🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ وَالشُّحَّ
قیامت کے دن ظلم کی تاریکیاں، اور بے حیائی، بدکلامی اور بخل سے بچنے کی تاکید
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان (1) بن حَرْب، حدثنا شُعْبة. وأخبرني أبو عمرو محمد بن جعفرٍ العَدْل، حدثنا يحيى بن محمد، حدثنا عُبيد الله بن معاذ، حدثنا أبي، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مُرَّة قال: حدثني عبد الله بن الحارث - وأثنى عليه خيرًا - عن أبي كَثير، عن عبد الله بن عمرو قال: خَطَبَنا رسولُ الله ﷺ فقال:"إيّاكم والظُّلمَ، فإنَّ الظُّلمَ ظُلُماتٌ يومَ القيامة، وإيّاكم والفُحْشَ والتفحُّشَ، وإيّاكم والشُّحَّ، فإنما هَلَكَ مَن كان قَبلَكم بالشُّحِّ، أَمَرَهم بالقَطِيعة فقَطَعُوا، وبالبُخْل فبَخِلوا، وبالفجور ففَجَرُوا" فقام رجل فقال: يا رسولَ الله، أيُّ الإسلام أفضلُ؟ قال:"أن يَسلَمَ المسلمون من لسانِك ويدِك"، فقال ذلك الرجل أو غيرُه: يا رسولَ الله، أيُّ الهجرةِ أفضلُ؟ قال:"أنْ تَهجُرَ ما كَرِهَ ربُّك"، قال:"والهِجرةُ هجرتانِ: هجرةُ الحاضر، وهجرةُ البادِي، فهجرةُ البادي: أن يجيبَ إذا دُعِيَ، ويطيعَ إذا أُمِرَ، وهجرةُ الحاضر أعظَمُهما بَلِيَّةً، وأفضلُهما أجرًا" (2) . قد خرَّجا جميعًا حديث الشَّعْبي عن عبد الله بن عمرو مختصرًا ولم يُخرجا هذا الحديث، وقد اتَّفقا على عمرو بن مُرَّة وعبد الله بن الحارث النَّجْراني (1) ، فأما أبو كَثير زهير بن الأَقمَر الزُّبيدي فإنه سمع عليًّا وعبدَ الله فمَن بعدَهما من الصحابة. وهذا الحديث بعَينِه عند الأعمش عن عمرو بن مُرَّة:
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکیوں کا سبب ہوگا، اور فحش گوئی و بدزبانی سے بچو، اور حرص و بخل سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ حرص و بخل ہی کی وجہ سے ہلاک ہوئے، اسی نے انہیں قطع رحمی کا حکم دیا تو انہوں نے ناطے توڑ لیے، بخل کا حکم دیا تو انہوں نے بخل کیا، اور گناہوں کا حکم دیا تو وہ گناہوں میں پڑ گئے۔ تب ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ (دوسرے) مسلمان تمہاری زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں، پھر اسی شخص یا کسی اور نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہارے رب کو ناپسند ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مزید) فرمایا: ہجرت دو طرح کی ہے: ایک شہری (مقیم) کی ہجرت اور دوسری دیہاتی (بدوی) کی ہجرت؛ دیہاتی کی ہجرت یہ ہے کہ جب اسے (جہاد کے لیے) پکارا جائے تو جواب دے اور جب حکم دیا جائے تو اطاعت کرے، اور شہری کی ہجرت ان دونوں میں آزمائش کے اعتبار سے زیادہ بڑی اور اجر کے لحاظ سے زیادہ فضیلت والی ہے۔
ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے شعبی عن عبداللہ بن عمرو کی حدیث مختصر طور پر روایت کی ہے لیکن اس حدیث کو روایت نہیں کیا، حالانکہ ان دونوں کا عمرو بن مرہ اور عبداللہ بن حارث نجرانی پر اتفاق ہے، جبکہ ابوکثیر زہیر بن اقمر زبیدی نے سیدنا علی اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما اور ان کے بعد کے صحابہ سے سماع کیا ہے۔ بعینہ یہی حدیث امام اعمش کے ہاں بھی عمرو بن مرہ کے واسطے سے موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 26]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27
حدَّثَناه عليُّ بن عيسى، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا عبد الله بن عمر بن أَبَان، حدثنا حسين بن علي، عن الفُضَيل بن عِيَاض، عن الأعمش، عن عمرو بن مُرَّة، عن عبد الله بن الحارث، عن زهير بن الأَقمَر، عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله ﷺ:"اتقُوا الظلمَ"، فذكر الحديث بطوله (2) . ولهذه الزيادات التي ذَكَرْناها عن عبد الله بن عمرو شاهدٌ صحيح على شرط مسلم من رواية أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 26 - اتفقا على عمرو عن عبد الله بن الحارث النجراني فأما أبو كثير زهير بن الأقمر الزبيدي فإنه سمع عليا وعبد الله ورواه الأعمش عن الأعمش عن عمرو
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اتقوا الظلم» ظلم سے بچو، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
عبداللہ بن عمرو سے مروی ان زیادتیوں کے لیے امام مسلم کی شرط پر سیدنا ابوہریرہ کی روایت سے ایک صحیح شاہد موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 27]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 28
أخبرَناه أبو الحسين محمد بن أحمد القَنطَري، حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا أبو عاصم، عن ابن عَجْلان. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق - واللفظ له - أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا ابن بُكَير، حدثني الليث، عن محمد بن عَجْلان، عن سعيد بن أبي سعيد المقبُري، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إياكم والفُحْشَ والتفحُّشَ، فإنَّ الله لا يحبُّ الفاحشَ المتفحِّشَ، وإياكم والظُّلمَ فإنه هو الظُّلُماتُ يومَ القيامة، وإياكم والشُّحَّ، فإنه دعا مَن قَبلَكم فَسَفَكُوا دماءَهم، ودعا مَن قَبلَكم فَقَطَعُوا أرحامَهم، ودعا مَن قَبلَكم فاستَحلُّوا حُرُماتِهم" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 28 - رواه الليث والنبيل عنه
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فحش گوئی اور بدزبانی سے بچو، کیونکہ اللہ تعالیٰ فحش گوئی کرنے والے اور زبان درازی کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا، اور ظلم سے بچو کیونکہ یہی قیامت کے دن کی تاریکیاں ہیں، اور حرص و بخل سے بچو، کیونکہ اسی (بیماری) نے تم سے پہلے لوگوں کو اس بات پر ابھارا کہ انہوں نے خون بہائے، اپنوں سے ناطے توڑے اور اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کر لیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 28]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں