🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
62. لا ينبغي للمؤمن أن يكون لعانا
مومن کے لیے مناسب نہیں کہ وہ لعنت کرنے والا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 147
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكرَم البزَّاز، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا كثير بن زيد، عن سالم، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"لا ينبغي لمسلم أن يكونَ لعَانًا". قال سالمٌ: وما سمعتُ ابن عمر لَعَنَ شيئًا قطُّ" (3) .
هذا حديث أسنده جماعةٌ من الأئمة عن كثير بن زيد، ثم أوقَفَه عنه حمَّادُ بن زيد وحده (1) ، فأما الشيخان فإنهما لم يخرجا عن كثير بن زيد، وهو شيخٌ من أهل المدينة من أسلم كنيتُه أبو محمد، لا أعرفه يُجرَحُ في الرواية، وإنما تركاه لقلَّة حديثه، والله أعلم. ولهذا الحديث شواهدُ بألفاظ مختلفة، عن أبي هريرة وأبي الدَّرداء وسَمُرةَ بن جُندُب يَصِحُّ بمثلها الحديثُ على شرط الشيخين. فأما حديث أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 146 - أسنده عدة ووقفه حماد بن زيد فقط_x000D_ فَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے یہ لائق نہیں کہ وہ بہت زیادہ لعنت کرنے والا ہو۔ سالم کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کبھی کسی چیز پر لعنت کرتے ہوئے نہیں سنا۔
اس حدیث کو ائمہ کی ایک جماعت نے کثیر بن زید کے واسطے سے مسنداً بیان کیا ہے، پھر صرف حماد بن زید نے اسے ان سے موقوفاً روایت کیا ہے، رہا شیخین کا معاملہ تو انہوں نے کثیر بن زید سے روایت نہیں لی، وہ مدینہ کے ایک بزرگ ہیں اور ان کی کنیت ابو محمد ہے، میں نہیں جانتا کہ ان کی روایت پر کوئی جرح کی گئی ہو، انہوں نے اسے صرف ان کی احادیث کی قلت کی وجہ سے چھوڑا ہے، واللہ اعلم۔ اس حدیث کے مختلف الفاظ کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ، ابودرداء اور سمرہ بن جندب سے شواہد موجود ہیں جن کے ذریعے یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہو جاتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 147]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 147 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده حسن من أجل كثير بن زيد.
⚖️ درجۂ حدیث: کثیر بن زید کی وجہ سے یہ سند حسن ہے۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (4792) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے "شعب الایمان" (4792) میں ابوعبداللہ الحاکم کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الروياني في "مسنده" (1445) عن محمد بن إسحاق - وهو الصاغاني - عن عثمان بن عمر، به. وانظر ما قبله.
📖 حوالہ / مصدر: اسے الرويانی نے اپنی مسند (1445) میں محمد بن اسحاق صاغانی عن عثمان بن عمر کی سند سے روایت کیا ہے۔
(1) أخرج رواية حماد هذه الطبراني في "المعجم الكبير" (13063)، ولفظه: ليس المؤمن بطعّان ولا لعّان. ورواية الوقف هذه شاذَّة لمخالفتها رواية الأكثرين عن كثير بن زيد مرفوعًا.
📖 حوالہ / مصدر: حماد کی یہ روایت طبرانی (13063) میں موجود ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس روایت کا "موقوف" ہونا شاذ ہے کیونکہ اکثر راویوں نے اسے کثیر بن زید سے "مرفوع" روایت کیا ہے۔