المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
62. لَا يَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَكُونَ لَعَّانًا
مومن کے لیے مناسب نہیں کہ وہ لعنت کرنے والا ہو
حدیث نمبر: 146
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب من أصل كتابه، حدثنا محمد بن سنان القَزَّاز، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا كَثير بن زيد قال: سمعتُ سالمًا يحدِّث عن ابن عمر، عن النبي ﷺ قال:"لا ينبغي للمُؤمن أن يكون لعَّانًا" (2) .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کے لیے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ بہت زیادہ لعنت کرنے والا ہو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 146]
حدیث نمبر: 147
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكرَم البزَّاز، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا كثير بن زيد، عن سالم، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"لا ينبغي لمسلم أن يكونَ لعَانًا". قال سالمٌ: وما سمعتُ ابن عمر لَعَنَ شيئًا قطُّ" (3) .
هذا حديث أسنده جماعةٌ من الأئمة عن كثير بن زيد، ثم أوقَفَه عنه حمَّادُ بن زيد وحده (1) ، فأما الشيخان فإنهما لم يخرجا عن كثير بن زيد، وهو شيخٌ من أهل المدينة من أسلم كنيتُه أبو محمد، لا أعرفه يُجرَحُ في الرواية، وإنما تركاه لقلَّة حديثه، والله أعلم. ولهذا الحديث شواهدُ بألفاظ مختلفة، عن أبي هريرة وأبي الدَّرداء وسَمُرةَ بن جُندُب يَصِحُّ بمثلها الحديثُ على شرط الشيخين. فأما حديث أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 146 - أسنده عدة ووقفه حماد بن زيد فقط_x000D_ فَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ
هذا حديث أسنده جماعةٌ من الأئمة عن كثير بن زيد، ثم أوقَفَه عنه حمَّادُ بن زيد وحده (1) ، فأما الشيخان فإنهما لم يخرجا عن كثير بن زيد، وهو شيخٌ من أهل المدينة من أسلم كنيتُه أبو محمد، لا أعرفه يُجرَحُ في الرواية، وإنما تركاه لقلَّة حديثه، والله أعلم. ولهذا الحديث شواهدُ بألفاظ مختلفة، عن أبي هريرة وأبي الدَّرداء وسَمُرةَ بن جُندُب يَصِحُّ بمثلها الحديثُ على شرط الشيخين. فأما حديث أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 146 - أسنده عدة ووقفه حماد بن زيد فقط_x000D_ فَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے یہ لائق نہیں کہ وہ بہت زیادہ لعنت کرنے والا ہو۔“ سالم کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کبھی کسی چیز پر لعنت کرتے ہوئے نہیں سنا۔
اس حدیث کو ائمہ کی ایک جماعت نے کثیر بن زید کے واسطے سے مسنداً بیان کیا ہے، پھر صرف حماد بن زید نے اسے ان سے موقوفاً روایت کیا ہے، رہا شیخین کا معاملہ تو انہوں نے کثیر بن زید سے روایت نہیں لی، وہ مدینہ کے ایک بزرگ ہیں اور ان کی کنیت ابو محمد ہے، میں نہیں جانتا کہ ان کی روایت پر کوئی جرح کی گئی ہو، انہوں نے اسے صرف ان کی احادیث کی قلت کی وجہ سے چھوڑا ہے، واللہ اعلم۔ اس حدیث کے مختلف الفاظ کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ، ابودرداء اور سمرہ بن جندب سے شواہد موجود ہیں جن کے ذریعے یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہو جاتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 147]
اس حدیث کو ائمہ کی ایک جماعت نے کثیر بن زید کے واسطے سے مسنداً بیان کیا ہے، پھر صرف حماد بن زید نے اسے ان سے موقوفاً روایت کیا ہے، رہا شیخین کا معاملہ تو انہوں نے کثیر بن زید سے روایت نہیں لی، وہ مدینہ کے ایک بزرگ ہیں اور ان کی کنیت ابو محمد ہے، میں نہیں جانتا کہ ان کی روایت پر کوئی جرح کی گئی ہو، انہوں نے اسے صرف ان کی احادیث کی قلت کی وجہ سے چھوڑا ہے، واللہ اعلم۔ اس حدیث کے مختلف الفاظ کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ، ابودرداء اور سمرہ بن جندب سے شواہد موجود ہیں جن کے ذریعے یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہو جاتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 147]