المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
34. كَانَ رَسُولُ اللهِ أَمَرَ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ
رسولُ اللہ ﷺ نے ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 562
أخبرَناه أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثنا أَبي، عن شُرَحبيل بن سعد، عن عُوَيْم بن ساعدة الأنصاري ثم العَجْلاني: أنَّ النبي ﷺ قال لأهل قُباءٍ: إنَّ الله قد أحسَنَ الثَّناءَ عليكم في الطُّهور، وقال: ﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا﴾" حتى انقضت الآية، فقال لهم:"ما هذا الطُّهورُ؟" [فقالوا: ما نعلمُ شيئًا إلّا أنه كان لنا جيرانٌ من اليهود، وكانوا يَغسِلون أدبارَهم من الغائط، فغسلنا كما غسلوا] (1) .
سیدنا عویم بن ساعدہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل قباء سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے طہارت کے معاملے میں تمہاری بہت بہترین تعریف فرمائی ہے،“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا﴾ یہاں تک کہ آیت مکمل ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”یہ کیسی طہارت ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”ہمیں اس کے علاوہ کچھ معلوم نہیں کہ ہمارے یہودی پڑوسی قضائے حاجت کے بعد اپنی شرمگاہوں کو دھویا کرتے تھے، تو ہم نے بھی ان کی طرح دھونا شروع کر دیا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 562]
حدیث نمبر: 563
...... (2) أبي، عن ابن إسحاق، حدثنا محمد بن يحيى بن حَبّان الأنصاري ثم المازني، مازن بني النَّجّار، عن عبيد الله بن عبد الله بن عمر؛ قال: قلت له: أرأيتَ وضوءَ عبد الله بن عمر لكل صلاة طاهرًا كان أو غيرَ طاهر، عمَّن هو؟ قال: حدَّثَته أسماءُ بنت زيد بن الخطَّاب، أنَّ عبد الله بن حنظلة بن أبي عامر الغَسِيل حدثها: أنَّ رسول الله ﷺ كان أُمِرَ بالوضوء عند كل صلاة طاهرًا كان أو غيرَ طاهر، فلما شَقَّ ذلك على رسول الله ﷺ أُمِرَ بالسِّواك عند كل صلاة ووُضِعَ عنهم الوضوءُ إلّا من حَدَثٍ، وكان عبد الله يرى أنَّ به قوةً على ذلك، ففَعَلَه حتى مات (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، إنما اتَّفقا على حديث علقمة ابن مَرثَد عن سليمان بن بُريدة عن أبيه: أنَّ النبي ﷺ كان يتوضأُ لكلِّ صلاةٍ، فلما كان عامُ الفتح صلى الصلواتِ كلَّها بوضوءٍ واحد (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 556 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، إنما اتَّفقا على حديث علقمة ابن مَرثَد عن سليمان بن بُريدة عن أبيه: أنَّ النبي ﷺ كان يتوضأُ لكلِّ صلاةٍ، فلما كان عامُ الفتح صلى الصلواتِ كلَّها بوضوءٍ واحد (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 556 - على شرط مسلم
عبید اللہ بن عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا: ”آپ کا ہر نماز کے لیے وضو کرنا، چاہے آپ باوضو ہوں یا نہ ہوں، یہ کس کی اتباع میں ہے؟“ انہوں نے بتایا کہ مجھے اسماء بنت زید بن خطاب نے خبر دی کہ سیدنا عبداللہ بن حنظلہ غسیل رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر نماز کے وقت وضو کا حکم دیا گیا تھا، خواہ آپ باوضو ہوں یا نہ ہوں، پھر جب یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گراں گزرنے لگا تو ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دے دیا گیا اور وضو کا وجوب (پہلے سے باوضو ہونے کی صورت میں) ختم کر دیا گیا سوائے اس کے کہ وضو ٹوٹ جائے،“ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے اندر اس کی طاقت محسوس کرتے تھے، اس لیے وہ مرتے دم تک ایسا ہی کرتے رہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف اس بات پر اتفاق کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو فرماتے تھے لیکن فتح مکہ کے سال تمام نمازیں ایک ہی وضو سے ادا کیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 563]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف اس بات پر اتفاق کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو فرماتے تھے لیکن فتح مکہ کے سال تمام نمازیں ایک ہی وضو سے ادا کیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 563]