🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. اعْرِفُوا أَنْسَابَكُمْ تَصِلُوا أَرْحَامَكُمْ
اپنے نسب (خاندان) کو پہچانو تاکہ تم قرابت داروں کے ساتھ اچھا تعلق رکھ سکو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 305
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو بَكْرة بكَّار بن قُتيبة بن بكَّار القاضي بمصر، حدثنا أبو داود الطَّيالسي، حدثنا إسحاق بن سعيد، عن أبيه قال: كنتُ عند ابن عباس فأتاه رجل فمَتَّ إليه برَحِمٍ بعيدة، فقال ابن عباس: قال رسول الله ﷺ:"اعرِفوا أنسابَكم تَصِلُوا أرحامَكم، فإنه لا قُرْبَ لرَحِمٍ إذا قُطِعَت وإن كانت قريبةً، ولا بُعْدَ لها إذا وُصِلَت وإن كانت بعيدةً" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يخرجه واحدٌ منهما، وإسحاق بن سعيد: هو ابن عمرو بن سعيد بن العاص قد احتجَّ البخاري بأكثر رواياته عن أبيه (3) . ولهذا الحديث شاهد مَخرَجُ مثلِه في الشواهد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 301 - على شرط البخاري
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں ان کے پاس موجود تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کسی دور کی رشتہ داری کا حوالہ دیا، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے نسب کو پہچانو تاکہ تم صلہ رحمی کر سکو، کیونکہ رشتہ داری میں کوئی قربت نہیں رہتی اگر اسے توڑ دیا جائے خواہ وہ قریب ہی کیوں نہ ہو، اور اس میں کوئی دوری نہیں رہتی اگر اسے جوڑ لیا جائے خواہ وہ دور ہی کیوں نہ ہو۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین میں سے کسی نے اسے روایت نہیں کیا، اور اسحاق بن سعید (ابن عمرو بن سعید بن عاص) سے امام بخاری نے ان کے والد کے واسطے سے اکثر روایات لی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 305]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أبو داود الطيالسي: هو سليمان بن داود بن الجارود» [ترقيم الرساله 305] [ترقيم الشركة 300] [ترقيم العلميه 301]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 306
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا أبو بكر محمد بن شاذانَ الجوهري، حدثنا يوسف بن سلمان، حدثنا حاتم بن إسماعيل، حدثنا أبو الأسباط الحارثي، عن يحيى بن أبي كَثير، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"تَعلَّموا أنسابَكم تَصِلوا أرحامَكم" (1) . حدثنا علي بن عيسى الحِيرِي، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد قال: سمعتُ محمدَ بن يحيى يقول: أبو الأسباط الحارثي: هو بِشْر بن رافع.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے نسب سیکھو تاکہ تم صلہ رحمی کر سکو۔
اس حدیث کا ایک شاہد (تائیدی روایت) بھی موجود ہے جس کا مخرج شواہد کے مثل ہے، اور محمد بن یحییٰ کہتے ہیں کہ ابو الاصباط حارثی سے مراد بشر بن رافع ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 306]
تخریج الحدیث: «صحيح بما قبله، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي الأسباط الحارثي، لكن سيأتي الحديث بنحوه برقم (7471) بإسناد حسن» [ترقيم الرساله 306] [ترقيم الشركة 301]

الحكم على الحديث: صحيح بما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں