المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
28. الرَّمَلُ بِالْجِنَازَةِ
جنازے کے ساتھ تیز قدم چلنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1327
وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أخبرنا إسماعيل بن قُتَيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا هُشَيم، أخبرنا عُيَينة بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن أبي بَكْرة قال: لقد رأيتُنا مع رسول الله ﷺ وإنَّا لَنَكادُ أن نَرْمُلَ بالجِنازةِ رَمَلًا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وشاهده بإسناد صحيح عن عبد الله بن جعفر الطيّار:
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وشاهده بإسناد صحيح عن عبد الله بن جعفر الطيّار:
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے خود کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیکھا ہے کہ ہم جنازے کو لے کر (تیزی کے ساتھ) قریب قریب دوڑنے والے انداز میں چلتے تھے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ سیدنا عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ سے اس کی شاہد حدیث صحیح سند کے ساتھ مروی ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1327]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ سیدنا عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ سے اس کی شاہد حدیث صحیح سند کے ساتھ مروی ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1327]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو بكر بن إسحاق، اسمه أحمد، ويحيى بن يحيى: هو النيسابوري.» [ترقيم الرساله 1327] [ترقيم الشركة 1315]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1328
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني ابن أبي الزِّناد، عن أبيه قال: كنتُ جالسًا مع عبد الله بن جعفر بن أبي طالب بالبَقِيع، فأُطلِعَ علينا بجِنازة، فأقبلَ علينا ابن جعفر، فتعجَّبَ من إبطاء مَشْيِهم بها، فقال: عَجَبًا لما تغيَّر من حال الناس، والله إن كان إِلَّا الجَمْز، وإن كان الرجلُ ليُلاحِي الرجل فيقول: يا عبدَ الله اتق الله، لكأنه قد جُمِزَ بك، متعجبًا لإبطاء مَشْيِهم" (1) .
ابن ابی زناد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں بقیع میں سیدنا عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک جنازہ ہمارے سامنے سے گزرا، ابن جعفر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور لوگوں کے جنازہ لے کر چلنے کی سست رفتاری پر حیرت کا اظہار کیا اور فرمایا: ”لوگوں کے حال کی تبدیلی پر تعجب ہے، اللہ کی قسم! (عہدِ نبوی میں) جنازہ لے کر تیز رفتاری «جَمْز» کے ساتھ ہی چلا جاتا تھا، یہاں تک کہ ایک شخص دوسرے سے تکرار کرتے ہوئے کہتا تھا: اے اللہ کے بندے! اللہ سے ڈر، ایسا لگتا ہے جیسے تجھے جنازہ لے کر دوڑایا جا رہا ہو، وہ لوگوں کے سست چلنے پر تعجب کر رہے تھے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1328]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل ابن أبي الزناد، واسمه عبد الرحمن. وأبوه أبو الزناد: هو عبد الله بن ذكوان، والربيع بن سليمان: هو المرادي المؤذن.» [ترقيم الرساله 1328] [ترقيم الشركة 1316]
الحكم على الحديث: إسناده حسن