المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
29. إِذَا زَنَا الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْهُ الْإِيمَانُ
جب بندہ زنا کرتا ہے تو اس سے ایمان نکل جاتا ہے
حدیث نمبر: 67
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن عيسى بن السَّكَن، حدثنا أبو سَلَمة ومحمد بن عبد الله الخُزاعي قالا: حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت، عن أنس قال: قرأ رسول الله ﷺ ﴿قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْكَ﴾ [الأعراف: 143] قال:"فأخرجَ من النُّور مثلَ هذا - وأشار (2) إلى نصف أَنمَلةِ الخِنْصِر، فضرب بها صدرَ حمَّاد - قال: فسَاخَ الجبلُ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْكَ﴾ ”عرض کیا: اے میرے رب! مجھے اپنا دیدار کرا کہ میں تجھے دیکھ لوں“ [سورة الأعراف: 143] ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس اللہ نے اپنے نور میں سے اتنا سا ظاہر کیا - اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چھوٹی انگلی کے آدھے پور سے اشارہ فرمایا اور اسے حماد کے سینے پر مارا - تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 67]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 67]
حدیث نمبر: 68
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا يوسف بن يعقوب، حدثنا محمد بن أبي بكر المُقدَّمي، حدثنا فُضَيل بن سليمان، حدثنا موسى بن عُقْبة، حدثنا عُبيد الله بن سلمان الأَغرِّ، عن أبيه، عن أبي الدرداء قال: قال رسول الله ﷺ:"ثلاثة يحبُّهم اللهُ ويَضحَكُ إليهم: الذي إذا انكشفَ فِئةٌ قاتلَ وراءَها بنفسِه لله ﷿" (4) .
هذا حديث صحيح وقد احتجَّا بجميع رُواتِه (1) ، ولم يُخرجاه إنما خرَّجا (2) في هذا الباب حديث أبي الزِّناد عن الأعرج عن أبي هريرة عن النبي ﷺ:"يَضحَكُ اللهُ إلى رجلين" الحديثَ في الجهاد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 68 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح وقد احتجَّا بجميع رُواتِه (1) ، ولم يُخرجاه إنما خرَّجا (2) في هذا الباب حديث أبي الزِّناد عن الأعرج عن أبي هريرة عن النبي ﷺ:"يَضحَكُ اللهُ إلى رجلين" الحديثَ في الجهاد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 68 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ محبت فرماتا ہے اور ان کی طرف دیکھ کر مسکراتا ہے: ایک وہ شخص کہ جب لشکر کے پاؤں اکھڑ جائیں تو وہ اللہ عزوجل کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ان کے پیچھے ثبات قدمی سے لڑے۔“
یہ صحیح حدیث ہے اور ان دونوں نے اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے اس باب میں صرف ابوالزناد عن الاعرج عن ابی ہریرہ کی حدیث ”اللہ دو شخصوں کی طرف دیکھ کر مسکراتا ہے“ جہاد کے باب میں روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 68]
یہ صحیح حدیث ہے اور ان دونوں نے اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے اس باب میں صرف ابوالزناد عن الاعرج عن ابی ہریرہ کی حدیث ”اللہ دو شخصوں کی طرف دیکھ کر مسکراتا ہے“ جہاد کے باب میں روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 68]
حدیث نمبر: 69
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا عفّان. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا عفّان ومحمد بن محمود البُنَاني، قالا: حدثنا عبد العزيز بن مُسلِم، عن الأعمش، عن حَبيب بن أبي ثابت، عن يحيى بن جَعْدة، عن عبد الله بن مسعود، عن النبي ﷺ أنه قال:"لا يدخلُ الجنةَ مَن كان في قلبِه حبةٌ من كِبْر" فقال رجل: يا رسول الله، إنه ليُعجِبُني أن يكونَ ثوبي جديدًا، ورأسي دَهِينًا، وشِراكُ نَعْلي جديدًا؛ قال: وذَكَرَ أشياءَ حتى ذكر عِلَاقةَ سوطِه، فقال:"ذاكَ جَمَالٌ، واللهُ جميلٌ يحبُّ الجمالَ، ولكنَّ الكِبْرَ مَن بَطِرَ الحقَّ وازدَرَى الناسَ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه، وقد احتجَّا جميعًا برواته (1) . وله شاهد آخر على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 69 - احتجا برواته
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه، وقد احتجَّا جميعًا برواته (1) . وله شاهد آخر على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 69 - احتجا برواته
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہ پسند ہے کہ میرا لباس نیا ہو، میرا سر صاف ہو، اور میرے جوتے کا تسمہ نیا ہو؛ یہاں تک کہ اس نے اپنے کوڑے کی رسی کا بھی ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو خوبصورتی ہے، اور اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے، لیکن تکبر تو حق کا انکار کرنے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا، حالانکہ انہوں نے اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے۔ اس کا ایک اور شاہد امام مسلم کی شرط پر موجود ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 69]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا، حالانکہ انہوں نے اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے۔ اس کا ایک اور شاہد امام مسلم کی شرط پر موجود ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 69]
حدیث نمبر: 70
أخبرنا أبو العباس عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا عُبَيد بن شَرِيك البزَّار، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث بن سعد، حدثنا هشام بن سعد، عن زيد بن أسلَمَ، عن عطاء بن يسار، عن عبد الله بن عمرو قال: قلت: يا رسول الله، أمِنَ الكِبْر أن أَلبَسَ الحُلَّةَ الحسنةَ؟ قال:"إنَّ الله جميلٌ يحبُّ الجَمَال" (2) .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ بھی تکبر میں شامل ہے کہ میں عمدہ جوڑا پہنوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 70]