المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
42. لَا يُؤْمِنُ الْعَبْدُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ
بندہ اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں بنتا جب تک چار چیزوں پر ایمان نہ لائے
حدیث نمبر: 91
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا أبو حُذيفة، حدثنا سفيان، عن منصور، عن رِبْعي عن رجل، عن علي بن أبي طالب، عن النبي ﷺ نحوَه. أبو حذيفة موسى بن مسعود النَّهْدي وإن كان البخاريُّ يحتجُّ به، فإنه كثير الوَهْم لا يُحكَم له على أبي عاصم النبيل ومحمد بن كثير وأقرانهم، بل يَلزَمُ الخطأُ إذا خالفهم (1) ، والدليل على ما ذكرتُه متابعةُ جريرِ بن عبد الحميد الثوريَّ في روايته عن منصور عن رِبْعي عن علي، وجريرٌ من أعرف الناس بحديث منصور:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 90 - على شرطهما
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 90 - على شرطهما
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کی حدیث بیان فرمائی۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ ابو حذیفہ موسیٰ بن مسعود نہدی اگرچہ امام بخاری کے راوی ہیں لیکن وہ کثیر الوہم ہیں (یعنی ان سے غلطیاں ہو جاتی ہیں)، اس لیے انہیں ابو عاصم النبیل اور محمد بن کثیر جیسے پختہ راویوں پر ترجیح نہیں دی جائے گی بلکہ جب وہ ان کی مخالفت کریں تو ان کی روایت میں غلطی کا ہونا لازم آئے گا؛ میری اس بات کی دلیل جریر بن عبدالحمید کا ثوری کی متابعت میں اس حدیث کو منصور عن ربعی عن علی کے واسطے سے روایت کرنا ہے، کیونکہ جریر منصور کی حدیث کو سب سے بہتر جاننے والے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 91]
امام حاکم فرماتے ہیں کہ ابو حذیفہ موسیٰ بن مسعود نہدی اگرچہ امام بخاری کے راوی ہیں لیکن وہ کثیر الوہم ہیں (یعنی ان سے غلطیاں ہو جاتی ہیں)، اس لیے انہیں ابو عاصم النبیل اور محمد بن کثیر جیسے پختہ راویوں پر ترجیح نہیں دی جائے گی بلکہ جب وہ ان کی مخالفت کریں تو ان کی روایت میں غلطی کا ہونا لازم آئے گا؛ میری اس بات کی دلیل جریر بن عبدالحمید کا ثوری کی متابعت میں اس حدیث کو منصور عن ربعی عن علی کے واسطے سے روایت کرنا ہے، کیونکہ جریر منصور کی حدیث کو سب سے بہتر جاننے والے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 91]
حدیث نمبر: 92
حدَّثَناه يحيى بن منصور القاضي، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا إسحاق بن إسماعيل الطَّالْقاني، حدثنا جرير. وحدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب ومحمد بن شاذان قالا: حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جرير، عن منصور، عن رِبْعي، عن علي، عن النبي ﷺ قال:"لا يؤمنُ عبدٌ حتَّى يؤمن بأربعٍ: يشهدُ أن لا إلهَ إلَّا الله وحده لا شريكَ له، وأنِّي رسول الله بَعَثَني بالحقّ، وأنه مبعوثٌ بعد الموت، ويؤمنُ بالقَدَرِ كلِّه" (2) .
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ چار چیزوں پر ایمان نہ لائے: اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں جسے اس نے حق کے ساتھ بھیجا ہے، اور یہ کہ اسے موت کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا، اور وہ مکمل تقدیر پر ایمان لائے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 92]
حدیث نمبر: 93
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا أبو داود سليمان بن الأشعَث، حدثنا سليمان (1) بن حرب وشَيبان بن أبي شَيْبة قالا: حدثنا جَرير. وأخبرني أبو بكر بن عبد الله، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا يزيد بن صالح ومحمد بن أَبَان قالا: حدثنا جرير بن حازم قال: سمعتُ أبا رجاء العُطَارِدي يقول: سمعتُ ابن عباس يقول: قال رسول الله ﷺ:"لا يزالُ أمرُ هذه الأُمَّةِ مُوامِرًا - أو قال: مُقارِبًا - ما لم يتكلَّموا في الوِلْدانِ والقَدَر" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولا نعلم له عِلّةً (3) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 93 - على شرطهما ولا علة له
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولا نعلم له عِلّةً (3) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 93 - على شرطهما ولا علة له
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت کا معاملہ ہمیشہ درست رہے گا (یا فرمایا: قریب قریب رہے گا) جب تک کہ یہ لوگ (فوت شدگان) بچوں (کے انجام) اور تقدیر کے بارے میں کلام (بحث و مباحثہ) نہیں کریں گے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور اس میں کوئی علت نہیں ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 93]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور اس میں کوئی علت نہیں ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 93]