المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
55. مَجِيءُ مَلَكِ الْمَوْتِ عِنْدَ قَبْضِ الرُّوحِ، وَذِكْرُ مَا يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي الْقَبْرِ لِلْمُؤْمِنِ وَالْكَافِرِ
روح قبض کرنے کے وقت فرشتۂ موت کی آمد اور قبر میں مومن و کافر کے حالات کا بیان
حدیث نمبر: 118
فحدَّثَناه أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، حدثنا الحسن بن عبيد الله، عن المنهال؛ كلُّهم قالوا: عن زاذانَ، عن البراءِ، عن النبي ﷺ نحوَه. هذه الأسانيد التي ذكرتُها كلها صحيحة على شرط الشيخين!
اور حسن بن عبید اللہ کی حدیث کو ابوبکر بن عیاش نے ان سے روایت کیا ہے؛ ان تمام راویوں نے «عن زاذان عن البراء عن النبى صلى الله عليه وسلم» کے الفاظ کہے ہیں۔
یہ تمام اسانید جن کا میں نے ذکر کیا ہے، شیخین کی شرط پر صحیح ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 118]
یہ تمام اسانید جن کا میں نے ذکر کیا ہے، شیخین کی شرط پر صحیح ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 118]
حدیث نمبر: 119
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن الحسين بن الجُنيد، حدثنا المُعافى بن سليمان الحرَّاني، حدثنا فُلَيح بن سليمان، حدثني هلال بن علي - وهو ابن أبي ميمونة - عن أنس بن مالك قال: بَيْنا رسولُ الله ﷺ وبلالٌ يمشيان بالبَقيع، فقال رسول الله ﷺ:"يا بلالُ، هل تسمعُ ما أسمعُ؟" قال: لا والله يا رسول الله، ما أَسمعُه، قال:"ألَا تسمعُ أهلَ القبور يُعذَّبون" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتَّفقا على حديث شُعْبة عن قتادة عن أنس عن النبي ﷺ أنه قال:"لولا أن لا (2) تَدافَنُوا، لسألتُ اللهَ أن يُسمِعَكم عذابَ القبر" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 118 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتَّفقا على حديث شُعْبة عن قتادة عن أنس عن النبي ﷺ أنه قال:"لولا أن لا (2) تَدافَنُوا، لسألتُ اللهَ أن يُسمِعَكم عذابَ القبر" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 118 - على شرطهما
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بقیع (قبرستان) میں چل رہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يا بلالُ، هل تسمعُ ما أسمعُ؟» ”اے بلال! کیا تم وہ سن رہے ہو جو میں سن رہا ہوں؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول! میں نہیں سن رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ألَا تسمعُ أهلَ القبور يُعذَّبون» ”کیا تم قبر والوں کو نہیں سن رہے جنہیں عذاب دیا جا رہا ہے؟“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، تاہم انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اس کی تخریج نہیں کی، انہوں نے صرف «شعبه عن قتاده عن انس» کی حدیث پر اتفاق کیا ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم (ڈر کے مارے) اپنے مردوں کو دفنانا چھوڑ دو گے، تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذابِ قبر سنا دے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 119]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، تاہم انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اس کی تخریج نہیں کی، انہوں نے صرف «شعبه عن قتاده عن انس» کی حدیث پر اتفاق کیا ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم (ڈر کے مارے) اپنے مردوں کو دفنانا چھوڑ دو گے، تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذابِ قبر سنا دے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 119]