🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. صَلَاةُ التَّسَابِيحِ
نمازِ تسبیح۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1207
أخبرنا أبو بكر محمد بن داود بن سليمان الزاهد، حدثنا جعفر بن محمد بن الحسين بن عبيد الله، حدثنا بِشْر بن الحَكَم العَبْدي، حدثنا موسى بن عبد العزيز القِنْباري بعَدَن. وأخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا إبراهيم بن إسحاق بن يوسف، حدثنا عبد الرحمن بن بِشْر بن الحَكَم بن حَبِيب الهِلالي، حدثنا موسى بن عبد العزيز أبو شُعَيب بعَدَن - الذي يقال له: القِنباري - حدثنا الحَكَم بن أبان، حدثني عِكرمة، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ قال للعباس بن عبد المطلب:"يا عباس، يا عمَّاه ألا أُعطِيك، ألا أُجِيزُك (1) ، ألا أفعلُ لك؟ عشْرُ خِصالٍ إذا أنت فعلتَ ذلك غَفَر الله لك ذنبَك، أولَه وآخرَه، قديمَه وحديثَه، خطأَه وعمْدَه، صغيرَه وكبيرَه، سِرَّه وعلانيتَه؛ أن تصليَ أربعَ ركعات تقرأُ في كل ركعةٍ بفاتحة الكتاب وسورة، فإذا فرغتَ من القراءة في أول ركعةٍ قلتَ وأنت قائم: سبحان الله، والحمدُ الله، ولا إله إلّا الله، والله أكبر، خمسَ عشْرةَ مرةً، ثم تركعُ فتقولُ وأنت راكعٌ عشرًا، ثم ترفعُ رأسَك فتقولُها عشرًا، ثم تسجدُ فتقولُها عشرًا، ثم ترفعُ رأسَك فتقولُها عشرًا، ثم تسجدُ فتقولُها عشرًا، ثم ترفعُ رأسَك فتقولُها عشرًا، فذلك خمسةٌ وسبعون في كل ركعة، تفعلُ في أربع رَكَعات، إن استطعتَ أن تصلِّيَها في كلِّ يوم فافعل، فإن لم تفعل ففي كلِّ جُمعةٍ مرةً، فإن لم تفعل ففي كلِّ شهرٍ مرةً، فإن لم تفعل ففي كلِّ سنةٍ مرةً، فإن لم تفعل ففي عُمُرك مرةً" (2) .
هذا حديث وَصَلَه موسى بن عبد العزيز عن الحَكَم بن أبان، وقد خرَّجه أبو بكر محمد بن إسحاق وأبو داود سليمان بن الأشعث وأبو عبد الرحمن أحمد بن شعيب في"الصحيح" (1) ، فروَوْه ثلاثتُهم عن عبد الرحمن بن بِشْر. وقد رواه إسحاق بن أبي إسرائيل عن موسى بن عبد العزيز القِنْباري:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے عباس! اے میرے چچا! کیا میں آپ کو ایک عطیہ نہ دوں؟ کیا میں آپ کو ایک تحفہ نہ دوں؟ کیا میں آپ کے لیے ایک بہترین کام نہ کروں؟ دس خصلتیں ایسی ہیں کہ اگر آپ انہیں کریں گے تو اللہ آپ کے اگلے پچھلے، پرانے اور نئے، نادانستہ اور دانستہ، چھوٹے اور بڑے، پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہ معاف فرما دے گا؛ آپ چار رکعتیں اس طرح پڑھیں کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور کوئی سورت تلاوت کریں، جب پہلی رکعت میں تلاوت سے فارغ ہو جائیں تو قیام ہی کی حالت میں پندرہ مرتبہ «سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ» کہیں، پھر رکوع کریں اور رکوع کی حالت میں اسے دس بار کہیں، پھر رکوع سے سر اٹھائیں تو دس بار کہیں، پھر سجدہ کریں تو دس بار کہیں، پھر سجدے سے سر اٹھائیں تو دس بار کہیں، پھر دوسرا سجدہ کریں تو دس بار کہیں، پھر سجدے سے سر اٹھائیں (دوسری رکعت کے لیے اٹھنے سے پہلے) تو دس بار کہیں، اس طرح ہر رکعت میں یہ کل پچھتر بار ہوگا، یہی عمل چاروں رکعتوں میں دہرائیں، اگر آپ روزانہ ایک بار پڑھ سکیں تو پڑھیں، اگر نہیں تو ہر جمعہ میں ایک بار، اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو مہینے میں ایک بار، اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو سال میں ایک بار، اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو پوری زندگی میں ایک بار ضرور پڑھیں۔
اس حدیث کو موسیٰ بن عبدالعزیز نے حکم بن ابان سے متصل روایت کیا ہے، اور اسے ابوبکر بن اسحاق، ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ان تینوں نے اسے عبدالرحمن بن بشر سے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1207]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل موسى بن عبد العزيز» [ترقيم الرساله 1207] [ترقيم الشركة 1196]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1208
حدَّثَناه أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا محمد بن هارون بن سليمان الحَضْرمي، حدثنا إسحاق بن أبي إسرائيل، حدثنا موسى بن عبد العزيز أبو شُعيب القِنْباري، فذكر الحديث بمثله لفظًا واحدًا (2) . فأمّا حالُ موسى بن عبد العزيز:
(سابقہ حدیث کی تائید میں مروی روایت)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1208]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،كسابقه» [ترقيم الرساله 1208] [ترقيم الشركة 1197]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1208M1
فحدثني أبو الحسن محمد بن محمد بن يعقوب، حدثنا عبد الله بن محمد بن عبد العزيز، حدثنا محمد بن سَهْل بن عَسْكَر قال: سمعت عبد الرزاق، وسُئل عن أبي شُعيب القِنْباري، فأحسنَ عليه الثناءَ. وأمّا حالُ الحَكَم بن أبان:
ابوالحسن محمد بن محمد بن یعقوب نے مجھ سے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن محمد بن عبدالعزیز نے، انہیں محمد بن سہل بن عسکر نے، انہوں نے کہا: میں نے عبدالرزاق کو سنا کہ جب ان سے ابو شعیب القنباری کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے ان کی بہت عمدہ تعریف و توصیف کی۔ جہاں تک حکم بن ابان کے علمی مقام کا تعلق ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1208M1]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 1208M1]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1208M2
فأخبرني أحمد بن محمد بن واصل البِيكَنْدي، حدثنا أبي، حدثنا محمد بن إسماعيل البخاري، حدثنا علي بن المَدِيني، عن ابن عُيينة قال: سألتُ يوسف بن يعقوب: كيف كان الحَكَم بن أبان؟ قال: ذاك سيدُنا. وأما إرسال إبراهيم بن الحَكَم بن أبان هذا الحديث عن أبيه:
تو مجھے احمد بن محمد بن واصل بیکندی نے بتایا، انہیں ان کے والد نے، انہیں محمد بن اسماعیل بخاری نے، انہیں علی بن مدینی نے اور انہوں نے ابن عیینہ سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے یوسف بن یعقوب سے پوچھا کہ حکم بن ابان (بطور راوی) کیسے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: وہ تو ہمارے سردار (بزرگ) تھے۔ جہاں تک ابراہیم بن حکم بن ابان کا اپنے والد سے اس حدیث کو مرسل بیان کرنے کا تعلق ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1208M2]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 1208M2]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1209
فحدثنا علي بن عيسى، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب ومحمد بن إسحاق، قالا: حدثنا محمد بن رافع، حدثني إبراهيم بن الحَكَم بن أبان، حدثني أبي، حدثني عكرمة: أنَّ رسول الله ﷺ قال لعمِّه العباس … فذكر الحديث (1) . هذا الإرسال لا يُوهِن وصلَ الحديث، فإنَّ الزيادة من الثقة أَولى من الإرسال، على أن إمامَ عصره في الحديث إسحاق بن إبراهيم الحنظلي قد أقام هذا الإسناد عن إبراهيم بن الحَكَم بن أبان ووَصَلَه:
تو علی بن عیسیٰ نے ہم سے بیان کیا، انہیں ابراہیم بن ابی طالب اور محمد بن اسحاق نے، ان دونوں نے کہا: ہمیں محمد بن رافع نے، انہیں ابراہیم بن حکم بن ابان نے، انہیں ان کے والد نے اور انہیں عکرمہ نے روایت کیا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا... (پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی)۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس روایت کا مرسل ہونا حدیث کے متصل (موصول) ہونے کو کمزور نہیں کرتا، کیونکہ کسی ثقہ راوی کی طرف سے سند میں (صحابی کے نام کی) زیادتی مرسل کے مقابلے میں زیادہ اولیٰ اور قابلِ قبول ہوتی ہے، مزید یہ کہ اس عہد کے امامِ حدیث اسحاق بن ابراہیم حنظلی (ابن راہویہ) نے اس سند کو ابراہیم بن حکم بن ابان کے واسطے سے قائم رکھا ہے اور اسے متصل بیان کیا ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1209]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف إبراهيم بن الحكم بن أبان، وقد اختلف عليه، فرواه محمد بن رافع هنا عنه مرسلًا، ورواه إسحاق بن إبراهيم الحنظلي - كما في الرواية التالية - موصولًا، والموصول أرجح لمتابعة موسى بن عبد العزيز له على وصله كما في الروايتين السابقتين قبل هذا-» [ترقيم الرساله 1209] [ترقيم الشركة 1198]

الحكم على الحديث: حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1210
أخبرَناه أبو بكر بن قُريش، أخبرنا الحسن بن سفيان، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي، أخبرنا إبراهيم بن الحَكَم بن أبان، عن أبيه، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي ﷺ؛ بمثل حديث موسى بن عبد العزيز عن الحَكَم (2) . وقد صحَّت الرواية عن عبد الله بن عمر بن الخطاب: أنَّ رسول الله ﷺ علَّم ابنَ عمِّه جعفرَ بنَ أبي طالب هذه الصلاة كما علَّمها عمَّه العباس:
ہمیں ابوبکر بن قریش نے خبر دی، انہیں حسن بن سفیان نے، انہیں اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے، انہیں ابراہیم بن حکم بن ابان نے اپنے والد سے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے ابن عباس سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، موسیٰ بن عبدالعزیز کی حکم سے مروی حدیث کی طرح روایت کیا۔ اور سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے بھی یہ روایت صحیح ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچازاد بھائی جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو بھی یہ نماز (صلوٰۃ التسبیح) اسی طرح سکھائی تھی جس طرح اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہ کو سکھائی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1210]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف كسابقه» [ترقيم الرساله 1210] [ترقيم الشركة 1199]

الحكم على الحديث: حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1211
حدَّثَناه أبو علي الحسين بن عليٍّ الحافظ إملاءً من أصل كتابه، حدثنا أحمد بن داود بن عبد الغفار بمصر، حدثنا إسحاق بن كامل، حدثنا إدريس بن يحيى، عن حَيْوةَ بن شُرَيح، عن يزيد بن أبي حَبِيب، عن نافع، عن ابن عمر قال: وجَّه رسول الله ﷺ جعفرَ بنَ أبي طالب إلى بلاد الحَبشة، فلما قَدِمَ اعتنَقَه وقَبَّلَ بين عينيه، ثم قال:"ألا أهَبُ لك، ألا أُبشِّرُك، ألا أمنَحُك، ألا أُتحِفُك؟"، قال: نعم يا رسول الله، قال:"تُصلِّي أربعَ ركَعاتٍ تقرأُ في كلِّ ركعةٍ بالحمد وسورةٍ، ثم تقول بعد القراءة وأنت قائمٌ قبل الركوع: سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلّا الله، والله أكبر، ولا حولَ ولا قوةَ إلّا بالله، خمسَ عشْرةَ مرةً، ثم تركعُ فتقولُهنَّ عشرًا، ثم ترفعُ رأسَك من الركوع، فتقولُهنَّ عشرًا، ثم تسجدُ فتقولُهنَّ عشرًا، ثم تقومُ فتقولُهنَّ عشرًا تمامَ هذه الركعة قبل أن تَبتدِئَ بالركعة الثانية، تفعلُ في الثلاثِ ركعاتٍ كما وصفتُ لك حتى تُتمَّ أربعَ رَكَعات" (1) . هذا إسناد صحيح لا غبار عليه (2) . ومما يُستدلُّ به على صحّة هذا الحديث استعمالُ الأئمة من أتباع التابعين وإلى عصرنا هذا إياه، ومواظبتُهم عليه، وتعليمُهنَّ الناسَ، منهم عبد الله بن المبارك:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ملک حبشہ کی جانب روانہ کیا، جب وہ واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے معانقہ کیا اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا، پھر فرمایا: کیا میں تمہیں ایک عطیہ نہ دوں، کیا میں تمہیں ایک بشارت نہ دوں، کیا میں تمہیں ایک تحفہ اور نادر چیز پیش نہ کروں؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم چار رکعتیں پڑھو، ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھو، پھر قرأت کے بعد قیام ہی کی حالت میں رکوع سے پہلے پندرہ مرتبہ یہ کہو: «سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» پھر رکوع کرو اور اسے دس بار کہو، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ تو دس بار کہو، پھر سجدہ کرو تو دس بار کہو، پھر (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہونے سے پہلے دس بار کہو، اس طرح یہ پہلی رکعت مکمل ہوگی، پھر اسی طرح باقی تین رکعتوں میں بھی کرو یہاں تک کہ چار رکعتیں پوری ہو جائیں۔
یہ سند صحیح ہے جس میں کوئی ابہام نہیں۔ اس حدیث کی صحت پر ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اتباع تابعین کے دور سے لے کر ہمارے زمانے تک ائمہ کا اس پر عمل رہا ہے اور وہ لوگوں کو اس کی تعلیم دیتے رہے ہیں، جن میں عبداللہ بن المبارک بھی شامل ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1211]
تخریج الحدیث: «إسناده تالف بمرّة، أحمد بن داود بن عبد الغفار - وهو الحراني - ذكره الدارقطني في "الضعفاء والمتروكين" (52) وقال: متروك كذاب، وقال ابن حبان في "المجروحين" 1/ 146: كان بالفسطاط يضع الحديث، لا يحل ذكره في الكتب إلّا على سبيل الإبانة عن أمره ليتنكب حديثه- وشيخه إسحاق بن كامل ...» [ترقيم الرساله 1211] [ترقيم الشركة 1200]

الحكم على الحديث: إسناده تالف بمرّة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1212
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن الجرَّاح العدل بمَرْو، حدثنا يحيى بن ساسَوَيهِ، حدثنا عبد الكريم بن عبد الله السُّكَّري، حدثنا أبو وَهْب محمد بن مُزاحِم قال: سألتُ عبد الله بن المبارك عن الصلاة التي يُسبَّح فيها، فقال: تكبِّر، ثم تقول: سبحانك اللهم وبحمدك، وتبارك اسمُك، وتعالى جَدُّك، ولا إله غيرك، ثم تقول خمسَ عشْرةَ مرة: سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلّا الله، والله أكبر، ثم تتعوَّذُ وتقرأ: ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ وفاتحةَ الكتاب وسورة، ثم تقول عشْرَ مرات: سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلّا الله، والله أكبر، ثم تركعُ فتقولها عشرًا، ثم ترفعُ رأسَك فتقولها عشرًا، ثم تسجدُ فتقولها عشرًا، ثم ترفعُ رأسك فتقولها عشرًا، ثم تسجدُ الثانيةَ فتقولها عشرًا، ثم ترفعُ رأسك فتقولها عشرًا، تصلي أربع ركعاتٍ على هذا، فذلك خمسٌ وسبعون تسبيحةً في كل ركعة (1) ، وذلك تمامُ الثلاث مئة، فإن صلّاها ليلًا فأحَبُّ إليَّ أن يُسلِّم في الركعتين، فإن صلى نهارًا فإن شاء سلَّم، وإن شاء لم يسلِّم (2) . رواة هذا الحديث عن ابن المبارك كلهم ثقات أثبات، ولا يُتَّهم عبد الله أن يعلِّمَه ما لم يصحَّ عنده سندُه.
ابوہب محمد بن مزاحم بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک سے اس نماز (صلاۃ التسویح) کے بارے میں پوچھا جس میں تسبیحات پڑھی جاتی ہیں، تو انہوں نے فرمایا: تم تکبیر کہو، پھر کہو: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» پھر پندرہ مرتبہ یہ کہو: «سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ» پھر تعوذ پڑھ کر سورہ فاتحہ اور کوئی سورت تلاوت کرو، پھر (رکوع سے پہلے) دس مرتبہ یہ تسبیحات کہو، پھر رکوع میں دس بار، پھر رکوع سے سر اٹھا کر دس بار، پھر سجدے میں دس بار، پھر سجدے سے سر اٹھا کر (جلسہ میں) دس بار، پھر دوسرے سجدے میں دس بار، اور پھر سجدے سے سر اٹھا کر (بیٹھ کر) دس بار کہو، اس طرح چار رکعتیں پڑھو، تو ہر رکعت میں پچھتر تسبیحات ہوں گی، اس طرح یہ کل تین سو بن جائیں گی، اگر تم یہ نماز رات کو پڑھو تو میرے نزدیک زیادہ بہتر یہ ہے کہ دو رکعتوں پر سلام پھیر دو، اور اگر دن کو پڑھو تو تمہاری مرضی ہے چاہے سلام پھیرو یا نہ پھیرو۔
اس حدیث کو ابن مبارک سے روایت کرنے والے تمام راوی ثقہ اور مستند ہیں، اور عبداللہ بن مبارک پر یہ تہمت نہیں لگائی جا سکتی کہ وہ ایسی چیز کی تعلیم دیں گے جس کی سند ان کے نزدیک صحیح نہ ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ/حدیث: 1212]
تخریج الحدیث: «عبد الكريم بن عبد الله السكري لم نقع له على ترجمة، لكن روى عنه جمع، ولم يؤثر توثيقه عن غير المصنف، وروى له ابن حبان في "صحيحه" مما يخرجه عن حيِّز الجهالة، وهو متابع، تابعه أحمد بن عبدة الآملي شيخ الترمذي، كما مرَّ في التعليق السابق-» [ترقيم الرساله 1212] [ترقيم الشركة 1201]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں