🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

97. قِصَّةُ خَلْقِ آدَمَ وَجَعْلِهِ مِنْ عُمْرِهِ سِتَّينَ سَنَةً لِدَاوُدَ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ -
آدم علیہ السلام کی تخلیق کا واقعہ اور ان کا اپنے عمر سے ساٹھ سال سیدنا داؤد علیہ السلام کو دینا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 215
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بكَّار بن قُتيبة القاضي بمصر، حدثنا صفوان بن عيسى القاضي، حدثنا الحارث بن عبد الرحمن بن أبي ذُبَاب، عن سعيد بن أبي سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"لمّا خَلَقَ اللهُ آدمَ ونَفَخَ فيه الروحَ عَطَسَ، فقال: الحمدُ لله، فحَمِدَ الله بإذن الله، فقال له ربُّه: رَحِمَك ربُّك يا آدم، وقال له: يا آدمُ، اذهب إلى أولئك الملائكة -إلى ملأٍ منهم جلوس- فقل: السلامُ عليكم، فذهب فقالوا: وعليك السلامُ ورحمةُ الله وبركاتُه، ثم رجع إلى ربِّه، فقال: هذه تحيَّتُك وتحيَّةُ بَنِيك وبنيهم، فقال الله له ويداه مقبوضتان: اختر أيهما شئت، فقال: اخترتُ يمين ربي، وكِلْنا يَدَيْ ربي يمينٌ مُباركة، ثم بَسَطَها، فإذا فيها آدمُ وذُرِّيتُه، فقال: أي ربِّ، ما هؤلاء؟ قال: هؤلاء ذُرِّيّتُك، فإذا كلُّ إنسانٍ مكتوبٌ عمرُه بين عينيه، وإذا فيهم رجلٌ أضوَؤُهم -أو قال: من أضوئهم- لم يكتب له إلّا أربعين سنة، قال: يا ربِّ، زِدْ في عمرِه، قال: ذاك الذي كُتِبَ له، قال: فإني قد جعلتُ له من عمري ستين سنةً، قال: أنت وذاك، قال: ثم أُسكِنَ الجنةَ ما شاء الله، ثم أُهبِطَ منها آدمُ يعدُّ لنفسه، فأتاه مَلَكُ الموت، فقال له آدم: قد عَجِلتَ، قد كُتِبَ لي ألفُ سنة، قال: بلى، ولكنك جعلتَ لابنك داودَ منها ستين سنة، فَجَحَدَ فَجَحَدَت ذريتُه، ونَسِيَ فنَسِيَت ذريتُه، فيومئذٍ أُمِرَ بالكتاب والشُّهود" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بالحارث بن عبد الرحمن بن أبي ذُبَاب، وقد رواه عنه غيرُ صفوان (1) ، وإنما خرَّجتُه من حديث صفوان لأني عَلَوتُ فيه. وله شاهدٌ صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 214 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان میں روح پھونکی تو انہیں چھینک آئی، انہوں نے اللہ کے حکم سے 'الحمد للہ' کہا، تو ان کے رب نے فرمایا: اے آدم! تیرے رب نے تجھ پر رحم فرمایا، پھر اللہ نے فرمایا: اے آدم! فرشتوں کی اس جماعت کے پاس جاؤ جو وہاں بیٹھی ہے اور کہو 'السلام علیکم'؛ وہ گئے اور (سلام کیا تو) فرشتوں نے جواب دیا 'وعلیک السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ'؛ پھر وہ اپنے رب کے پاس واپس آئے تو اللہ نے فرمایا: یہ تمہارا اور تمہاری اولاد کا باہمی سلام و تحیہ ہے۔ پھر اللہ نے اپنی دونوں مٹھیاں بند کر کے فرمایا: ان میں سے جسے چاہو چن لو، آدم علیہ السلام نے عرض کیا: میں نے اپنے رب کے دائیں ہاتھ کا انتخاب کیا، اور میرے رب کے دونوں ہاتھ ہی دائیں (مبارک اور باعثِ خیر) ہیں۔ پھر اللہ نے اپنی مٹھی کھولی تو اس میں آدم اور ان کی تمام ذریت (نسل) موجود تھی، آدم علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! یہ کون لوگ ہیں؟ اللہ نے فرمایا: یہ تمہاری اولاد ہے، اور ہر انسان کی دونوں آنکھوں کے درمیان اس کی عمر لکھی ہوئی تھی، آدم علیہ السلام نے ان میں ایک شخص کو دیکھا جو سب سے زیادہ روشن تھا لیکن اس کی عمر صرف چالیس سال لکھی تھی، آدم علیہ السلام نے عرض کیا: اے رب! اس کی عمر میں اضافہ فرما دے، اللہ نے فرمایا: اس کے لیے یہی لکھی گئی ہے، آدم علیہ السلام نے عرض کیا: میں نے اپنی عمر میں سے ساٹھ سال اسے دے دیے، اللہ نے فرمایا: یہ تمہارا اختیار ہے۔ پھر آدم علیہ السلام جب تک اللہ نے چاہا جنت میں رہے، پھر وہاں سے زمین پر اتارے گئے اور اپنی عمر کے دن گننے لگے، جب ملک الموت ان کے پاس آئے تو آدم علیہ السلام نے کہا: آپ جلدی آ گئے ہیں، میری عمر تو ایک ہزار سال لکھی گئی تھی، فرشتے نے کہا: جی ہاں، لیکن آپ نے اپنے بیٹے داؤد (علیہ السلام) کو اپنی عمر میں سے ساٹھ سال دے دیے تھے۔ پس آدم علیہ السلام نے (بشری تقاضے کے تحت) انکار کیا تو ان کی ذریت بھی انکار کرنے لگی، اور وہ بھول گئے تو ان کی ذریت بھی بھولنے لگی، اسی دن سے (معاملات میں) تحریر اور گواہوں کا حکم دیا گیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے حارث بن عبدالرحمن سے احتجاج کیا ہے، اور اسے صفوان کے علاوہ دیگر راویوں نے بھی روایت کیا ہے، لیکن میں نے صفوان کی سند اس لیے ذکر کی کیونکہ وہ عالی سند ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 215]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 216
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن علي الفقيه الشاشيُّ في آخرين، قالوا: حدثنا أبو عَرُوبة، حدثنا مَخلَد بن مالك، حدثنا أبو خالد الأحمر، عن داود بن أبي هند، عن الشَّعْبي، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ نحوه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 215 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح (پچھلی حدیث کی طرح) ارشاد فرمایا۔
یہ اس کا ایک صحیح شاہد (تائیدی روایت) ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 216]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں