🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا اللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيِّ
مومن طعنہ دینے والا، لعنت کرنے والا، فحش گو اور بدزبان نہیں ہوتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 29
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق بن أيوب الفقيه، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا محمد بن سابقٍ، حدثنا إسرائيل، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن عَلْقمة، عن عبد الله، عن النبي ﷺ قال:"ليس المؤمنُ بالطَّعَانِ ولا اللَّعّانِ، ولا الفاحشِ ولا البَذِيء" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتجَّا بهؤلاء الرواة عن آخرهم، ثم لم يخرجاه، وأكثرُ ما يمكن أن يقال فيه أنه لا يوجدُ عند أصحاب الأعمش، وإسرائيلُ بن يونس السَّبِيعي كبيرُهم وسيِّدهم، وقد شاركَ الأعمشَ في جماعة من شيوخه، فلا يُنكَرُ له التفرُّدُ عنه بهذا الحديث (3) . وللحديث شاهدٌ آخرُ على شرطهما:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 29 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن طعنہ دینے والا، لعنت کرنے والا، فحش گوئی کرنے والا اور بے ہودہ بکنے والا نہیں ہوتا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، انہوں نے ان تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے لیکن پھر بھی اسے روایت نہیں کیا، اور اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ اعمش کے (عام) شاگردوں کے ہاں موجود نہیں ہے، حالانکہ اسرائیل بن یونس سبیعی ان کے بڑے شاگرد اور سردار ہیں اور وہ اعمش کے کئی اساتذہ میں ان کے شریک ہیں، لہٰذا اس حدیث میں ان کا اکیلا ہونا (منفرد ہونا) باعثِ نکارت نہیں۔ اس حدیث کا ان دونوں کی شرط پر ایک اور شاہد بھی موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 29]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 30
حَدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، عن الحسن بن عَمرو الفُقَيمي، عن محمد بن عبد الرحمن ابن يزيد، عن أبيه، عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"ليس المؤمنُ بالطَّعّانِ ولا اللَّعّانِ، ولا الفاحش ولا البَذِيء" (1) . وللحديث شاهدٌ ثانٍ عن إبراهيم النَّخَعي، لا بدَّ من ذِكْره وإن لم يكن إسناده من شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 30 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن نہ طعنہ دینے والا ہوتا ہے، نہ لعنت کرنے والا، نہ فحش بکنے والا اور نہ ہی بے ہودہ گفتگو کرنے والا۔
اس حدیث کا ابراہیم نخعی سے ایک دوسرا شاہد بھی مروی ہے، جس کا ذکر ضروری ہے اگرچہ اس کی سند شیخین کی شرط پر نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 30]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 31
أخبرَناه أبو الحسين علي بن عبد الرحمن بن ماتَى بالكوفة، حدثنا الحسين بن الحَكَم الحِبَري، حدثنا إسماعيل بن أَبان، حدثنا صَبّاح بن يحيى، عن ابن أبي ليلى، عن الحَكَم، عن إبراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، أنَّ النبي ﷺ قال:"المؤمنُ ليس بالطَّعّان، ولا الفاحشِ ولا البَذِيءِ" (2) . محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى وإن كان يُنسَب إلى سوء الحِفْظ، فإنه أحد فقهاء الإسلام وقُضَاتهم، ومن أكابر أولاد الصحابة والتابعين من الأنصار، رحمة الله تعالى عليهم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 31 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن طعنہ دینے والا، فحش گوئی کرنے والا اور بے ہودہ بکنے والا نہیں ہوتا۔
محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اگرچہ برے حافظے کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں، لیکن وہ اسلام کے فقہاء اور قاضیوں میں سے ایک ہیں، اور انصار کے صحابہ و تابعین کی کبار اولاد میں سے ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 31]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 32
حدثنا أبو محمد دَعْلَج بن أحمد السِّجْزي ببغداد، حدثنا محمد بن علي بن زيد (3) الصائغ، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن وعبد العزيز ابن محمد، عن عمرو مولى المطَّلِب، عن المطَّلِب، عن أبي موسى الأَشعَري، أنَّ رسول الله ﷺ قال: مَن عَمِلَ سيئةً فكَرِهَها حين يعملُ، وعَمِلَ حسنةً فسُرَّ بها، فهو مؤمنٌ" (1) . قد احتجَّا برُوَاة هذا الحديث عن آخرهم (2) ، وهو صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه، إنما خرَّجا (3) في خطبة عمر بن الخطاب"ومَن سَرَّته حَسَنتُه، وساءته سيِّئتُه، فهو مؤمنٌ". وله شاهد بهذا اللفظ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 32 - على شرطهما
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کوئی برائی کی اور اسے کرتے وقت اسے برا محسوس کیا، اور کوئی نیکی کی اور اس سے اسے خوشی ہوئی، تو وہ مومن ہے۔
ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے اس حدیث کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، اور یہ ان کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اس کی تخریج نہیں کی، انہوں نے صرف سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے خطبے میں یہ الفاظ روایت کیے ہیں کہ جسے اس کی نیکی خوش کر دے اور اس کی برائی اسے غمزدہ کر دے تو وہ مومن ہے۔ اس کے لیے ان الفاظ کے ساتھ ایک شاہد بھی موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 32]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 33
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا هشام بن أبي عبد الله، عن يحيى بن أبي كَثير، عن زيد بن سَلّام، عن جدِّه ممطور، عن أبي أُمامة: أنَّ رسول الله ﷺ سأله رجل فقال: يا رسول الله، ما الإيمانُ؟ قال:"إذا سَرَّتكَ حَسَنتُك، وساءتكَ سيِّئتُك، فأنت مؤمنٌ" فقال: يا رسول الله، ما الإثمُ؟ قال:"إذا حَكَّ في صدرِك شيءٌ فَدَعْه" (4) . وهكذا رواه عليُّ بن المبارك ومَعمَر بن راشد عن يحيى بن أبي كثير. أما حديث علي بن المبارك:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 33 - تابعه معمر وعلي بن المبارك وهو على شرطهما_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہاری نیکی تمہیں خوش کر دے اور تمہاری برائی تمہیں غمزدہ کر دے تو تم مومن ہو۔ اس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! گناہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے سینے میں کوئی چیز کھٹکے (تردد پیدا کرے) تو اسے چھوڑ دو۔
اور اسی طرح اسے علی بن مبارک اور معمر بن راشد نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کیا ہے۔ رہی علی بن مبارک کی حدیث: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 33]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 34
فحدَّثَناه مُكرَم بن أحمد القاضي، حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا يحيى بن كثير العَنبَري، حدثنا علي بن المبارَك، حدثني يحيى بن أبي كثير، عن زيد بن سَلَّام (1) ، عن جده أبي سَلَّام قال: سمعت أبا أُمامة يقول: سأل رجلٌ رسولَ الله ﷺ: ما الإيمانُ؟ قال:"إذا سرَّتكَ حَسَنتُك، وساءتكَ سيِّئتُكَ، فإنك مؤمنٌ" (2) . وأما حديث مَعمَر:
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہاری نیکی تمہیں خوش کر دے اور تمہاری برائی تمہیں غمزدہ کر دے، تو یقیناً تم مومن ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 34]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 35
فأخبرَناه أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن يحيى بن أبي كثير، عن زيد بن سَلّام، عن أبي سَلّام، عن أبي أُمَامة: أنَّ رسول الله ﷺ سُئلَ: ما الإيمانُ؟ فقال:"مَن سَرَّتْه حَسَنتُه، وساءَتْه سيِّئتُه، فهو مؤمنٌ" (3) . هذه الأحاديث كلها صحيحة متَّصِلة على شرط الشيخين.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ایمان کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو اس کی نیکی خوش کر دے اور اس کی برائی اسے غمزدہ کر دے، تو وہ مومن ہے۔
یہ تمام احادیث شیخین کی شرط پر صحیح اور متصل ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 35]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 36
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان (4) ، حدثنا بِشْر بن بكر، حدثني ابن جابر قال: سمعتُ سُلَيمَ بنَ عامر يقول: سمعتُ عوفَ بن مالك الأَشجعيَّ يقول: نزلنا مع رسول الله ﷺ مَنزِلًا، فاستيقظتُ من الليل، فإذا لا أَرى في العسكر شيئًا أطولَ من مُؤْخِرة رَحْلي، لقد لَصِقَ كلُّ إنسان وبعيرُه بالأرض، فقمت أتخلَّلُ الناسَ حتى دَفَعتُ إلى مَضجَعِ رسول الله ﷺ، فإذا ليس فيه، فوضعتُ يدي على الفِراش، فإذا هو بارد، فخرجتُ أتخلَّلُ الناسَ وأقول: إنّا لله وإنّا إليه راجعون، ذُهِبَ برسول الله ﷺ، حتى خرجتُ من العسكر كلِّه، فنظرتُ سَوَادًا فرَمَيتُ بحجرٍ، فمَضَيتُ إلى السَّوَاد، فإذا معاذُ بن جبل وأبو عُبيدة بن الجرَّاح، وإذا بين أيدينا صوتٌ كدَوِيِّ الرَّحَى، أو كصوت القَصْباء (1) حين يصيبها الريح، فقال بعضنا لبعض: يا قوم، اثبُتوا حتى تُصبِحوا أو يأتيَكم رسول الله ﷺ، قال: فلَبِثْنا ما شاء الله، ثم نادى:"أثَمَّ معاذُ بن جبل وأبو عُبيدة بن الجرَّاح وعوفُ بن مالك؟" فقلنا: أيْ نَعَم، فأقبلَ إلينا، فخرجنا نمشي معه لا نسألُه عن شيء ولا نخبرُه بشيء، فقَعَدَ على فِراشِه، فقال:"أتدرون ما خَيَّرني به ربِّي الليلةَ؟" فقلنا: الله ورسوله أعلم، قال:"فإنه خيَّرني بين أن يُدخِلَ نصفَ أُمتي الجنةَ وبين الشفاعةِ، فاخترتُ الشفاعةَ" قلنا: يا رسول الله، ادعُ الله أن يجعلَنا من أهلها، قال:"هي لكلِّ مسلمٍ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، ورواته كلُّهم ثقات على شرطهما جميعًا، وليس له عِلَّة، وليس في سائر أخبار الشفاعة:"هي لكلِّ مسلم".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 36 - على شرطهما
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک منزل پر اترے، میں رات کو بیدار ہوا تو مجھے لشکر میں اپنے کجاوے کے پچھلے حصے سے زیادہ اونچی کوئی چیز نظر نہ آئی، ہر انسان اور اونٹ زمین سے چمٹا ہوا (سو رہا) تھا۔ میں لوگوں کے درمیان سے راستہ بناتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر تک پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں نہیں تھے، میں نے بستر پر ہاتھ لگایا تو وہ ٹھنڈا تھا، میں لوگوں کے درمیان سے یہ کہتے ہوئے نکلا کہ «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ»، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہیں لے جایا گیا ہے، یہاں تک کہ میں پورے لشکر سے باہر نکل گیا۔ میں نے ایک سیاہی (سایہ) دیکھی تو پتھر پھینکا اور اس کی طرف بڑھا، تو وہاں سیدنا معاذ بن جبل اور سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہما موجود تھے، اور ہمارے سامنے سے چکی کے چلنے جیسی یا ہوا چلنے پر سرکنڈوں کے ہلنے جیسی آواز آ رہی تھی۔ ہم نے ایک دوسرے سے کہا: اے لوگو! صبح ہونے تک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے تک یہیں جمے رہو۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم جتنا اللہ نے چاہا ٹھہرے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی: کیا وہاں معاذ بن جبل، ابوعبیدہ بن جراح اور عوف بن مالک موجود ہیں؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلنے لگے، نہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ پوچھا اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کچھ بتایا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر بیٹھ گئے اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ آج رات میرے رب نے مجھے کیا اختیار دیا ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے رب نے مجھے اس بات کے درمیان اختیار دیا کہ یا تو میری آدھی امت جنت میں داخل کر دی جائے یا پھر مجھے مقامِ شفاعت عطا کیا جائے، تو میں نے شفاعت کو منتخب کر لیا۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ ہمیں شفاعت پانے والوں میں شامل کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ہر مسلمان کے لیے ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا، اس کے تمام راوی شیخین کی شرط پر ثقہ ہیں، اس میں کوئی علت نہیں ہے، اور شفاعت کی دیگر روایات میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ یہ ہر مسلمان کے لیے ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 36]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں