🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا
اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1192
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح، حدثنا ابن أبي مريم، أخبرني عبد الله بن فَرُّوخ، عن ابن جُريج، عن عطاء، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ:"أكرِمُوا بُيوتَكم ببعض صَلاتِكم" (1) . قد اتفق الشيخان على إخراج حديث عُبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي ﷺ أنه قال:"صلُّوا في بُيوتِكم، ولا تتخذوها قبورًا". فأما حديث عبد الله بن فَرُّوخ فإنَّ لفظه عجبٌ، وهو شيخٌ من أهل مكة صدوق، سكن مصرَ وبها مات.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی کچھ نمازوں کے ذریعے اپنے گھروں کو معزز بناؤ۔ شیخین نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی نمازیں گھروں میں پڑھا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ۔ البتہ عبداللہ بن فروخ کی حدیث کے الفاظ منفرد ہیں، اور وہ مکہ کے ایک صدوق شیخ ہیں جو مصر میں مقیم رہے اور وہیں فوت ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1192]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1193
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيَّاري، حدثنا عبد الله بن علي الغَزَّال، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا الحسين بن واقد، حدثنا عبد الله بن بُريدَة، عن أبيه قال: أصبح رسولُ الله ﷺ يومًا، فدعا بلالًا فقال:"يا بلالُ، بمَ سَبقتَني إلى الجنة؟ إني دخلتُ البارحةَ الجنةَ فسمعتُ خَشخَشَتَك أمامي"، فقال بلال: يا رسول الله، ما أذّنتُ قطُّ إلّا صليتُ ركعتين، وما أصابني حَدَثٌ قطُّ إلّا توضأتُ عنده، فقال رسول الله ﷺ:"بهذا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے وقت بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: اے بلال! تم کس عمل کی وجہ سے جنت میں مجھ سے آگے نکل گئے ہو؟ میں گزشتہ رات جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے تمہارے چلنے کی چاپ سنی، بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے جب بھی اذان دی ہے اس کے بعد دو رکعت نماز ضرور پڑھی ہے، اور جب بھی میرا وضو ٹوٹا میں نے اسی وقت وضو کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی عمل کی وجہ سے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1193]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں