المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
106. لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ
میری امت میں سے ایک شخص کی شفاعت سے بنی تمیم سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔
حدیث نمبر: 237
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا علي بن إبراهيم الواسطي، حدثنا وَهْب بن جَرير، حدثنا شعبة. وأخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة (1) ، حدثنا خالد، عن عبد الله بن شَقيق، عن رجل من أصحاب النبي ﷺ يقال له: ابن أبي الجَدْعاء، قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"ليَدخُلَنَّ الجنةَ بشفاعةِ رجلٍ من أمَّتي أكثرُ من بني تَميمٍ" (2) . هذا عبد الله بن أبي الجَدْعاء صحابيٌّ مشهور، مخرَّجٌ ذِكرُه في المسانيد، وهو من ساكني مكة من الصحابة.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی، جنہیں ابن ابی الجدعاء کہا جاتا ہے، سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت کے ایک شخص کی شفاعت کی بدولت (قبیلہ) بنی تمیم کی کل تعداد سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔“
یہ عبداللہ بن ابی الجدعاء ایک مشہور صحابی ہیں، جن کا ذکر مسانید میں موجود ہے اور وہ مکہ کے رہنے والے صحابہ میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 237]
یہ عبداللہ بن ابی الجدعاء ایک مشہور صحابی ہیں، جن کا ذکر مسانید میں موجود ہے اور وہ مکہ کے رہنے والے صحابہ میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 237]
حدیث نمبر: 238
حدثنا بصحَّة ما ذكرتُه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا بِشْر بن المفضَّل، حدثنا خالد، عن عبد الله بن شَقيق قال: جلستُ إلى قوم أنا رابعُهم، فقال أحدهم: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ليَدخُلَنَّ الجنةَ بشفاعةِ رجلٍ من أمتي أكثرُ من بني تَميمٍ" قال: قلنا: سِواكَ يا رسول الله؟ قال:"سِوايَ". قلت: أنت سمعتَه من رسول الله ﷺ؟ قال: نعم، فلمّا قام قلتُ: مَن هذا؟ قالوا: هذا ابنُ أبي الجَدْعاء (3) .
هذا حديث صحيح قد احتجَّا برُواتِه، وعبدُ الله بن شقيق تابعيٌّ محتَجٌّ به، وإنما تَرَكاه لما قدَّمنا ذِكرَه من تفرُّد التابعي عن الصحابي (4) .
هذا حديث صحيح قد احتجَّا برُواتِه، وعبدُ الله بن شقيق تابعيٌّ محتَجٌّ به، وإنما تَرَكاه لما قدَّمنا ذِكرَه من تفرُّد التابعي عن الصحابي (4) .
عبداللہ بن شقیق سے روایت ہے کہ میں ایک جماعت کے پاس بیٹھا تھا اور میں چوتھا شخص تھا، تو ان میں سے ایک صاحب نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میری امت کے ایک شخص کی شفاعت سے بنو تمیم (قبیلے) سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔“ ہم نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) کیا آپ کے علاوہ کوئی اور شخص؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، میرے علاوہ کوئی اور۔“ میں (عبداللہ بن شقیق) نے پوچھا: کیا آپ نے خود اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ جب وہ صاحب چلے گئے تو میں نے پوچھا کہ یہ کون تھے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ (صحابی رسول) ابن ابی الجدعاء تھے۔
یہ حدیث صحیح ہے اور امام بخاری و مسلم نے اس کے راویوں سے استدلال کیا ہے، اور عبداللہ بن شقیق ایک ایسے تابعی ہیں جن سے احتجاج کیا جاتا ہے، ان دونوں (شیخین) نے اسے محض اس لیے چھوڑ دیا کہ جیسا ہم نے پہلے ذکر کیا کہ ایک ہی تابعی کا ایک صحابی سے روایت کرنے میں منفرد ہونا (ان کے معیار کے خلاف تھا)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 238]
یہ حدیث صحیح ہے اور امام بخاری و مسلم نے اس کے راویوں سے استدلال کیا ہے، اور عبداللہ بن شقیق ایک ایسے تابعی ہیں جن سے احتجاج کیا جاتا ہے، ان دونوں (شیخین) نے اسے محض اس لیے چھوڑ دیا کہ جیسا ہم نے پہلے ذکر کیا کہ ایک ہی تابعی کا ایک صحابی سے روایت کرنے میں منفرد ہونا (ان کے معیار کے خلاف تھا)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 238]