المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
29. إِذَا زَنَا الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْهُ الْإِيمَانُ
جب بندہ زنا کرتا ہے تو اس سے ایمان نکل جاتا ہے
حدیث نمبر: 57
حدثنا بكر (3) بن محمد بن حمدان الصَّيْرفي بمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل. وحدثنا جعفر بن محمد بن نُصَير ببغداد، حدثنا بشر بن موسى؛ قالا: حدثنا أبو عبد الرحمن المقرئ، حدثنا سعيد بن أبي أيوب، حدثنا عبد الله بن الوليد، عن ابن حُجَيرةَ، أنه سمع أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ:"مَن زنى أو شرب الخمرَ، نَزَعَ اللهُ منه الإيمانَ كما يَخلَعُ الإنسانُ القميصَ من رأسه" (4) . قد احتجَّ مسلم بعبد الرحمن بن حُجَيرة وعبد الله بن الوليد، وهما شاميَّان.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 57 - احتج مسلم بعبد الرحمن بن حجيرة وبعبد الله بن الوليد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 57 - احتج مسلم بعبد الرحمن بن حجيرة وبعبد الله بن الوليد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے زنا کیا یا شراب پی، اللہ اس سے ایمان (کا نور) اس طرح کھینچ لیتا ہے جیسے انسان اپنے سر سے قمیص اتارتا ہے۔“
امام مسلم نے عبدالرحمن بن حجیرہ اور عبداللہ بن ولید سے احتجاج کیا ہے اور یہ دونوں شامی راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 57]
امام مسلم نے عبدالرحمن بن حجیرہ اور عبداللہ بن ولید سے احتجاج کیا ہے اور یہ دونوں شامی راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 57]
حدیث نمبر: 58
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا جرير بن حازم، عن يعلى بن حَكِيم، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عمر قال: قال النبي ﷺ:"الحياءُ والإيمانُ قُرِنا جميعًا، فإذا رُفِعَ أحدُهما رُفِعَ الآخَرُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرطهما، فقد احتجَّا برواتِه ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 58 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرطهما، فقد احتجَّا برواتِه ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 58 - على شرطهما
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیا اور ایمان دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، جب ان میں سے ایک اٹھا لیا جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔“
یہ حدیث ان دونوں (امام بخاری و مسلم) کی شرط پر صحیح ہے، انہوں نے اس کے راویوں سے احتجاج کیا ہے لیکن ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 58]
یہ حدیث ان دونوں (امام بخاری و مسلم) کی شرط پر صحیح ہے، انہوں نے اس کے راویوں سے احتجاج کیا ہے لیکن ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 58]
حدیث نمبر: 59
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، حدثنا أحمد بن يحيى بن رَزِين (2) ، حدثنا هارون بن معروف، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثني أبو صخر، عن أبي حازم، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنَّ المؤمن يَألَفُ، ولا خيرَ فيمن لا يَألَفُ ولا يُؤلَفُ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولا أعلمُ له عِلَّةً (1) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 59 - علته انقطاعه فإن أبا حازم هذا هو المديني لا الأشجعي ولم يلق أبو صخر الأشجعي ولا المديني لقي أبا هريرة
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولا أعلمُ له عِلَّةً (1) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 59 - علته انقطاعه فإن أبا حازم هذا هو المديني لا الأشجعي ولم يلق أبو صخر الأشجعي ولا المديني لقي أبا هريرة
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک مومن الفت و محبت کرنے والا ہوتا ہے، اور اس شخص میں کوئی خیر نہیں جو نہ دوسروں سے الفت کرے اور نہ ہی اس سے الفت کی جائے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اس میں کوئی علت میری علمی حد تک نہیں ہے، لیکن انہوں نے اس کی تخریج نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 59]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اس میں کوئی علت میری علمی حد تک نہیں ہے، لیکن انہوں نے اس کی تخریج نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 59]
حدیث نمبر: 60
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا أحمد بن النَّضْر بن عبد الوهاب، أخبرنا محمد بن أبي بكر المقدَّمي، حدثنا فُضَيل بن سليمان، حدثنا موسى بن عُقْبة، سمع عُبيدَ الله بن سلمان (2) ، عن أبيه، عن أبي أيوب الأنصاري قال: قال رسول الله ﷺ:"ما مِن عبدٍ يَعبُدُ اللهَ ولا يُشرِكُ به شيئًا، ويقيمُ الصلاةَ، ويؤتي الزكاةَ، ويجتنبُ الكبائرَ، إلَّا دَخَلَ الجنةَ" قال: فسألوه: ما الكبائرُ؟ قال:"الإشراكُ بالله، والفِرارُ من الزَّحْف، وقتلُ النَّفْس" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين (2) ، ولا أعرفُ له عِلّةً، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 60 - عبيد الله عن أبيه سلمان الأغر خرج له البخاري فقط
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين (2) ، ولا أعرفُ له عِلّةً، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 60 - عبيد الله عن أبيه سلمان الأغر خرج له البخاري فقط
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی بندہ اس حال میں اللہ کی عبادت کرے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے اور کبیرہ گناہوں سے بچے، تو وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔“ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کبیرہ گناہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، (جہاد کے میدان میں) دشمن کی صفوں سے بھاگنا، اور کسی جان کو (ناحق) قتل کرنا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اس کی کوئی علت میرے علم میں نہیں، لیکن انہوں نے اس کی تخریج نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 60]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اس کی کوئی علت میرے علم میں نہیں، لیکن انہوں نے اس کی تخریج نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 60]
حدیث نمبر: 61
أخبرنا إبراهيم بن عِصْمة بن إبراهيم العَدْل، حدثني أَبي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا يزيد بن المِقْدام بن شُرَيح بن هانئ، عن المِقدام، عن أبيه شُرَيح بن هانئ، عن هانئ: أنه لمّا وَفَدَ على رسول الله ﷺ، قال: يا رسول الله، أيُّ شيءٍ يُوجِبُ الجنةَ؟ قال:"عليك بحُسْنِ الكلام، وبَذْلِ الطعام" (3) .
هذا حديث مستقيم، وليس له عِلَّة ولم يُخرجاه، والعِلَّة عندهما فيه أنَّ هانئ بن يزيد ليس له راوٍ غيرُ ابنه شُريح، وقد قدَّمتُ الشرطَ في أول هذا الكتاب: أنَّ الصحابي المعروف إذا لم نَجِدْ له راويًا غيرَ تابعي واحد معروف، احتججنا به، وصحَّحنا حديثه، إذ هو صحيح على شرطهما جميعًا، فإنَّ البخاري قد احتجَّ بحديث قيس بن أبي حازم عن مِرْداس الأسلمي عن النبي ﷺ:"يذهبُ الصالحون" (1) ، واحتجَّ بحديث قيس عن عَدِيِّ بن عَمِيرةَ عن النبي ﷺ:"مَن استعملناه على عملٍ" (2) ، وليس لهما راوٍ غير قيس بن أبي حازم، وكذلك مسلمٌ قد احتجَّ بأحاديث أبي مالك الأشجعي عن أبيه، وأحاديث مَجْزَأة بن زاهر الأسلمي عن أبيه (3) ، فلَزِمَهما جميعًا على شرطهما الاحتجاجُ بحديث شُريح بن هانئ عن أبيه، فإنَّ المقدام وأباه شُريحًا من أكابر التابعين، وقد كان هانئُ بن يزيد وَفَدَ على رسول الله ﷺ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 61 - صحيح وليس له علة
هذا حديث مستقيم، وليس له عِلَّة ولم يُخرجاه، والعِلَّة عندهما فيه أنَّ هانئ بن يزيد ليس له راوٍ غيرُ ابنه شُريح، وقد قدَّمتُ الشرطَ في أول هذا الكتاب: أنَّ الصحابي المعروف إذا لم نَجِدْ له راويًا غيرَ تابعي واحد معروف، احتججنا به، وصحَّحنا حديثه، إذ هو صحيح على شرطهما جميعًا، فإنَّ البخاري قد احتجَّ بحديث قيس بن أبي حازم عن مِرْداس الأسلمي عن النبي ﷺ:"يذهبُ الصالحون" (1) ، واحتجَّ بحديث قيس عن عَدِيِّ بن عَمِيرةَ عن النبي ﷺ:"مَن استعملناه على عملٍ" (2) ، وليس لهما راوٍ غير قيس بن أبي حازم، وكذلك مسلمٌ قد احتجَّ بأحاديث أبي مالك الأشجعي عن أبيه، وأحاديث مَجْزَأة بن زاهر الأسلمي عن أبيه (3) ، فلَزِمَهما جميعًا على شرطهما الاحتجاجُ بحديث شُريح بن هانئ عن أبيه، فإنَّ المقدام وأباه شُريحًا من أكابر التابعين، وقد كان هانئُ بن يزيد وَفَدَ على رسول الله ﷺ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 61 - صحيح وليس له علة
سیدنا ہانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں وفد کی صورت میں آئے تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کون سی چیز جنت کو واجب کر دیتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر لازم ہے کہ گفتگو میں عمدگی اختیار کرو اور کھانا کھلاؤ۔“
یہ ایک درست حدیث ہے جس میں کوئی علت نہیں اور ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے اس کی تخریج نہیں کی، ان کے نزدیک اس میں علت یہ ہے کہ ہانی بن یزید سے ان کے بیٹے شریح کے علاوہ کوئی اور راوی نہیں، حالانکہ میں اس کتاب کے آغاز میں یہ شرط بیان کر چکا ہوں کہ جب معروف صحابی کا صرف ایک معروف تابعی راوی ہو تو ہم اس سے احتجاج کریں گے اور اس کی حدیث کو صحیح قرار دیں گے کیونکہ یہ ان دونوں کی شرط پر صحیح ہے، امام بخاری نے قیس بن ابی حازم عن مرداس الاسلمی اور قیس عن عدی بن عمیرہ کی روایات سے احتجاج کیا ہے جبکہ ان کا قیس کے سوا کوئی راوی نہیں، اسی طرح امام مسلم نے ابومالک اشجعی اور مجزاۃ بن زاہر کی اپنے اپنے والد سے روایات پر احتجاج کیا ہے، لہٰذا ان کے اپنے اصول کے مطابق شریح بن ہانی عن ابیہ کی روایت سے احتجاج لازم آتا ہے کیونکہ مقدام اور ان کے والد شریح کبار تابعین میں سے ہیں، اور ہانی بن یزید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں وفد لے کر آئے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 61]
یہ ایک درست حدیث ہے جس میں کوئی علت نہیں اور ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے اس کی تخریج نہیں کی، ان کے نزدیک اس میں علت یہ ہے کہ ہانی بن یزید سے ان کے بیٹے شریح کے علاوہ کوئی اور راوی نہیں، حالانکہ میں اس کتاب کے آغاز میں یہ شرط بیان کر چکا ہوں کہ جب معروف صحابی کا صرف ایک معروف تابعی راوی ہو تو ہم اس سے احتجاج کریں گے اور اس کی حدیث کو صحیح قرار دیں گے کیونکہ یہ ان دونوں کی شرط پر صحیح ہے، امام بخاری نے قیس بن ابی حازم عن مرداس الاسلمی اور قیس عن عدی بن عمیرہ کی روایات سے احتجاج کیا ہے جبکہ ان کا قیس کے سوا کوئی راوی نہیں، اسی طرح امام مسلم نے ابومالک اشجعی اور مجزاۃ بن زاہر کی اپنے اپنے والد سے روایات پر احتجاج کیا ہے، لہٰذا ان کے اپنے اصول کے مطابق شریح بن ہانی عن ابیہ کی روایت سے احتجاج لازم آتا ہے کیونکہ مقدام اور ان کے والد شریح کبار تابعین میں سے ہیں، اور ہانی بن یزید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں وفد لے کر آئے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 61]
حدیث نمبر: 62
كما حدَّثَناه جعفر بن محمد بن (4) نُصَير الخُلدي، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو نعيم، حدثنا يزيد بن المقدام بن شُرَيح، عن أبيه، عن شُريح بن هانئ، قال: حدثني أبي هانئُ بن يزيد: أنه وَفَدَ إلى رسول الله ﷺ، فسمعه النبيُّ ﷺ يَكنُونه بأبي الحَكَم، فقال:"إنَّ الله هو الحَكَمُ، لِمَ تُكنَى بأبي الحَكَم؟" قال: إنَّ قومي إذا اختلفوا حَكَمتُ بينهم، فرَضِيَ الفريقان، قال:"هل لكَ ولدٌ؟" قال: شُرَيحٌ وعبدُ الله ومسلمٌ بنو هانئ، قال:"فمَن أكبَرُهم؟" قال: شريحٌ، قال:"فأنتَ أبو شُرَيح"، فدعا له ولولده (5) . وقد ذكرتُ في كتاب"المعرفة" في ذِكْر المخضرَمِين شريحَ بن هانئ، فإنه أدركَ الجاهليةَ والإسلامَ، ولم يَرَ رسولَ الله ﷺ، فصار عِدادُه في التابعين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 62 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 62 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا شریح بن ہانی اپنے والد ہانی بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں وفد لے کر آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ لوگ انہیں ’ابوالحکم‘ کی کنیت سے پکار رہے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ ہی الحکم (حقیقی فیصلہ کرنے والا) ہے، تم اپنی کنیت ابوالحکم کیوں رکھتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: میری قوم میں جب کوئی اختلاف ہوتا ہے تو میں ان کے درمیان فیصلہ کرتا ہوں اور دونوں فریق راضی ہو جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہاری کوئی اولاد ہے؟“ انہوں نے کہا: ہانی کے بیٹے شریح، عبداللہ اور مسلم ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ان میں سب سے بڑا کون ہے؟“ انہوں نے کہا: شریح، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر تم ’ابوشریح‘ ہو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور ان کی اولاد کے لیے دعا فرمائی۔
میں نے کتاب ”المعرفہ“ میں مخضرمین کے ذکر میں شریح بن ہانی کا تذکرہ کیا ہے، انہوں نے جاہلیت اور اسلام دونوں کا زمانہ پایا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ نہ سکے اس لیے ان کا شمار تابعین میں ہوتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 62]
میں نے کتاب ”المعرفہ“ میں مخضرمین کے ذکر میں شریح بن ہانی کا تذکرہ کیا ہے، انہوں نے جاہلیت اور اسلام دونوں کا زمانہ پایا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ نہ سکے اس لیے ان کا شمار تابعین میں ہوتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 62]
حدیث نمبر: 63
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا خُشْنام بن الصَّدِيق (1) ، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب، حدثنا أبو الرَّبيع الزَّهْراني، حدثنا أبو عبد الرحمن المقرئ، حدثنا حَرْملة بن عِمران التُّجِيبي، حدثنا أبو يونس سُلَيم بن جُبير مولى أبي هريرة، عن أبي هريرة قال: قرأ رسولُ الله ﷺ (إنه كان سميعًا بصيرًا) (2) ، فوضعَ إِصْبَعَه الدَّعّاءَ على عينيه، وإبهامَيهِ على أُذنيه (3) .
هذا حديث صحيح ولم يُخرجاه، وقد احتجَّ مسلم بحرملة بن عمران وأبي يونس، والباقون متَّفَقٌ عليهم. ولهذا الحديث شاهد على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 63 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح ولم يُخرجاه، وقد احتجَّ مسلم بحرملة بن عمران وأبي يونس، والباقون متَّفَقٌ عليهم. ولهذا الحديث شاهد على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 63 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿إِنَّهُ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا﴾ ”بے شک وہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی اپنی آنکھوں پر اور اپنے انگوٹھے اپنے کانوں پر رکھے۔
یہ صحیح حدیث ہے جسے ان دونوں نے روایت نہیں کیا، حالانکہ امام مسلم نے حرملہ بن عمران اور ابویونس سے احتجاج کیا ہے اور باقی تمام راویوں پر اتفاق پایا جاتا ہے۔ اس حدیث کے لیے امام مسلم کی شرط پر ایک شاہد موجود ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 63]
یہ صحیح حدیث ہے جسے ان دونوں نے روایت نہیں کیا، حالانکہ امام مسلم نے حرملہ بن عمران اور ابویونس سے احتجاج کیا ہے اور باقی تمام راویوں پر اتفاق پایا جاتا ہے۔ اس حدیث کے لیے امام مسلم کی شرط پر ایک شاہد موجود ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 63]
حدیث نمبر: 64
حدَّثَناه إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جدِّي، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزَامي، حدثني ابن أبي فُدَيك، حدثني هشام بن سعد، عن زيد بن أسلَمَ، عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"ما كانت مِن فتنةٍ ولا تكونُ حتى تقومَ الساعةُ، أعظمَ من فتنة الدَّجّال، وما من نبيٍّ إلَّا وقد حَذَّرَ قومَه، ولا خبَّرتُكم منه بشيء ما أَخبَرَ به نبيٌّ قبلي" فوضع يدَه على عينه ثم قال:"أشْهَدُ أنَّ الله ليس بأَعورَ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 64 - ورواه زهير ومعاوية عن زيد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 64 - ورواه زهير ومعاوية عن زيد
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سے دنیا بنی ہے اور قیامت تک کوئی فتنہ دجال کے فتنے سے بڑا نہیں ہوا، ہر نبی نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ہے، اور میں تمہیں اس کے بارے میں ایسی بات بتا رہا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے نہیں بتائی“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اپنی آنکھ پر رکھا اور فرمایا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ «أَعْوَر» نہیں ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 64]
حدیث نمبر: 65
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مَهْدي بن رُستُم، حدثنا رَوْح بن عُبَادة، حدثنا شعبة. وحدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا أبو المثنَّى ومحمد بن أيوب، قالا: حدثنا أبو الوليد الطَّيالسي، حدثنا شعبة، عن أبي إسحاق، عن أبي الأحوَص، عن أبيه قال: أتيتُ رسول الله ﷺ وأنا قَشِفُ الهيئةِ، قال:"هل لكَ من مالٍ؟" قلت: نعم، قال:"من أيِّ المال؟" قلت: من كلٍّ، مِن الإبل والخيل والرَّقيق والغنم، قال:"فإذا آتاكَ الله مالًا فليُرَ عليك". قال: وقال رسول الله ﷺ:"هل تُنتَجُ إبلُ قومِك صِحاحٌ آذانُها فَتَعمِدَ إلى المُوسَى فتقطعَ آذانَها وتقولَ: هي بُحُرٌ، وتَشُقَّها أو تشقَّ جلودَها، أو تقول: هي صُرُمٌ (2) ، فتحرِّمَها عليك وعلى أهلك؟" قال: قلت: نعم، قال:"فكلُّ ما آتاكَ الله لك حِلٌّ، وساعِدُ اللهِ أشدُّ من ساعدِك، وموسى اللهِ أحدُّ من مُوسَاك" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وقد رواه جماعة من أئمَّة الكوفيين عن أبي إسحاق، وقد تابع أبو الزَّعْراء عمرُو بن عمرو أبا إسحاق السَّبِيعي في روايته عن أبي الأحوص (1) ، ولم يُخرجاه؛ لأنَّ مالك بن نَضْلة الجُشَمي ليس له راوٍ غيرُ ابنه أبي الأحوص، وقد خرَّج مسلم عن أبي المَلِيح بن أسامة عن أبيه، وليس له راوٍ غيرُ ابنه (2) ، وكذلك عن أبي مالك الأشجعي عن أبيه، وهذا أَولى من ذلك كله.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 65 - صحيح الإسناد
هذا حديث صحيح الإسناد، وقد رواه جماعة من أئمَّة الكوفيين عن أبي إسحاق، وقد تابع أبو الزَّعْراء عمرُو بن عمرو أبا إسحاق السَّبِيعي في روايته عن أبي الأحوص (1) ، ولم يُخرجاه؛ لأنَّ مالك بن نَضْلة الجُشَمي ليس له راوٍ غيرُ ابنه أبي الأحوص، وقد خرَّج مسلم عن أبي المَلِيح بن أسامة عن أبيه، وليس له راوٍ غيرُ ابنه (2) ، وكذلك عن أبي مالك الأشجعي عن أبيه، وهذا أَولى من ذلك كله.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 65 - صحيح الإسناد
سیدنا مالک بن نضلہ جشمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پراگندہ حالت میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس مال ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کس قسم کا مال ہے؟“ میں نے عرض کیا: ہر قسم کا، اونٹ، گھوڑے، غلام اور بکریاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ نے تمہیں مال عطا کیا ہے تو اس کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے۔“ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہاری قوم کے اونٹ کانوں کے ساتھ صحیح سلامت پیدا ہوتے ہیں اور تم استرا لے کر ان کے کان کاٹ دیتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ ’بحر‘ (بغیر کان والے) ہیں، اور تم ان کے کان یا کھالیں چیر دیتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ ’صرم‘ (حرام) ہیں، پھر انہیں اپنے اوپر اور اپنے گھر والوں پر حرام کر لیتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے وہ تمہارے لیے حلال ہے، اور اللہ کا ہاتھ تمہارے ہاتھ سے زیادہ مضبوط ہے اور اللہ کا استرا تمہارے استرے سے زیادہ تیز ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اسے کوفی ائمہ کی ایک جماعت نے ابواسحاق سے روایت کیا ہے، اور ابوزعراء عمرو بن عمرو نے ابواسحاق سبیعی کی متابعت کی ہے، ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا کیونکہ مالک بن نضلہ کا ان کے بیٹے ابواحوص کے سوا کوئی راوی نہیں، حالانکہ امام مسلم نے ابوملیح بن اسامہ عن ابیہ کی روایت نقل کی ہے جس میں ان کے بیٹے کے سوا کوئی راوی نہیں، اور اسی طرح ابومالک اشجعی کی اپنے والد سے روایت ہے، لہٰذا یہ ان سب سے زیادہ اولیٰ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 65]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اسے کوفی ائمہ کی ایک جماعت نے ابواسحاق سے روایت کیا ہے، اور ابوزعراء عمرو بن عمرو نے ابواسحاق سبیعی کی متابعت کی ہے، ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا کیونکہ مالک بن نضلہ کا ان کے بیٹے ابواحوص کے سوا کوئی راوی نہیں، حالانکہ امام مسلم نے ابوملیح بن اسامہ عن ابیہ کی روایت نقل کی ہے جس میں ان کے بیٹے کے سوا کوئی راوی نہیں، اور اسی طرح ابومالک اشجعی کی اپنے والد سے روایت ہے، لہٰذا یہ ان سب سے زیادہ اولیٰ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 65]
حدیث نمبر: 66
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا جعفر بن أبي عثمان الطَّيالسي، حدثنا عفَّان وأبو سلمة قالا: حدثنا حماد. وأخبرني أبو بكر بن عبد الله أخبرنا الحسن بن سفيان، حدثنا هُدْبة، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس: أنَّ رسول الله ﷺ قال في هذه الآية: ﴿فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ﴾ [الأعراف: 143] قال:"بَدَا منه قَدْرُ هذا" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 66 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 66 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت: ﴿فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ﴾ ”پس جب اس کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی“ [سورة الأعراف: 143] کے متعلق فرمایا: ”اللہ نے اپنی تجلی میں سے صرف اتنا سا ظاہر کیا“ (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 66]