المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
27. أَبْوَابُ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ
جنابت سے غسل کے احکام۔
حدیث نمبر: 548
حدثنا أبو العباس، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا وهب بن جَرِير وأبو داود. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حَرْب وحفص بن عمر وحجَّاج بن مِنْهال ومسلم بن إبراهيم، قالوا: حدثنا شُعْبة، عن عَمرو بن مُرَّة، عن عبد الله بن سَلِمة قال: دخلنا على عليٍّ أنا ورجلان: رجلٌ منا ورجلٌ من بني أَسد، قال: فبعثهما لحاجته وقال: إنكما عِلْجانِ فعالِجَا عن دِينِكما، قال: ثم دخل المَخرَجَ ثم خرج، فدعا بماءٍ فغسل يديه، ثم جعل يقرأُ القرآنَ، فكأنَّا أَنكَرْنا، فقال: كأنكما أنكَرتُما! كان رسول الله ﷺ يقضي الحاجةَ ويقرأُ القرآنَ، ويأكلُ اللَّحمَ، ولم يكن يَحجُبُه عن قراءَتِه شيءٌ ليس الجنابةَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، والشيخان لم يحتجَّا بعبد الله بن سَلِمة، ومدار الحديث عليه، وعبد الله بن سَلِمة غيرُ مطعونٍ فيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 541 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، والشيخان لم يحتجَّا بعبد الله بن سَلِمة، ومدار الحديث عليه، وعبد الله بن سَلِمة غيرُ مطعونٍ فيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 541 - صحيح
عبداللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور دو دیگر آدمی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، انہوں نے ان دونوں کو کسی کام سے بھیجا اور فرمایا: ”تم دونوں قوی آدمی ہو، لہٰذا اپنے دین کی حفاظت کے لیے محنت کرو۔“ پھر وہ بیت الخلاء تشریف لے گئے، واپسی پر پانی منگوایا اور ہاتھ دھوئے، پھر وہ قرآن پڑھنے لگے، ہمیں یہ بات کچھ عجیب لگی تو انہوں نے فرمایا: ”شاید تم اسے عجیب سمجھ رہے ہو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے بعد (وضو کے بغیر) قرآن پڑھ لیا کرتے تھے اور گوشت بھی تناول فرماتے تھے، اور جنابت (ناپاکی) کے علاوہ کوئی بھی چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن پڑھنے سے نہیں روکتی تھی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اگرچہ شیخین نے عبداللہ بن سلمہ سے احتجاج نہیں کیا لیکن وہ مطعون راوی نہیں ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 548]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اگرچہ شیخین نے عبداللہ بن سلمہ سے احتجاج نہیں کیا لیکن وہ مطعون راوی نہیں ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 548]
حدیث نمبر: 549
أخبرنا جعفر بن محمد بن نُصَير وأبو عَوْن محمد بن أحمد بن ماهان الجزَّار بمكة في آخرِين، قالوا: حدثنا علي بن عبد العزيز. وحدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي؛ قالا: حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا شُعْبة، عن عاصم الأحوَل، عن أبي المتوكِّل، عن أبي سعيد الخُدْري، أنَّ النبي ﷺ قال:"إذا أَتى أحدُكم أهلَه ثم أراد أن يَعُودَ فليتوضَّأْ، فإنه أنشَطُ للعَوْدِ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما خرَّجاه إلى قوله:"فليتوضأ" فقط، ولم يذكرا فيه"فإنه أنشَطُ للعَوْد"، وهذه لفظة تفرَّد بها شعبةُ عن عاصم، والتفرُّد من مثله مقبولٌ عندهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 542 - لم يخرجا آخره
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما خرَّجاه إلى قوله:"فليتوضأ" فقط، ولم يذكرا فيه"فإنه أنشَطُ للعَوْد"، وهذه لفظة تفرَّد بها شعبةُ عن عاصم، والتفرُّد من مثله مقبولٌ عندهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 542 - لم يخرجا آخره
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی اہلیہ سے قربت کرے اور پھر دوبارہ (قربت کا) ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ وضو کر لے، کیونکہ یہ دوبارہ لوٹنے کے لیے زیادہ چستی کا باعث ہے۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف ”اسے وضو کرنا چاہیے“ تک روایت کیا ہے اور اس میں چستی والے الفاظ کا ذکر نہیں فرمایا، یہ الفاظ شعبہ کی انفرادیت ہیں جو کہ شیخین کے ہاں مقبول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 549]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف ”اسے وضو کرنا چاہیے“ تک روایت کیا ہے اور اس میں چستی والے الفاظ کا ذکر نہیں فرمایا، یہ الفاظ شعبہ کی انفرادیت ہیں جو کہ شیخین کے ہاں مقبول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 549]