🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. الرقى والأدوية من قدر الله - تعالى -
دم اور دوائیاں اللہ کی تقدیر میں سے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 88
حدَّثَناه أبو بكر أحمد بن كامل القاضي ببغداد وأبو أحمد بكر بن محمد الصَّيْرفي بمَرْو قالا: حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا إبراهيم بن حُميد، حدثنا صالح بن أبي الأخضر، عن الزُّهري، عن عروة، عن حَكيم بن حِزام قال: قلت: يا رسول الله، رُقًى كنا نَستَرقي بها، وأدويةٌ كنّا نتداوى بها، هل تردُّ من قَدَرِ الله؟ قال:"هو من قَدَرِ الله" (2) .
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جن منتروں سے ہم جھاڑ پھونک کرتے ہیں اور جن دواؤں سے ہم علاج کرتے ہیں، کیا وہ اللہ کی تقدیر میں سے کچھ ٹال سکتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بھی اللہ کی تقدیر ہی میں سے ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 88]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 88 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح بن أبي الأخضر، وللخلاف الذي وقع فيه كما بيَّنّا في الحديث السابق. أبو قلابة: هو عبد الملك بن محمد الرَّقاشي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت "حسن لغیرہ" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ سند صالح بن ابی الاخضر کے ضعف اور اس میں موجود اختلاف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: سند میں موجود ابوقلابہ سے مراد "عبدالملک بن محمد رقاشی" ہیں۔
وأخرجه الطبراني (3090)، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (1890) من طريق أبي مسلم الكشّي، عن إبراهيم بن حميد - وهو الطويل - بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی (3090) اور ابونعیم نے "معرفہ الصحابہ" (1890) میں ابومسلم کجی کے واسطے سے ابراہیم بن حمید (جو کہ الطویل ہیں) سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (7619) و (8427).
📌 اہم نکتہ: یہ روایت آگے نمبر (7619) اور (8427) پر دوبارہ آئے گی۔