المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
34. كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَى جَانِبِ الْمِنْبَرِ فَيُحَدِّثُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن منبر کے قریب کھڑے ہو کر احادیث بیان فرمایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 373
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الربيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، أخبرنا سفيان. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه - واللفظ له - أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، حدثني أبو النَّضْر سالم مولى عمر بن عبيد الله بن مَعمَر، عن عبيد الله بن أبي رافع، عن أبيه، عن النبي ﷺ قال:"لا أُلفِيَنَّ (1) أحدكم متَّكِئًا على أَريكتِه، يأتيه الأمرُ من أمري ممّا أمرتُ به أو نَهيتُ عنه، فيقول: ما أدري، ما وَجَدْنا في كتاب الله اتَّبعناه" (2) . قد أقام سفيانُ بن عُيينة هذا الإسنادَ وهو صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، والذي عندي أنهما تَرَكاه لخلافٍ للمصريين في هذا الإسناد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 368 - على شرطهما وتركاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 368 - على شرطهما وتركاه
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم میں سے کسی کو اس حال میں ہرگز نہ پاؤں کہ وہ اپنے آراستہ تخت (صوفے) پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور اس کے پاس میرا کوئی ایسا حکم پہنچے جس کا میں نے حکم دیا ہے یا جس سے منع کیا ہے، تو وہ (آگے سے) کہے: میں نہیں جانتا، ہمیں اللہ کی کتاب میں جو (حکم) ملا ہم نے اسی کی پیروی کی (اور باقی کو چھوڑ دیا)۔“
سفیان بن عیینہ نے اس اسناد کو قائم رکھا ہے اور یہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، میرے نزدیک انہوں نے اس اسناد میں مصریوں کے اختلاف کی وجہ سے اسے چھوڑا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 373]
سفیان بن عیینہ نے اس اسناد کو قائم رکھا ہے اور یہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، میرے نزدیک انہوں نے اس اسناد میں مصریوں کے اختلاف کی وجہ سے اسے چھوڑا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 373]
حدیث نمبر: 374
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني مالك، عن أبي النَّضْر، عن عبيد الله بن أبي رافع، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا أعرِفنَّ الرجلَ متَّكئًا، يأتيه الأمرُ من أمري ممّا أمرت به أو نهيتُ عنه، فيقول: ما نَدْري، هذا هو كتابُ الله، وليس هذا فيه" (3) .
عبیداللہ بن ابی رافع سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کسی شخص کو اس حال میں ہرگز نہ پہچانوں کہ وہ ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور اس کے پاس میرا کوئی حکم یا ممانعت پہنچے تو وہ کہے: ہم نہیں جانتے، یہ اللہ کی کتاب ہے اور اس میں یہ (حکم) موجود نہیں ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 374]
حدیث نمبر: 375
قال (4) : وأخبرني عمرو بن الحارث، عن أبي النضر، عن عبيد الله بن أبي رافع، عن النبي ﷺ. قال: وأخبرني الليث بن سعد، عن أبي النضر، عن موسى بن عبد الله بن قيس، عن أبي رافع، عن رسول الله ﷺ أنه قال والناسُ حولَه:"لا أعرفَنَّ أحدَكم يأتيه الأمرُ من أمري قد أمرتُ به أو نهيتُ عنه، وهو متَّكئٌ على أَريكتِه، فيقول: ما وَجَدْنا في كتاب الله عَمِلْنا به، وإلَّا فلا" (1) . قال الحاكم: أنا على أصلي الذي أصَّلتُه في خُطْبة هذا الكتاب: أنَّ الزيادة من الثِّقة مقبولة، وسفيان بن عُيَينة حافظ ثقة ثبت، وقد مَيَّز وحَفِظَ واعْتَمَدْنا حفظَه بعد أن وجدنا للحديث شاهدين بإسنادين صحيحين، أمّا أحدهما:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 370 - سفيان حافظ ثبت فاعتمدناه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 370 - سفيان حافظ ثبت فاعتمدناه
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبکہ لوگ آپ کے گرد جمع تھے: ”میں تم میں سے کسی کو اس حال میں ہرگز نہ پہچانوں کہ اس کے پاس میرا کوئی حکم یا ممانعت پہنچے اور وہ اپنے تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہوا کہے: ہمیں اللہ کی کتاب میں جو ملے گا ہم اسی پر عمل کریں گے، ورنہ نہیں۔“
میں اپنے اس اصول پر قائم ہوں کہ ثقہ راوی کی زیادتی مقبول ہوتی ہے، اور سفیان بن عیینہ ثقہ ثبت حافظ ہیں، ہم نے ان کے حفظ پر اعتماد کیا ہے کیونکہ اس حدیث کے دو مزید صحیح شاہد موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 375]
میں اپنے اس اصول پر قائم ہوں کہ ثقہ راوی کی زیادتی مقبول ہوتی ہے، اور سفیان بن عیینہ ثقہ ثبت حافظ ہیں، ہم نے ان کے حفظ پر اعتماد کیا ہے کیونکہ اس حدیث کے دو مزید صحیح شاہد موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 375]