🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

92. السَّهْوُ فِي الصَّلَاةِ
نماز میں بھول چوک (سہو) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 973
أخبرنا أبو الحُسين أحمد بن عثمان البزَّاز ببغداد، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حدثنا أيوب بن سليمان بن بلال، حدثني أبو بكر بن أبي أُوَيس، عن سليمان بن بلال، عن عمر بن محمد بن زيد، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن عبد الله بن عمر، أنَّ رسول الله ﷺ، قال:"إذا صَلَّى أحدُكم فلا يَدْري كم صَلَّى، ثلاثًا أو أربعًا، فليَركَعْ ركعةً يُحسِنُ ركوعَها وسجودَها، ويَسجُدْ سجدتين" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه الزيادة من ذِكْر الركعة (2) . وله شاهد لم يخرجاه، وهو قوله ﷺ:"إذا شَكَّ أحدُكم في النُّقصان فليُصلِّ حتى يشكَّ في الزِّيادة" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 959 - على شرطهما
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے اور اسے یاد نہ رہے کہ کتنی رکعتیں پڑھیں، تین یا چار، تو اسے چاہیے کہ ایک رکعت مزید پڑھے جس کے رکوع و سجود کو وہ اچھی طرح ادا کرے اور پھر (سہو کے) دو سجدے کرے۔"
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے رکعت کے ذکر والے اس اضافے کے ساتھ روایت نہیں کیا، البتہ اس کا شاہد موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم میں سے کسی کو نماز میں کمی کا شک ہو تو وہ نماز پڑھتا رہے یہاں تک کہ اسے زیادتی کا شک ہونے لگے۔" [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 973]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 974
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن سَمَّاك ببغداد، حدثنا علي بن إبراهيم الواسطي، حدثنا وَهْب بن جَرِير بن حازم، حدثنا أبي قال: سمعت يحيى بن أيوب يُحدِّث عن يزيد بن أبي حَبِيب، عن سُوَيد بن قيس، عن معاوية بن حُدَيج قال: صلَّيتُ مع رسول الله ﷺ: المغربَ، فسَهَا، فسلَّمَ في ركعتين ثم انصرفَ، فقال له رجل: يا رسول الله، إنك سَهَوتَ فسلَّمتَ في ركعتين! فأمرَ بلالًا فأقامَ الصلاةَ ثم أتمَّ تلك الركعةَ، فسألتُ الناس عن الرجل الذي قال: يا رسول الله، إنك سَهَوتَ، فقيل لي: تعرفُه؟ قلت: لا، إلَّا أن أَراه، فمرَّ بي رجل فقلت: هو هذا، فقالوا: هذا طلحةُ بن عُبيد الله (1) . اختصره الليثُ بن سعد عن يزيد بن أبي حبيب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 960 - ورواه الليث عن يزيد مختصرا وهو على شرطهما
سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہو ہوا اور دو رکعتوں پر سلام پھیر کر تشریف لے گئے، ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ سے سہو ہوا اور آپ نے دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال کو حکم دیا، انہوں نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ایک رکعت پوری کی۔ لوگوں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ یاد دلانے والے شخص سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 974]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 975
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا عُبيد بن شَرِيك، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، عن يزيد بن أبي حَبيب، أنَّ سُوَيد بن قيس أخبره عن معاوية بن حُدَيج: أنَّ رسول الله ﷺ صلَّى يومًا فسلَّمَ وانصرفَ وقد بَقِيَ من الصلاة ركعةٌ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، وهو من النوع الذي يَطلُبان للصحابي متابِعًا (3) في الرواية، على أنهما جميعًا قد خرَّجا مثلَ هذا.
سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی، سلام پھیرا اور چلے گئے جبکہ نماز میں ایک رکعت باقی تھی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین کی شرط پر ہے، یہ اس نوعیت کی حدیث ہے جس میں صحابی کے لیے متابع تلاش کیا جاتا ہے، اگرچہ انہوں نے اس طرح کی دیگر روایات پہلے ہی نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَصَلَاةِ الْجَمَاعَةِ/حدیث: 975]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں