المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
2. تَحْرِيصُ قِيَامِ اللَّيْلِ
قیامُ اللیل (رات کی نماز) کی ترغیب۔
حدیث نمبر: 1179
أخبرني عبد الله بن محمد الصَّيدلاني، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن نُمَير، حدثنا أبي، حدثنا عِمْران بن زائدة بن نَشِيط، عن أبيه، عن أبي خالد الوالِبي، عن أبي هريرة: أنه كان إذا قام من الليل رَفَعَ صوتَه طَوْرًا وخَفَضَه طَورًا، وكان يَذكُر أنَّ رسول الله ﷺ كان يَفعلُ ذلك (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جب رات کو (تہجد کے لیے) کھڑے ہوتے تو کبھی اپنی آواز بلند کرتے اور کبھی پست رکھتے، اور وہ بتاتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1179]
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1179]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل زائدة بن نشيط وأبي خالد الوالبي: واسمه هُرمز، وقيل: هَرِم» [ترقيم الرساله 1179] [ترقيم الشركة 1170]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1180
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني معاوية بن صالح، أنَّ عبد الله بن أبي قيس حدثه: أنه سأل عائشةَ كيف كانت قراءة رسول الله ﷺ من الليل، أكان يَجهَر أم يُسِرّ؟ قالت: كلَّ ذلك كان يفعل، ربما جَهَر، وربما أسرَّ، قال: قلت: الحمد الله الذي جَعَل في الأمر سَعَةً (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، شاهدًا لحديث أبي خالد عن أبي هريرة.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، شاهدًا لحديث أبي خالد عن أبي هريرة.
عبداللہ بن ابی قیس بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو قرأت کیسے فرماتے تھے، کیا بلند آواز سے پڑھتے تھے یا خاموشی سے؟ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دونوں طرح کیا کرتے تھے، کبھی بلند آواز سے تلاوت فرماتے اور کبھی خاموشی سے، تو میں نے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اس معاملے میں گنجائش رکھی ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور یہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی سابقہ حدیث کا شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1180]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور یہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی سابقہ حدیث کا شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1180]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، عبد الله بن أبي قيس: هو أبو الأسود النَّصري» [ترقيم الرساله 1180] [ترقيم الشركة 1171]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1181
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد بن تمِيم القَنْطَري، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا يحيى بن إسحاق السَّيْلَحِينيّ، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن ثابت البُنانيّ، عن عبد الله بن رَبَاح، عن أبي قَتادةَ: أنَّ النبيَّ ﷺ مَرَّ بأبي بكرٍ وهو يصلي يَخفِضُ من صوته، ومَرَّ بعُمر وهو يصلي رافعًا صوتَه، فلما اجتمعا عند النبي ﷺ قال لأبي بكر:"يا أبا بكر، مررتُ بكَ وأنتَ تصلي تخفِضُ من صوتك!" قال: قد أسمعتُ من ناجيتُ، فقال:"مررتُ بكَ يا عمر وأنت تَرفعُ صوتك!" قال: يا رسول الله أحتسِبُ به أُوقظُ الوَسْنان، قال: فقال لأبي بكر:"ارفَعْ من صوتك شيئًا"، وقال لعمر:"اخفِضْ من صوتك" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جبکہ وہ دھیمی آواز میں نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جبکہ وہ بلند آواز میں نماز پڑھ رہے تھے، جب یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر سے فرمایا: ”اے ابوبکر! میرا گزر تمہارے پاس سے ہوا اور تم دھیمی آواز میں نماز پڑھ رہے تھے؟“ انہوں نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) میں جس سے مناجات کر رہا تھا اسے سنا دیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! میرا گزر تمہارے پاس سے ہوا اور تم آواز بلند کر رہے تھے!“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اس کے ذریعے ثواب کی امید رکھتا ہوں کہ اونگھنے والے کو بیدار کر دوں، راوی کہتے ہیں: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر سے فرمایا: ”اپنی آواز کو کچھ بلند کرو“، اور عمر سے فرمایا: ”اپنی آواز کو کچھ دھیما کرو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1181]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1181]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات غير شيخ المصنف، فهو حسن الحديث في المتابعات، وقد توبع- إلّا أنه اختُلف في وصله وإرساله، فقد خالف يحيى بن إسحاق السيلحيني موسى بنُ إسماعيل، فقد رواه عن حماد بن سلمة عن ثابت البناني عن النبي ﷺ مرسلًا، ورجح المرسلَ الترمذي وابن أبي حاتم-» [ترقيم الرساله 1181] [ترقيم الشركة 1172]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 1182
أخبرنا الحسن بن يعقوب العدلُ، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا محمد بن رافع ومحمد بن يحيى، قالا: حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن إسماعيل بن أمية، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن، عن أبي سعيد الخُدْري قال: اعتكف النبي ﷺ في المسجد، فسَمِعهم يَجهَرون بالقراءة، وهو في قُبَّةٍ له، فكَشَفَ السُّتور وقال:"ألا كلُّكم يناجي ربَّه، فلا يُؤذِينَّ بعضُكم بعضًا، ولا يَرفَعنَّ بعضُكم على بعضٍ في القراءة في الصلاة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اعتکاف فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بلند آواز میں قرأت کرتے ہوئے سنا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے میں تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردے ہٹائے اور فرمایا: ”خبردار! تم میں سے ہر کوئی اپنے رب سے مناجات کر رہا ہے، پس تم میں سے کوئی دوسرے کو تکلیف نہ دے اور نہ ہی کوئی دوسرے کے مقابلے میں نماز کی قرأت میں اپنی آواز بلند کرے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1182]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1182]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، الحسين بن محمد بن زياد: هو القباني، ومحمد بن رافع: هو ابن أبي زيد النيسابوري، ومحمد بن يحيى: هو الذهلي، وإسماعيل بن أمية: هو ابن عمرو بن سعيد الأموي» [ترقيم الرساله 1182] [ترقيم الشركة 1173]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1183
حدثنا يحيى بن منصور القاضي، حدثنا أبو بكر محمد بن محمد بن رجاء بن السِّنْدي، حدثنا أبو كُرَيب وموسى بن عبد الرحمن المَسْروقي، قالا: حدثنا الحسين بن علي الجُعْفي، حدثنا زائدة، عن سليمان، عن حَبِيب بن أبي ثابت، عن عَبْدة بن أبي لُبابة، عن سُوَيد بن غَفَلَة، عن أبي الدَّرْداء، يَبلُغ به النبيَّ ﷺ قال:"من أَتى فِراشَه وهو يَنْوي أن يقومَ بالليل فغَلَبتْه عينُه حتى يُصبحَ، كُتب له ما نَوَى، وكان نومُه صدقةً عليه من ربِّه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، والذي عندي أنهما علَّلاه بتوقيفٍ رُوِيَ عن زائدة:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، والذي عندي أنهما علَّلاه بتوقيفٍ رُوِيَ عن زائدة:
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے بستر پر اس نیت سے آئے کہ وہ رات کو اٹھ کر نماز پڑھے گا لیکن اس کی آنکھ لگ گئی یہاں تک کہ صبح ہو گئی، تو اس کے لیے وہ نیت لکھ دی جائے گی جس کا اس نے ارادہ کیا تھا، اور اس کا سونا اس کے رب کی طرف سے اس پر صدقہ ہوگا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور میرے نزدیک انہوں نے اسے اس لیے معلول قرار دیا کیونکہ زائدہ سے یہ موقوف بھی مروی ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1183]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور میرے نزدیک انہوں نے اسے اس لیے معلول قرار دیا کیونکہ زائدہ سے یہ موقوف بھی مروی ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1183]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، إلّا أنه قد وقع اضطراب في إسناده، واختلف في رفعه ووقفه، وصحَّح الدارقطني وقفه» [ترقيم الرساله 1183] [ترقيم الشركة 1174]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 1184
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أحمد بن النَّضْر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زائدة، فذكره بإسناده من قول أبي الدَّرْداء (2) . وهذا مما لا يُوهِن، فإنَّ الحسين بن علي الجُعْفي أقدمُ وأحفظُ وأعرفُ بحديث زائدة من غيره، والله أعلم.
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی سابقہ حدیث ان کے اپنے قول (موقوف) کے طور پر مروی ہے، اور یہ بات حدیث کو کمزور نہیں کرتی کیونکہ حسین بن علی جعفی زائدہ کی حدیث کے دیگر راویوں کی نسبت زیادہ قدیم، حافظ اور ماہر ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1184]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، وسلف قبله مرفوعًا، وقال الدارقطني في "العلل" 6/ 207: والمحفوظ الموقوف» [ترقيم الرساله 1184] [ترقيم الشركة 1175]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 1185
حدثنا يحيى بن منصور القاضي، حدثنا محمد بن محمد بن رجاء، حدثنا موسى بن عبد الرحمن، حدثنا حسين بن علي عن زائدة، عن هشام بن حسّان، عن محمد بن سِيرين، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"لا تخُصُّوا يومَ الجمعة بصيام من بين الأيام، ولا تخُصُّوا ليلةَ الجمعة بقيامٍ من بين الليالي" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنوں میں سے صرف جمعہ کے دن کو روزے کے لیے خاص نہ کرو اور نہ ہی راتوں میں سے صرف جمعہ کی رات کو قیام کے لیے خاص کرو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1185]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1185]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، موسى بن عبد الرحمن: هو ابن سعيد المسروقي، وحسين بن علي: هو الجعفي، وزائدة: هو ابن قدامة» [ترقيم الرساله 1185] [ترقيم الشركة 1176]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح