المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. صلوا فى بيوتكم ولا تتخذوها قبورا
اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ۔
حدیث نمبر: 1193
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيَّاري، حدثنا عبد الله بن علي الغَزَّال، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا الحسين بن واقد، حدثنا عبد الله بن بُريدَة، عن أبيه قال: أصبح رسولُ الله ﷺ يومًا، فدعا بلالًا فقال:"يا بلالُ، بمَ سَبقتَني إلى الجنة؟ إني دخلتُ البارحةَ الجنةَ فسمعتُ خَشخَشَتَك أمامي"، فقال بلال: يا رسول الله، ما أذّنتُ قطُّ إلّا صليتُ ركعتين، وما أصابني حَدَثٌ قطُّ إلّا توضأتُ عنده، فقال رسول الله ﷺ:"بهذا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے وقت بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”اے بلال! تم کس عمل کی وجہ سے جنت میں مجھ سے آگے نکل گئے ہو؟ میں گزشتہ رات جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے تمہارے چلنے کی چاپ سنی“، بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے جب بھی اذان دی ہے اس کے بعد دو رکعت نماز ضرور پڑھی ہے، اور جب بھی میرا وضو ٹوٹا میں نے اسی وقت وضو کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی عمل کی وجہ سے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب صلاة التطوع/حدیث: 1193]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب صلاة التطوع/حدیث: 1193]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1193 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث قوي، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبد الله بن علي الغزَّال، فلم يرو عنه غير القاسم بن القاسم السياري، ولم نقع له على ترجمة، ولم نتبيَّن حاله، لكنه قد توبع. والحسين بن واقد - وهو المروزي - صدوق لا بأس به، وباقي رجاله ثقات. عبد الله بن بريدة: هو ابن الحصيب الأسلمي المروزي.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ "حدیث قوی" ہے، اگرچہ عبداللہ الغزال کی جہالت کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، مگر اس کی متابعت موجود ہے۔ حسین بن واقد مروزی صدوق راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 38/ (23040) عن علي بن الحسن بن شقيق، بهذا الإسناد. وزاد فيه قصة رؤيته ﷺ لقصر عمر بن الخطاب في الجنة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (23040/38) نے علی بن الحسن کی سند سے روایت کیا ہے جس میں حضرت عمر کے جنتی محل کا تذکرہ بھی ہے۔
وأخرجه أحمد (22996)، وابن حبان (7086) و (7087) من طريق زيد بن الحباب، والترمذي (3689) من طريق علي بن الحسين بن واقد، كلاهما عن الحسين بن واقد، به. وزادوا جميعًا فيه قصة قصر عمر بن الخطاب المشار إليها آنفًا، إلّا رواية ابن حبان (7087).
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (22996)، ابن حبان اور ترمذی (3689) نے حسین بن واقد کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وسيرد الحديث في "المستدرك" برقم (5328) من طريق محمد بن موسى الباشاني عن علي بن الحسن بن شقيق، مشتملًا على القصة المذكورة.
🔁 تکرار: یہ آگے مستدرک (5328) میں حضرت عمر والے قصے کے ساتھ دوبارہ آئے گی۔
وللحديث شاهد من حديث أبي هريرة عند البخاري (1149)، ومسلم (2458).
🧩 متابعات و شواہد: حضرت ابوہریرہ کی اس بارے میں روایت بخاری (1149) اور مسلم میں موجود ہے۔
وآخر من حديث جابر بن عبد الله عند البخاري (3679)، ومسلم (2457).
🧩 متابعات و شواہد: حضرت جابر کی روایت بخاری (3679) اور مسلم میں موجود ہے۔
قوله: "إني دخلت البارحة الجنة"، قال الترمذي: يعني رأيت في المنام كأني دخلت الجنة، هكذا روي في بعض الحديث. ¤ ¤ "خشخشتك" قال ابن الأثير: الخشخشة: حركة لها صوت كصوت السلاح.
📝 (توضیح): آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ "میں جنت میں داخل ہوا"؛ ترمذی کے مطابق اس سے مراد خواب میں جنت دیکھنا ہے۔ "خشخشتک" سے مراد ہتھیاروں یا جوتوں کی آہٹ جیسی آواز ہے۔