المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
43. التَّكَلُّمُ فِي الْوِلْدَانِ وَالْقَدَرِ
بچوں اور تقدیر کے بارے میں گفتگو
حدیث نمبر: 94
حدثنا دَعلَج بن أحمد السِّجْزي ببغداد، حدثنا موسى بن هارون وصالح بن مُقاتِل. وحدثنا علي بن حَمْشاذ، حدثنا أبو المثنَّى العَنبَري وأحمد بن علي الأبَّار. وحدثنا أحمد بن سهل (4) بن حَمدَوَيهِ الفقيه ببُخارَى، حدثنا صالح بن محمد بن حَبيب الحافظ، قالوا: حدثنا أحمد بن جَنَابٍ المِصِّيصي، حدثنا عيسى بن يونس، عن سفيان الثَّوْري، عن زُبَيد عن مُرَّة، عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الله قَسَمَ بينكم أخلاقَكم كما قَسَمَ بينكم أرزاقَكم، وإنَّ الله يُعطي الدنيا مَن يحبُّ ومَن لا يحبُّ، ولا يُعطي الإيمانَ إلَّا من يحبُّ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، تفرَّد به أحمد بن جَنَاب المِصِّيصي وهو ثقة، ومن شَرطِنا في هذا الكتاب أنَّا نخرج أفرادَ الثقات إذا لم نَجِدْ لها عِلَّة. وقد وَجَدْنا لعيسى بن يونس فيه متابِعَين أحدهما من شرط هذا الكتاب: وهو سفيان بن عُقْبة أخو قَبِيصة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 94 - صحيح الإسناد
هذا حديث صحيح الإسناد، تفرَّد به أحمد بن جَنَاب المِصِّيصي وهو ثقة، ومن شَرطِنا في هذا الكتاب أنَّا نخرج أفرادَ الثقات إذا لم نَجِدْ لها عِلَّة. وقد وَجَدْنا لعيسى بن يونس فيه متابِعَين أحدهما من شرط هذا الكتاب: وهو سفيان بن عُقْبة أخو قَبِيصة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 94 - صحيح الإسناد
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان تمہارے اخلاق کو اسی طرح تقسیم کیا ہے جس طرح تمہارے درمیان تمہارے رزق تقسیم کیے ہیں، اور یقیناً اللہ تعالیٰ دنیا اسے بھی دیتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے اور اسے بھی جس سے محبت نہیں کرتا، لیکن ایمان صرف اسے عطا فرماتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور احمد بن جناب المیصصی اس کی روایت میں منفرد ہیں مگر وہ ثقہ ہیں، اور ہماری شرط یہ ہے کہ ثقہ راوی کی انفرادی روایت اگر علت سے پاک ہو تو ہم اسے قبول کریں گے۔ عیسیٰ بن یونس کی اس روایت کی متابعت سفیان بن عقبہ نے بھی کی ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 94]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور احمد بن جناب المیصصی اس کی روایت میں منفرد ہیں مگر وہ ثقہ ہیں، اور ہماری شرط یہ ہے کہ ثقہ راوی کی انفرادی روایت اگر علت سے پاک ہو تو ہم اسے قبول کریں گے۔ عیسیٰ بن یونس کی اس روایت کی متابعت سفیان بن عقبہ نے بھی کی ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 94]