🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. كان رسول الله أمر بالسواك عند كل صلاة
رسولُ اللہ ﷺ نے ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 563
...... (2) أبي، عن ابن إسحاق، حدثنا محمد بن يحيى بن حَبّان الأنصاري ثم المازني، مازن بني النَّجّار، عن عبيد الله بن عبد الله بن عمر؛ قال: قلت له: أرأيتَ وضوءَ عبد الله بن عمر لكل صلاة طاهرًا كان أو غيرَ طاهر، عمَّن هو؟ قال: حدَّثَته أسماءُ بنت زيد بن الخطَّاب، أنَّ عبد الله بن حنظلة بن أبي عامر الغَسِيل حدثها: أنَّ رسول الله ﷺ كان أُمِرَ بالوضوء عند كل صلاة طاهرًا كان أو غيرَ طاهر، فلما شَقَّ ذلك على رسول الله ﷺ أُمِرَ بالسِّواك عند كل صلاة ووُضِعَ عنهم الوضوءُ إلّا من حَدَثٍ، وكان عبد الله يرى أنَّ به قوةً على ذلك، ففَعَلَه حتى مات (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، إنما اتَّفقا على حديث علقمة ابن مَرثَد عن سليمان بن بُريدة عن أبيه: أنَّ النبي ﷺ كان يتوضأُ لكلِّ صلاةٍ، فلما كان عامُ الفتح صلى الصلواتِ كلَّها بوضوءٍ واحد (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 556 - على شرط مسلم
عبید اللہ بن عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا: آپ کا ہر نماز کے لیے وضو کرنا، چاہے آپ باوضو ہوں یا نہ ہوں، یہ کس کی اتباع میں ہے؟ انہوں نے بتایا کہ مجھے اسماء بنت زید بن خطاب نے خبر دی کہ سیدنا عبداللہ بن حنظلہ غسیل رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر نماز کے وقت وضو کا حکم دیا گیا تھا، خواہ آپ باوضو ہوں یا نہ ہوں، پھر جب یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گراں گزرنے لگا تو ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دے دیا گیا اور وضو کا وجوب (پہلے سے باوضو ہونے کی صورت میں) ختم کر دیا گیا سوائے اس کے کہ وضو ٹوٹ جائے، اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے اندر اس کی طاقت محسوس کرتے تھے، اس لیے وہ مرتے دم تک ایسا ہی کرتے رہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف اس بات پر اتفاق کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو فرماتے تھے لیکن فتح مکہ کے سال تمام نمازیں ایک ہی وضو سے ادا کیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 563]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 563 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده حسن.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔
وأخرجه أحمد 36/ (21960) عن يعقوب بن إبراهيم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (36/ 21960) میں یعقوب بن ابراہیم کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو داود (48) من طريق أحمد بن خالد الوهبي، عن محمد بن إسحاق، به - إلّا أنه قال فيه: عبد الله بن عبد الله بن عمر، هكذا سمّاه مكبَّرًا، وهو أخو عبيد الله، وكلاهما ثقة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابوداؤد نے (48) میں احمد بن خالد الوہبی عن محمد بن اسحاق کی سند سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابوداؤد کی روایت میں نام "عبداللہ بن عبداللہ بن عمر" مذکور ہے، یہ عبید اللہ کے بھائی ہیں اور یہ دونوں ہی ثقہ راوی ہیں۔
(1) حديث بريدة هذا أخرجه مسلم وحده برقم (277).
📖 حوالہ / مصدر: حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث صرف امام مسلم نے (277) پر روایت کی ہے۔