🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

32. كَانَ إِذَا رَأَى جِنَازَةً قَامَ حَتَّى يَمُرَّ بِهَا
رسولُ اللہ ﷺ جب جنازہ دیکھتے تو اس کے گزر جانے تک کھڑے رہتے تھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1334
أخبرني أبو أحمد بن أبي الحسن الدَّارِمي، حدثنا محمد بن سليمان بن فارس، حدثنا محمد بن رافع، حدثنا ابن أبي فُدَيك، أخبرنا ابن أبي ذِئب، عن ابن شِهَاب، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ كان إذا مرَّتْ به جنازةٌ وَقَفَ حتى تمُرَّ به (1) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وليس هذا متنَ حديث ابن عمر عن عامر بن رَبِيعة، فإِنَّ ذلك المتنَ في تَشْييعِ الجنازة، وهذا في القيام للجنازة، على كثرة اختلاف الروايات فيه.
سیدنا سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے جب کوئی جنازہ گزرتا تو جب تک وہ گزرتا رہتا آپ کھڑے رہتے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی عامر بن ربیعہ سے روایت کی گئی حدیث کا متن یہ نہیں ہے۔ کیونکہ وہ متن جنازہ کے ہمراہ چلنے کے متعلق ہے اور یہ جنازہ کیلئے قیام کا ہے اور اس میں روایات کا بہت زیادہ اختلاف ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1334]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1335
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب بن أحمد بن مِهْران الزَّاهد، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا يحيى بن أيوب المَقابِريّ الزَّاهد وأبو مُصعَب أحمد بنُ أبي بكر قالا: حدثنا إسماعيل بن جعفر، حدثنا العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه: أنه شَهِدَ جنازةً صلَّى عليها مروان بن الحَكَم، فذهب أبو هريرة مع مروان حتى جَلَسا في المَقبُرة، فجاء أبو سعيد الخُدري، فقال لمروان: أرِني يدَكَ، فأعطاه يدَه، فقال: قُمْ، فقام، ثم قال مروان: لمَ أقمتَني؟ فقال: كان رسول الله ﷺ إذا رأى جنازةً قام حتى يُمَرَّ بها ويقول:"إنَّ الموتَ فَزَعٌ"، فقال مروان: أصَدَقَ يا أبا هريرة؟ قال: نعم، قال: فما مَنَعَك أن تُخبِرَني؟ قال: كنتَ إمامًا فجلستَ فجلستُ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
سیدنا علاء بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان روایت کرتے ہیں: وہ ایک ایسے جنازے میں شریک ہوئے جس کی نماز مروان بن حکم نے پڑھائی تھی پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروان کے ہمراہ قبرستان میں آ کر بیٹھ گئے۔ ان کے پاس ابوسعید خدری آئے اور مروان سے کہنے لگے: اپنا ہاتھ مجھے دیجیے: مروان نے اپنا ہاتھ ابوسعید کے ہاتھ میں دیا، تو ابوسعید (ان کا ہاتھ پکڑ کر بولے) اٹھیے! تو مروان کھڑا ہو گیا۔ پھر مروان نے پوچھا: آپ نے مجھے کیوں اٹھایا ہے؟ تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بولے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی جنازہ دیکھتے تو کھڑے ہو جاتے (اور) جب تک جنازہ گزر نہیں جاتا تھا (اس وقت تک آپ کھڑے رہتے تھے) مروان نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا یہ سچ کہہ رہے ہیں؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں۔ مروان نے کہا: آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ میرے امام ہیں، آپ بیٹھے تو میں بھی بیٹھ گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1335]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1336
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرُو، حدثنا أبو بكر محمد بن عيسى الطَّرَسُوسي، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حدثنا سعيد بن أبي أيوب، حدثني رَبِيعةُ بن سَيف المَعافِري، عن أبي عبد الرحمن الحُبُلي، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، أنه قال: سأل رجلٌ رسول الله ﷺ، فقال: يا رسول الله، تمرُّ بنا جنازةُ الكافر، فنقومُ لها؟ قال:"نَعَم، قُوموا لها، فإنكم لستُم تقومونَ لها، إنما تقومونَ إعظامًا للذي يَقبِضُ النفوسَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر ہمارے قریب سے کفار کا جنازہ گزرے تو کیا ہمیں کھڑے ہونا چاہیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ اس کے لیے بھی کھڑے ہوں، کیونکہ تمہارا کھڑا ہونا، اس کافر کی میت کے لیے نہیں بلکہ ان ملائکہ کے احترام کے لیے ہو گا جنہوں نے اس کی روح قبض کی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1336]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1337
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيَّاري، حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا أبو عمّار، حدثني النَّضْر بن شُمَيل، حدثنا حمَاد بن سَلَمة، عن قتادة، عن أنس بن مالك: أنَّ جنازةَ يهوديٍّ مرَّتْ برسول الله ﷺ، فقام، فقالوا: يا رسول الله، إنها جنازة يهوديٍّ، فقال:"إنَّما قمتُ للملائكة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، غيرَ أنهما قد اتَّفقا على إخراج حديث عُبيد الله بن مِقْسَم عن جابر في القيام لجنازةِ اليهودي (2) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک یہودی کا جنازہ گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تو یہودی کا جنازہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو ملائکہ کے احترام میں کھڑا ہوا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان لفظوں کے ہمراہ نقل نہیں کیا، تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے عبیداللہ بن مقسم کی جابر سے یہودی کے جنازے کے لیے قیام کے متعلقہ روایت کردہ حدیث نقل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1337]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1338
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا سُرَيج بن النُّعمان، حدثنا فُلَيح بن سليمان، عن سعيد بن عُبيد بن السَّبَّاق، عن أبي سعيد الخُدْري قال: كنا مَقْدَمَ النبيِّ ﷺ إذا حُضِر منا الميتُ آذَنَّا النبيَّ ﷺ، فحَضَرَه، واستغفر له، حتى إذا قدَّمنا (3) انصَرَفَ النبيُّ ﷺ ومَن معه، وربما قَعَدوا حتى يُدفَنَ، وربما طال حَبْسُ ذلك على نبيِّ الله ﷺ، فلمّا خَشِينا مشقةَ ذلك عليه، قال بعض القوم لبعض: لو كنَّا لا نُؤذِنُ النبيَّ ﷺ بأحدٍ حتى يُقبَضَ، فإذا قُبِض آذنَّاه، فلم يكن في ذلك مشقةٌ ولا حَبْس، فكنا نُؤذِنُه بالميت بعد أن يموت، فيأتيه فيُصلِّي عليه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نمائندے ہوا کرتے تھے۔ چنانچہ جب کسی کا آخری وقت آتا تو ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کرتے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا کر اس کے لیے دعائے مغفرت فرماتے اور جب ہم لوگ وہاں پہنچتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جو لوگ آپ کے ہمراہ ہوتے وہ واپس آ رہے ہوتے تھے۔ کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تدفین تک وہیں رکے رہتے اور کئی مرتبہ (آپ کو جانکنی کے انتظار میں) بہت دیر تک وہاں رکنا پڑتا، ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مشقت کا بہت احساس ہوا، ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہمیں کسی کی روح قض ہونے سے پہلے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں بلانا چاہیے، بلکہ جب روح قبض ہو جائے تب آپ کو بلایا جائے، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشقت نہیں ہو گی۔ اور انتظار بھی نہیں کرنا پڑے گا (اس کے بعد ہم نے یہی طریقہ اپنا لیا کہ) ہم کسی کے فوت ہو جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلاتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا کر نماز جنازہ پڑھا دیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1338]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1339
حدثنا علي بن عيسى، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا ابن أبي عمر، حدثنا سفيانُ قال: ابن عَجْلان أخبرنا، أنه سَمِع سعيد بن أبي سعيد يقول: صلَّى ابن عباس على جنازةٍ، فَجَهَرَ بـ ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ﴾، ثم قال: إِنما جَهَرْتُ لِتَعلَمُوا أنها سُنة (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم. وقد أجمعوا على أنَّ قول الصحابي: سُنَّة، حديثُ مُسنَد (3) . وله شاهدٌ بإسنادٍ صحيح أخرجه البخاري:
سیدنا سعید ابن ابی سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک جنازہ پڑھایا، اس میں بلند آواز سے سورہ فاتحہ پڑھی۔ پھر (جنازہ سے فارغ ہو کر) فرمایا: میں نے بلند آواز سے سورہ فاتحہ اس لیے پڑھی ہے تاکہ تمہیں پتہ چل جائے کہ یہ سنت ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور اس بات پر اجماع ہے کہ صحابی کا قول سنت ہے، حدیث ہے مسند ہے۔ ٭٭ اس حدیث کی ایک سند صحیح کے ہمراہ مشاہد حدیث بھی موجود ہے جس کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کیا ہے (شاہد حدیث درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1339]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں