المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
29. الْمَاشِي أَمَامَ الْجِنَازَةِ وَالرَّاكِبُ خَلْفَهَا
جنازے کے آگے پیدل چلنے والا اور پیچھے سوار ہونے والا۔
حدیث نمبر: 1329
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكْرَم، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا سعيد بن عبيد الله الثَّقَفي، حدثنا زياد بن جُبَير بن حَيَّة، عن أبيه جُبَير بن حَيَّة، عن المغيرة بن شُعبة قال: قال رسول الله ﷺ:"الماشي أمامَ الجِنازة، والراكبُ خَلْفَها، والطفلُ يُصلَّى عليه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پیدل چلنے والا جنازے کے آگے چلے اور سوار اس کے پیچھے چلے، اور فوت شدہ بچے کی بھی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1329]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1329]
حدیث نمبر: 1330
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر عن يحيى بن أبي كَثير، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن، عن ثَوْبان: أنَّ النبي ﷺ شَيَّع جنازةً، فأُتي بدابّةٍ، فأبى أن يركبَها، فلمَّا انصرف أُتي بدابّةٍ فركبها، فقيل له، فقال:"إنَّ الملائكةَ كانت تمشي، فلم أكن لأركَبَ وهم يمشون، فلمَا ذهبوا - أو قال: عَرَجوا - رَكِبتُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد بلفظٍ أشفَى من هذا:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد بلفظٍ أشفَى من هذا:
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے کے ساتھ تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری لائی گئی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سوار ہونے سے انکار کر دیا، پھر جب جنازے سے فارغ ہو کر واپس لوٹنے لگے تو سواری لائی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک فرشتے پیدل چل رہے تھے، تو میرے لیے یہ مناسب نہ تھا کہ وہ پیدل چلیں اور میں سوار ہو جاؤں، پھر جب وہ چلے گئے - یا فرمایا: اوپر چڑھ گئے - تو میں سوار ہو گیا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک ایسی شاہد حدیث بھی موجود ہے جس کے الفاظ زیادہ واضح ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1330]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک ایسی شاہد حدیث بھی موجود ہے جس کے الفاظ زیادہ واضح ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1330]
حدیث نمبر: 1331
أخبرَناه أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي وأبو نَصْر محمد بن أحمد الخَفَّاف، قالا: حدثنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عيسى بن يونس، عن أبي بَكْر بن أبي مريم، عن راشد بن سَعْد، عن ثَوْبَانَ قَالَ: خَرَجَ رسول الله ﷺ في جِنازةٍ فرأى ناسًا رُكْبانًا، فقال:"ألا تَسْتَحيُون؟! إنَّ ملائكةَ الله على أقدامِهِم وأنتم على ظُهور الدوابِّ!" (1) .
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو سوار دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں شرم نہیں آتی؟ اللہ کے فرشتے تو پیدل چل رہے ہیں اور تم جانوروں کی پیٹھ پر سوار ہو!“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1331]