🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
62. لا ينبغي للمؤمن أن يكون لعانا
مومن کے لیے مناسب نہیں کہ وہ لعنت کرنے والا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 146
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب من أصل كتابه، حدثنا محمد بن سنان القَزَّاز، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا كَثير بن زيد قال: سمعتُ سالمًا يحدِّث عن ابن عمر، عن النبي ﷺ قال:"لا ينبغي للمُؤمن أن يكون لعَّانًا" (2) .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کے لیے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ بہت زیادہ لعنت کرنے والا ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 146]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 146 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل محمد بن سنان القزاز، وقد توبع، ومن فوقه ثقات غير كثير بن زيد فإنه صدوق حسن الحديث. أبو عامر العقدي: هو عبد الملك بن عمرو القيسي.
⚖️ درجۂ حدیث: متابعات و شواہد کی بنا پر یہ سند حسن ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: کثیر بن زید صدوق اور حسن الحدیث راوی ہیں، جبکہ ابوعامر العقدی سے مراد "عبدالملک بن عمرو قیسی" ہیں۔
وأخرجه الترمذي (2019) عن بُندار. وهو محمد بن بشار - عن أبي عامر العقدي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی نے (2019) میں بندار (محمد بن بشار) کے واسطے سے ابوعامر العقدی کی سند سے روایت کیا ہے۔
وقال: حديث حسن. وانظر ما بعده.
⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن" قرار دیا ہے۔
وفي الباب عن عبد الله بن مسعود، سلف عند المصنف برقم (29) بلفظ: "ليس المؤمن بالطعّان ولا اللعَّان .. ".
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت مصنف کے ہاں پہلے نمبر (29) پر گزر چکی ہے کہ مومن طعنہ دینے والا اور لعنت کرنے والا نہیں ہوتا۔