🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

38. فَضِيلَةُ ثَلَاثَةِ صُفُوفٍ فِي صَلَاةِ الْجِنَازَةِ
نمازِ جنازہ میں تین صفیں قائم ہونے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1356
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الخُزاعي بمكة، حدثنا عبد الله بن أحمد بن أبي مَسَرّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئُ، حدثنا سعيد بن أبي أيوب، عن شُرَحْبيل بن شَرِيكَ المَعافِري، عن عُلَيِّ بن رباح اللَّخْمي، عن أبي رافع قال: قال رسول الله ﷺ:"من غَسّل ميّتًا فكَتَم عليه، غُفِر له أربعين مرةً، ومن كفَّن ميتًا، كَسَاه الله من سُندسِ وإسْتَبرقِ الجنة، ومن حَفَر لميتٍ قبرًا وأَجنَّه فيه، أُجريَ له من الأجر كأجرِ مَسْكَنٍ سَكَّنه إلى يوم القيامة" (1) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص میت کو غسل دے اور اس کے عیوب کو چھپائے، اس کی چالیس مرتبہ مغفرت کر دی جاتی ہے۔ اور جو کسی میت کو کفن پہنائے، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کا ریشمی لباس پہنائے گا اور جو شخص کسی میت کے لیے قبر کھودے اور اس کو دفنائے تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت تک اس شخص کے برابر ثواب دے گا، جس نے مکان بنا کر کسی (ضرورت مند) کو اس میں ٹھہرایا ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1356]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1357
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون حدثنا محمد بن إسحاق. وأخبرنا يحيى بن منصور القاضي، حدثنا محمد بن محمد بن رجاء بن السِّنْدي، حدثنا يعقوب بن إبراهيم، حدثنا إسماعيل ابن عُلَيّة، عن محمد بن إسحاق، عن يزيد بن أبي حَبِيب، عن مَرْثَد بن عبد الله اليَزَني، عن مالك بن هُبَيرة - وكانت له صحبة - قال: كان إذا أُتي بجنازةٍ ليُصلِّي عليها، فتقالَّ أهلَها، جزّأَهم صفوفًا ثلاثة، فصلَّى بهم عليها، ويقول: إنَّ رسول الله ﷺ قال:"ما صَفَّ صفوفٌ ثلاثةٌ من المسلمين على جنازةٍ، إلَّا أَوجَبَته". هذا لفظ حديث ابن عُلَيّة، وفي حديث المحبوبي:"إلّا غُفِر له" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا مالک بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ صحابی رسول ہیں، ان کو جب نماز جنازہ پڑھانے کے لیے بلایا جاتا تو جنازہ پڑھنے والوں کو کہتے: تین صفیں بنا لیں اور وہ لوگوں کو نماز جنازہ پڑھا دیتے اور پھر کہتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس جنازے پر مسلمانوں کی تین صفیں بن جائیں، وہ جنتی ہے۔ ٭٭ حدیث کے یہ مذخورہ الفاظ ابن علیہ کی روایت سے ہیں جبکہ محبوبی کی روایت میں ( الا او جبتہ کے الفاظ کی بجائے) الاغفرلہ کے الفاظ ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1357]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1358
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا محمد بن سعيد الأصبهاني، حدثنا شَرِيك، عن عبد الله بن عيسى بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن عبد الله بن جَبْر (1) ، عن أنس بن مالكٍ، قال: كان غلامٌ يهوديٌّ يَخدُمُ النبي ﷺ، فمَرِض فعاده، وقال:"قل: أشهدُ أن لا إله إلّا الله وأنكَ رسول الله" فنظر الغلامُ إلى أبيه فقال: قل ما يقولُ لك محمد. قال: فلمَّا مات، قال رسول الله ﷺ:"صَلُّوا على أخيكُم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک یہودی کا بچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، ایک مرتبہ وہ بیمار ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور فرمایا: تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ (اور میرے متعلق کہو) کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ لڑکے نے اپنے والد کی طرف دیکھا تو اس نے کہا (بیٹا) محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ کہتے ہیں: تم وہ پڑھ لو (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: جب وہ لڑکا فوت ہو گیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا) اپنے بھائی کی نماز جنازہ پڑھو۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1358]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1359
أخبرنا أحمد بن سَلْمان بن الحسن الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكْرَم، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا سعيد بن عبيد الله بن جُبَير بن حَيَّة، حدثني عمِّي زياد بن جُبَير بن حيَّة، حدثني أبي جُبَير بن حيَّة الثقفي، أنه سَمِع المغيرة بن شعبةَ يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"الراكبُ خلفَ الجنازةِ، والماشي قريبًا منها، والطفل يُصلَّى عليه (3) . رواه يونس بن عُبيد عن زياد بن جُبَير:
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سوار جنازے کے پیچھے چلے اور پیدل چلنے والا جنازے کے قریب رہے اور بچے کی نماز جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔ ٭٭ یہی حدیث یونس بن عبید نے زیاد بن جبیر کے حوالے سے نقل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1359]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1360
أخبرَناه علي بن حمشاذَ العَدْل، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن بشار، حدثنا أبو همَّام محمد بن الزِّبْرِقان، حدثنا يونس بن عُبيد، عن زياد بن جُبَير بن حيَّة، عن أبيه، عن المغيرة بن شعبة - قال يونس: وحدثني بعضُ أهله أنه رَفَعَه إلى النبي ﷺ قال: الراكبُ يَسيرُ خلفَ الجنازةِ، والماشي عن يَمينِها وشِمالِها قريبًا (1) ، والسِّقْط يُصلَّى عليه ويُدعَى لوالديه بالعافيةِ والرَّحمة (2) . قال إبراهيم بن أبي طالب في عَقِب هذا الحديث: قولُ (3) يُونُس بن عُبيد:"وحدثني بعضُ أهله أنه رَفَعه إلى النبي ﷺ" روايةٌ ليونُسَ بن عُبيد عن سعيد بن عُبيدِ الله بن جُبير بن حَيَّة.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، فقد احتجَّ في"الصحيح" بحديث المعتمِر، عن سعيد بن عُبيد الله، عن زياد بن جُبَير، عن جُبَير بن حيَّة، عن المغيرة، الحديث الطويل (4) . وشاهد هذه الأحاديث حديثُ إسماعيل بن مُسلِم المكي عن أبي الزُّبير:
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوار جنازے کے پیچھے چلے، پیدل چلنے والے جنازے کے قریب، اس کے دائیں بائیں چلیں اور ناتمام بچے کی بھی نماز جنازہ پڑھی جائے اور اس کی نماز جنازہ میں اس کے ماں باپ کے لیے رحمت اور عافیت کی دعا مانگی جائے۔ ٭٭ ابراہیم بن ابی طالب نے یہ حدیث نقل کرنے کے بعد یونس بن عبید کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ یونس بن عبید کی سعید بن عبیداللہ بن جبیر بن حیہ سے جو روایت ہے وہ آپ کی ایک زوجہ محترمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کی ہے۔ یہ حدیث امام بخاری کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں مغیرہ کے حوالے سے وہ طویل حدیث ذکر کی ہے۔ جس کی سند معتمر بن سعید بن عبیداللہ پھر زیاد بن جبیر سے ہوتی ہوئی جبیر بن حیہ کے واسطے سے ان تک پہنچتی ہے۔ اور ان احادیث کی شاہد بھی ایک حدیث موجود ہے جو کہ اسماعیل بن مسلم مکی نے ابوزبیر سے روایت کی ہے (شاہد حدیث درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1360]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں