المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
66. الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ
جو شخص حیض کی حالت میں اپنی بیوی سے ہم بستری کرے وہ ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ کرے۔
حدیث نمبر: 621
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى؛ قالا: حَدَّثَنَا مسدَّد، حَدَّثَنَا يحيى، عن شُعبة، عن الحَكَم، عن عبد الحميد بن عبد الرحمن، عن مقِسَم، عن ابن عباس، عن النَّبِيّ ﷺ في الذي يأتي امرأتَه وهي حائض - قال:"يتصدَّقُ بدينارٍ، أو بنصفِ دينار" (1) .
هذا حديث صحيح، فقد احتجَّا جميعًا بمِقسَم بن نَجْدة (2) ، فأما عبد الحميد بن عبد الرحمن فإنه أبو الحسن عبد الحميد بن عبد الرحمن الجَزَري (3) ، ثقة مأمون. وشاهده ودليله:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 612 - صحيح
هذا حديث صحيح، فقد احتجَّا جميعًا بمِقسَم بن نَجْدة (2) ، فأما عبد الحميد بن عبد الرحمن فإنه أبو الحسن عبد الحميد بن عبد الرحمن الجَزَري (3) ، ثقة مأمون. وشاهده ودليله:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 612 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں جو اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں قربت کر لے، فرمایا: ”وہ ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ کرے۔“
یہ حدیث صحیح ہے اور شیخین نے مقسم بن نجدہ سے احتجاج کیا ہے، جبکہ عبد الحمید بن عبد الرحمن ثقہ اور مامون ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 621]
یہ حدیث صحیح ہے اور شیخین نے مقسم بن نجدہ سے احتجاج کیا ہے، جبکہ عبد الحمید بن عبد الرحمن ثقہ اور مامون ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 621]
حدیث نمبر: 622
ما حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا أبو ظَفَر عبد السلام بن مُطهَّر، حَدَّثَنَا جعفر بن سليمان، عن علي بن الحَكَم البُنَاني، عن أبي الحسن الجَزَري، عن مِقسَم، عن ابن عباس قال: إذا أصابها في الدم فدينارٌ، وإذا أصابها في انقطاع الدم فنصفُ دينار (4) . قد أُرسِلَ هذا الحديث، وأُوقف أيضًا، ونحن على أصلنا الذي أصَّلْناه أَنَّ القول قولُ الذي يُسنِدُ ويَصِلُ إذا كان ثقةً.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اگر (خون جاری رہنے کے) دورانِ حیض قربت کرے تو ایک دینار، اور اگر خون رک جانے کے بعد (غسل سے پہلے) کرے تو آدھا دینار صدقہ کرے۔
یہ حدیث مرسل اور موقوف بھی مروی ہے، لیکن ہمارا اصول یہی ہے کہ ثقہ راوی کی مسند اور متصل روایت ہی معتبر ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 622]
یہ حدیث مرسل اور موقوف بھی مروی ہے، لیکن ہمارا اصول یہی ہے کہ ثقہ راوی کی مسند اور متصل روایت ہی معتبر ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 622]
حدیث نمبر: 623
حدَّثني علي بن عيسى، حَدَّثَنَا مسدد بن قَطَن، عن عثمان بن أبي شَيْبة، حَدَّثَنَا جَرِير، عن الشَّيباني، عن عبد الرحمن بن الأسود، عن أبيه، عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ يأمرُنا في فَوْر حَيضتِنا أن نَتَّزِرَ ثم يباشرُنا، وأيكم يملِكُ إرْبَه كما كان رسول الله ﷺ يملكُ إرْبَه؟ (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ! إنما خرَّجا في هذا الباب حديثَ منصور، عن إبراهيم، عن الأسود، عن عائشة: كان رسول الله ﷺ يأمر إحدانا إذا كانت حائضًا أن تتَّزرَ ثم يُضاجِعُها (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 614 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ! إنما خرَّجا في هذا الباب حديثَ منصور، عن إبراهيم، عن الأسود، عن عائشة: كان رسول الله ﷺ يأمر إحدانا إذا كانت حائضًا أن تتَّزرَ ثم يُضاجِعُها (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 614 - على شرطهما
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حیض کی شدت کے دنوں میں حکم دیتے کہ ہم تہبند باندھ لیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے مباشرت (بغیر جماع کے بوس و کنار) فرماتے تھے، اور تم میں سے کون اپنی خواہش پر ویسا قابو رکھ سکتا ہے جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے تھے؟
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف اس ہم معنی روایت پر اتفاق کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حائضہ کو تہبند باندھنے کا حکم دیتے پھر اس کے ساتھ لیٹ جاتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 623]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف اس ہم معنی روایت پر اتفاق کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حائضہ کو تہبند باندھنے کا حکم دیتے پھر اس کے ساتھ لیٹ جاتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 623]