المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
40. الرُّقَى وْالْأَدْوِيَةُ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ - تَعَالَى -
دم اور دوائیاں اللہ کی تقدیر میں سے ہیں
حدیث نمبر: 88
حدَّثَناه أبو بكر أحمد بن كامل القاضي ببغداد وأبو أحمد بكر بن محمد الصَّيْرفي بمَرْو قالا: حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا إبراهيم بن حُميد، حدثنا صالح بن أبي الأخضر، عن الزُّهري، عن عروة، عن حَكيم بن حِزام قال: قلت: يا رسول الله، رُقًى كنا نَستَرقي بها، وأدويةٌ كنّا نتداوى بها، هل تردُّ من قَدَرِ الله؟ قال:"هو من قَدَرِ الله" (2) .
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جن منتروں سے ہم جھاڑ پھونک کرتے ہیں اور جن دواؤں سے ہم علاج کرتے ہیں، کیا وہ اللہ کی تقدیر میں سے کچھ ٹال سکتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بھی اللہ کی تقدیر ہی میں سے ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 88]
حدیث نمبر: 89
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن (1) بن ميمون، حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا حسان بن إبراهيم الكِرْماني، حدثنا سعيد بن مسروق، عن يوسف بن أبي بُرْدة بن أبي موسى، عن أبي بُرْدة قال: أتيتُ عائشةَ فقلت: يا أُمّاه، حدِّثيني بشيء سمعتِه من رسول الله ﷺ، قالت: قال رسول الله ﷺ:"الطَّيرُ تجري بقَدَرٍ"، وكان يعجبُه الفَأْلُ الحَسَن (2) . قد احتجَّ الشيخان برُواةِ هذا الحديث عن آخرهم غير يوسف بن أبي بُردة، والذي عندي أنهما لم يُهمِلاه بجَرْحٍ ولا لضعف، بل لقِلَّة حديثه فإنه عزيز الحديث جدًّا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 89 - لم يخرجا ليوسف وهو عزير الحديث
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 89 - لم يخرجا ليوسف وهو عزير الحديث
سیدنا ابوبردہ اپنی والدہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور عرض کیا: اے امی جان! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی بات سنائیے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پرندے (شگون کے طور پر) اللہ کی تقدیر ہی کے مطابق اڑتے ہیں“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیک شگون (اچھی فال) پسند تھی۔
شیخین نے یوسف بن ابی بردہ کے علاوہ اس حدیث کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، اور میرے نزدیک انہوں نے انہیں کسی جرح یا کمزوری کی وجہ سے نہیں چھوڑا بلکہ ان کی روایات کی قلت کی وجہ سے چھوڑا ہے کیونکہ ان کی حدیث بہت نایاب ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 89]
شیخین نے یوسف بن ابی بردہ کے علاوہ اس حدیث کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، اور میرے نزدیک انہوں نے انہیں کسی جرح یا کمزوری کی وجہ سے نہیں چھوڑا بلکہ ان کی روایات کی قلت کی وجہ سے چھوڑا ہے کیونکہ ان کی حدیث بہت نایاب ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 89]