المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
70. شعائر الدين
دین کی نشانیاں
حدیث نمبر: 166
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني. وأخبرنا أبو النَّضْر الفقيه، وأبو الحسن العَنَزي، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارِمي. وحدثني أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا محمد بن أيوب؛ قالوا: حدثنا محمد ابن الصَّباح، حدثنا سعيد بن عبد الرحمن الجُمحي، عن عُبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: أَوصني، قال:"تَعبُدُ اللهَ لا تُشْرِكُ به شيئًا، وتقيمُ الصلاة، وتؤتي الزكاة، وتصومُ شهر رمضان، وتحجُّ وتعتمرُ (1) ، وتسمعُ وتطيعُ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنَّ رُواته عن آخرهم ثقاتٌ، ولم يُخرجاه توقِّيًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 165 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنَّ رُواته عن آخرهم ثقاتٌ، ولم يُخرجاه توقِّيًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 165 - على شرطهما
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا: مجھے وصیت فرمائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، حج اور عمرہ کرو، اور (امیر کی بات) سنو اور اطاعت کرو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، تاہم انہوں نے احتیاطاً اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 166]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، تاہم انہوں نے احتیاطاً اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 166]
حدیث نمبر: 167
لِمَا سمعتُ عليَّ بن عيسى يقول: سمعت الحسين بن محمد بن زياد يقول: حدثنا محمد بن رافع، حدثنا محمد بن بشر قال: حدَّثنيه عبيد الله بن عمر العُمَري، عن يونس بن عُبيد، عن الحسن قال: جاء أعرابيٌّ إلى عمر فسأله عن الدِّين، فقال: يا أمير المؤمنين، علِّمني الدِّينَ، قال: تَشْهَدُ أن لا إله إلا الله وأنَّ محمدًا رسول الله، وتقيمُ الصلاة، وتؤتي الزكاة، وتصومُ رمضان، وتحجُّ البيت، وعليك بالعَلَانيَةِ، وإياك والسِّرَّ، وإياك وكلَّ شيءٍ يُستحيا منه، قال: فإِذا لَقِيتُ اللهَ قلتُ: أَمَرني بهذا عمرُ بن الخطَّاب فقال: يا عبد الله، خُذْ بهذا، فإِذا لَقِيتَ اللهَ فقل ما بدا لك (1) . قال القبَّاني (2) : قلت لمحمد بن يحيى: أيُّهما المحفوظُ: حديثُ يونس عن الحسن عن عمر، أو نافعٌ عن ابن عمر؟ فقال محمد بن يحيى: حديث الحسن أَشبَهُ. قال الحاكم: فرضي الله عن محمد بن يحيى، تَورَّع عن الجواب حَذَرًا لمخالفة قوله ﷺ:"دَعْ ما يريبكُ إلى ما لا يَرِيبكُ" (1) ، ولو تأمَّل الحديثين لظَهَرَ له أنَّ الألفاظ مختلفة، وهما حديثان مُسنَدان وحكاية، ولا يُحفَظ لعبيد الله عن يونس بن عبيد غيرُ حديث الإمارة وقد تفرَّد به الدَّرَاوَرْدي (2) ، وسعيد بن عبد الرحمن الجُمحي ثقة مأمون، وقد رواه عنه غيرُ محمد بن الصبَّاح، على أنَّ محمد بن الصباح أيضًا ثقة مأمون.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 166 - قيل أن هذا أشبه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 166 - قيل أن هذا أشبه
حسن بصری سے روایت ہے کہ ایک اعرابی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور دین کے بارے میں سوال کیا: اے امیر المومنین! مجھے دین سکھائیے، انہوں نے فرمایا: تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو، اور تم پر لازم ہے کہ نیکی علانیہ کرو، اور چھپ کر (برائی) کرنے سے بچو، اور ہر اس کام سے بچو جس سے (لوگوں کے سامنے) شرمندگی اٹھانی پڑے۔ اس شخص نے کہا: جب میں اللہ سے ملوں گا تو کہوں گا کہ مجھے اس کا حکم عمر بن خطاب نے دیا تھا، تو انہوں نے فرمایا: اے اللہ کے بندے! اسے تھام لو، پھر جب تم اللہ سے ملو تو جو جی چاہے کہنا۔
امام قبانی کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن یحییٰ سے پوچھا کہ ان میں سے کون سی روایت محفوظ ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ حسن کی روایت زیادہ مشابہ ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ محمد بن یحییٰ نے احتیاطاً جواب دیا، حالانکہ یہ دونوں الگ الگ مسند حدیثیں ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 167]
امام قبانی کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن یحییٰ سے پوچھا کہ ان میں سے کون سی روایت محفوظ ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ حسن کی روایت زیادہ مشابہ ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ محمد بن یحییٰ نے احتیاطاً جواب دیا، حالانکہ یہ دونوں الگ الگ مسند حدیثیں ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 167]