعت وتر پڑھا کرتے تھے، پھر سات رکعت (وتر) پڑھنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتروں کے بعد بیٹھ کر دو رکعت پڑھا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں قراءت بھی کیا کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہو جاتے اور رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: خالد بن عبداللہ واسطی نے یہ دونوں حدیثیں (یعنی حدیث ابی سلمہ اور علقمہ) محمد بن عمرو سے اسی کے مثل روایت کی ہیں۔ ان میں ہے کہ علقمہ بن وقاص نے کہا: اے اماں جان! آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں کیسے پڑھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے اسی کے ہم معنی بیان کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1351]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1411)، وقدأخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 16 (738) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (731)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1352
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ،عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: أَخْبِرِينِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْعِشَاءِ، ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ فَيَنَامُ، فَإِذَا كَانَ جَوْفُ اللَّيْلِ قَامَ إِلَى حَاجَتِهِ وَإِلَى طَهُورِهِ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّهُ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، ثُمَّ يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، ثُمَّ يَضَعُ جَنْبَهُ، فَرُبَّمَا جَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ يُغْفِي، وَرُبَّمَا شَكَكْتُ أَغْفَى أَوْ لَا، حَتَّى يُؤْذِنَهُ بِالصَّلَاةِ فَكَانَتْ تِلْكَ صَلَاتُهُ حَتَّى أَسَنَّ لَحُمَ"، فَذَكَرَتْ مِنْ لَحْمِهِ مَا شَاءَ اللَّهُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں مدینے آیا اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز (تہجد) کے بارے میں بتائیے، وہ بولیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو عشاء پڑھاتے، پھر بستر پر آ کر سو جاتے، جب آدھی رات ہو جاتی تو قضائے حاجت اور وضو کے لیے اٹھتے اور وضو کر کے مصلیٰ پر تشریف لے جاتے اور آٹھ رکعتیں پڑھتے، میرے خیال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رکعت میں قرآت، رکوع اور سجدہ برابر برابر کرتے، پھر ایک رکعت پڑھ کر اسے وتر بنا دیتے، پھر دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے پھر اپنا پہلو (زمین پر) رکھتے، کبھی ایسا ہوتا کہ بلال رضی اللہ عنہ آ کر نماز کی خبر دیتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہلکی نیند سوتے، بسا اوقات میں شبہ میں پڑ جاتی کہ آپ سو رہے ہیں یا جاگ رہے ہیں یہاں تک کہ وہ آپ کو نماز کی خبر دیتے، یہی آپ کی نماز (تہجد) ہے یہاں تک کہ آپ بوڑھے اور موٹے ہو گئے، پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گوشت بڑھ جانے کا حال جو اللہ نے چاہا ذکر کیا پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1352]
سعد بن ہشام رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ آیا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی، میں نے عرض کیا کہ: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق ارشاد فرمائیں۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھاتے، پھر اپنے بستر پر آ کر سو جاتے، پھر رات کے درمیانی حصہ میں اٹھتے، ضروریات سے فارغ ہوتے اور پانی لے کر وضو کرتے، پھر اپنے مصلے پر آ جاتے اور آٹھ رکعتیں پڑھتے، مجھے محسوس ہوتا کہ ان کی قراءت، رکوع اور سجود برابر ہوتے، پھر ایک رکعت وتر پڑھتے، پھر بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے، پھر اپنا پہلو رکھتے، پھر بسا اوقات بلال رضی اللہ عنہ آ جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی خبر دیتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑا سا سو جاتے، مجھے شک ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے بھی ہیں یا نہیں، حتیٰ کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی خبر دیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ایسے ہی رہی، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑی عمر کے ہو گئے اور کچھ بھاری بھی۔ اور (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ فربہ ہو جانے کا ذکر کیا اور حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1352]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16096)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 91، 97، 168، 216، 227، 235) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (1652)
الحسن البصري مدلس وعنعن
وحديث البيهقي (2/ 501502) يغني عن حديثه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 55

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1353
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ رَقَدَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ" اسْتَيْقَظَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ، وَهُوَ يَقُولُ: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ سورة البقرة آية 164 حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِسِتِّ رَكَعَاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ يَسْتَاكُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وَيَقْرَأُ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ، ثُمَّ أَوْتَرَ". قَالَ عُثْمَانُ:" بِثَلَاثِ رَكَعَاتٍ فَأَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ"، وَقَالَ ابْنُ عِيسَى:" ثُمَّ أَوْتَرَ فَأَتَاهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ فَصَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي لِسَانِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا، وَاجْعَلْ خَلْفِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، اللَّهُمَّ وَأَعْظِمْ لِي نُورًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سوئے تو دیکھا کہ آپ بیدار ہوئے، تو مسواک اور وضو کیا اور آیت کریمہ «إن في خلق السموات والأرض» ۱؎ اخیر سورۃ تک پڑھی، پھر کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں، ان میں قیام، رکوع اور سجدہ لمبا کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے اور سو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ رکعتوں میں تین بار ایسا ہی کیا، ہر بار مسواک کرتے اور وضو کرتے اور انہیں آیتوں کو پڑھتے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی۔ عثمان کی روایت میں ہے کہ وتر کی تین رکعتیں پڑھیں۔ پھر مؤذن آیا تو آپ نماز کے لیے نکلے۔ ابن عیسیٰ کی روایت میں ہے: پھر آپ نے وتر پڑھی، پھر آپ کے پاس بلال رضی اللہ عنہ آئے اور جس وقت فجر طلوع ہوئی آپ کو نماز کی خبر دی تو آپ نے فجر کی دو رکعتیں (سنتیں) پڑھیں۔ اس کے بعد نماز کے لیے نکلے۔ آگے دونوں کی روایتیں ایک جیسی ہیں۔ آپ (اس وقت) فرما رہے تھے: «اللهم اجعل في قلبي نورا، واجعل في لساني نورا، واجعل في سمعي نورا، واجعل في بصري نورا، واجعل خلفي نورا، وأمامي نورا، واجعل من فوقي نورا، ومن تحتي نورا، اللهم وأعظم لي نورا» اے اللہ! تو نور پیدا فرما میرے دل میں، میری زبان میں، میرے کان میں، میری نگاہ میں، میرے پیچھے، میرے آگے، میرے اوپر اور میرے نیچے۔ اور اے اللہ! میرے لیے نور کو بڑا بنا دے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1353]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ (ایک بار) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سوئے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاگے، مسواک کی اور وضو کیا۔ اس دوران میں آپ ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾ [سورة آل عمران: 190] سے لے کر آخر سورت تک تلاوت فرما رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں، ان کا قیام، رکوع اور سجود بہت لمبا کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پلٹے اور سو گئے، حتیٰ کہ خراٹے لینے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح تین بار کیا۔ چھ رکعتیں پڑھیں۔ ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر مسواک کرتے، وضو کرتے اور مذکورہ آیات کی تلاوت کرتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھے۔ عثمان کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین رکعتیں پڑھیں۔ پھر مؤذن آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لے گئے۔ محمد بن عیسٰی نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھے، پھر بلال رضی اللہ عنہ آ گئے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کا وقت ہو جانے کی اطلاع دی جب کہ فجر طلوع ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی سنتیں پڑھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لے گئے۔ اس کے بعد دونوں راویوں (ابن عیسٰی اور عثمان) کا متفقہ بیان ہے کہ نماز کے لیے جاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ رہے تھے: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي لِسَانِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا، وَاجْعَلْ خَلْفِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، اللَّهُمَّ وَأَعْظِمْ لِي نُورًا» اے اللہ! میرے دل میں نور بھر دے، میری زبان میں نور کر دے، میرے کانوں میں نور کر دے، میری آنکھوں میں نور کر دے، میرے پیچھے نور کر دے، میرے آگے نور کر دے، میرے اوپر نور کر دے، میرے نیچے نور کر دے۔ اے اللہ! میرے لیے نور کو بہت عظیم کر دے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1353]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: 58، (تحفة الأشراف: 6287) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: وضاحت: سورة آل عمران: (۱۹۰)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (58) ورواه مسلم (763)
َدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَي

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں